ایران اور امریکا کے درمیان ایک بار پھر کشیدگی بڑھ گئی ہے، جہاں دونوں ممالک نے ایک دوسرے کے خلاف عسکری کارروائیاں کی ہیں، جس کے بعد یہ سوال اٹھنے لگا ہے کہ آیا دونوں ملک کسی پائیدار امن معاہدے پر عملدرآمد کر سکیں گے۔
گزشتہ ہفتے دونوں ممالک نے سوئزرلینڈ کے مقام برگن اسٹاک میں پاکستان اور قطر کی ثالثی میں عارضی مفاہمتی فریم ورک کے تحت 60 روز کے اندر مستقل معاہدے تک پہنچنے کے لیے مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق کیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا ایران ڈیل: ’تاریخ رقم ہوگئی، پاکستان کی شاندار سفارتکاری نے دنیا کو حیران کردیا‘
مگر امریکا کے جانب سے حالیہ فضائی حملوں کے بعد یہ نقطہ اٹھ رہا ہے کہ کیا امریکا واقعی مذاکرات چاہتا ہے؟
حملوں میں اضافہ ہوا تو خطرات بڑھ سکتے ہیں، مسعود خالد
اس حوالے سے بات کرتے ہوئے سابق سفارت کار مسعود خالد نے کہاکہ جنگ بندی کے بعد اس نوعیت کی محدود جھڑپیں یا کشیدگی کے واقعات غیر معمولی نہیں ہوتے اور اکثر ایسے حالات میں پیش آتے رہتے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ اگر ان واقعات کی شدت یا تعداد میں مسلسل اضافہ ہونے لگے تو یہ جنگ بندی کے مستقبل اور مذاکراتی عمل، دونوں کے لیے خطرے کی گھنٹی ثابت ہو سکتا ہے۔
ان کے مطابق موجودہ صورتحال میں امریکا اور ایران دونوں اس بات سے آگاہ ہیں کہ ایک نئی اور طویل فوجی محاذ آرائی نہ صرف خطے بلکہ عالمی استحکام کے لیے بھی نقصان دہ ہوگی۔ یہی وجہ ہے کہ اختلافات اور باہمی بداعتمادی کے باوجود دونوں ممالک مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔
مسعود خالد نے کہاکہ سفارتی مذاکرات کبھی بھی سیدھی لکیر میں آگے نہیں بڑھتے، ان میں سخت بیانات، وقتی تعطل، دباؤ ڈالنے کی کوششیں اور کشیدگی کے لمحات معمول کا حصہ ہوتے ہیں، تاہم اگر دونوں فریق مذاکرات کا دروازہ کھلا رکھیں اور سیاسی عزم برقرار رہے تو موجودہ تعطل کے باوجود کسی قابلِ قبول سمجھوتے تک پہنچنے کے امکانات موجود ہیں۔
واشنگٹن ایران پر دباؤ بڑھانا چاہتا ہے، فیضان ریاض
اسلام آباد پالیسی ریسرچ انسٹیٹیوٹ کے اسسٹنٹ ریسرچ ایسوسی ایٹ فیضان ریاض کے مطابق امریکا کی موجودہ حکمت عملی کو محدود فوجی دباؤ کے ذریعے سفارتی مقاصد حاصل کرنے کی کوشش قرار دیا جا سکتا ہے۔
ان کے بقول واشنگٹن فی الحال مکمل جنگ کے بجائے محدود فوجی کارروائیوں کو ایران پر دباو بڑھانے کے لیے استعمال کررہا ہے، تاکہ مذاکرات کی میز پر نسبتاً مضبوط پوزیشن حاصل کی جا سکے۔
فیضان ریاض کا کہنا ہے کہ حالیہ فضائی حملے کا مقصد صرف عسکری طاقت کا مظاہرہ نہیں بلکہ تہران کو یہ پیغام دینا بھی ہے کہ اگر وہ امریکی مطالبات، خصوصاً یورینیم افزودگی، خطے میں ایران سے منسلک گروہوں کی سرگرمیوں اور میزائل پروگرام پر لچک نہیں دکھاتا تو اس کی قیمت مزید بڑھ سکتی ہے۔
ان کے مطابق یہ حکمتِ عملی بین الاقوامی تعلقات میں محدود کشیدگی پیدا کرکے بعد ازاں مذاکرات کی راہ ہموار کرنے کی ایک معروف سفارتی تکنیک سے مطابقت رکھتی ہے۔ تاہم اس پالیسی کی اصل نوعیت کا اندازہ آئندہ اقدامات سے ہوگا۔
’اگر فوجی کارروائیوں کے بعد بغیر کسی پیشگی شرط کے بامعنی مذاکرات کا سلسلہ آگے بڑھتا ہے تو اسے امن کی جانب سنجیدہ پیش رفت سمجھا جا سکتا ہے، لیکن اگر دباؤ برقرار رکھا گیا اور سفارتی راستے محدود کردیے گئے تو اس سے یہ تاثر مضبوط ہوگا کہ امریکا کا اصل مقصد مذاکرات نہیں بلکہ اپنی برتری قائم کرنا ہے۔‘
دونوں جانب مکمل جنگ سے گریز کا رجحان موجود ہے، آصف درانی
سابق سفیر آصف درانی کے مطابق موجودہ صورتحال میں کشیدگی اور وقفے وقفے سے سامنے آنے والے واقعات کا سلسلہ فی الحال جاری رہ سکتا ہے۔
مزید پڑھیں: امریکا ایران مذاکرات میں اہم پیشرفت، 60 روز میں حتمی امن معاہدے پر اتفاق
ان کا کہنا ہے کہ اس مرحلے پر فریقین کے درمیان اعتماد کی کمی اور زمینی حقائق ایسے ہیں کہ چھپ چھپ کر حملوں اور ردعمل جیسی کیفیت کچھ وقت تک برقرار رہ سکتی ہے۔
تاہم ان کے مطابق اس کے باوجود دونوں جانب مکمل جنگ سے گریز کا رجحان موجود ہے، اور بالآخر معاملات کو مذاکراتی عمل کے ذریعے آگے بڑھانے کی کوشش کی جائے گی۔














