انگلینڈ کرکٹ ٹیم کے مایہ ناز اور جارح مزاج آل راؤنڈر بین اسٹوکس نے انگلینڈ کی ٹیسٹ ٹیم کی کپتانی سمیت تمام طرز کی بین الاقوامی کرکٹ سے اچانک ریٹائرمنٹ کا اعلان کر کے دنیا بھر کے شائقین کو حیران کر دیا ہے۔
انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ (ای سی بی) نے اتوار کو باضابطہ بیان جاری کرتے ہوئے اس سنسنی خیز فیصلے کی تصدیق کر دی ہے، جس کے بعد انگلش کرکٹ کا ایک سنہرا باب اپنے اختتام کو پہنچ رہا ہے۔
آخری ٹیسٹ میچ اور شائقین کا کھڑے ہو کر خراجِ تحسین
برطانوی میڈیا کے مطابق 35 سالہ اسٹار آل راؤنڈر بین اسٹوکس نیوزی لینڈ کے خلاف ناٹنگھم کے تاریخی میدان ٹرینٹ برج میں جاری تیسرے اور فیصلہ کن ٹیسٹ میچ کے اختتام پر اپنے شاندار بین الاقوامی کیریئر کو ہمیشہ کے لیے خیرباد کہہ دیں گے۔
یہ بھی پڑھیں:پاکستان کیخلاف دوسرے ٹیسٹ کے لیے انگلینڈ ٹیم کا اعلان، کپتان بین اسٹوکس کی واپسی
ان کے ریٹائرمنٹ کے اچانک اعلان کے بعد ٹرینٹ برج میں موجود ہزاروں شائقین نے کھڑے ہو کر زبردست تالیاں بجائیں اور اپنے ہیرو کو الوداعی خراجِ تحسین پیش کیا۔
الوداعی وکٹ کے ساتھ میچ یادگار بن گیا
جذباتی لمحات کے دوران بین اسٹوکس نے میدان میں اپنی بے مثال مقابلہ بازی کا ایک بار پھر ثبوت دیا اور شائقین کی تالیوں کی گونج کے کچھ ہی دیر بعد نیوزی لینڈ کے بیٹر زیک فولکس کو آؤٹ کر دیا۔
اس وکٹ کے ساتھ ہی انہوں نے اپنے کیریئر کے اس الوداعی اور آخری میچ کو تاریخ کے صفحات میں ہمیشہ کے لیے یادگار بنا دیا ہے۔
ٹیم میں واپسی اور ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کا تنازع
واضح رہے کہ بین اسٹوکس ناٹنگھم ٹیسٹ میں انگلینڈ کی ٹیم میں واپسی کر رہے تھے، کیونکہ انہیں دوسرے ٹیسٹ میچ کے اسکواڈ سے ڈراپ کر دیا گیا تھا۔
وہ اور ان کے ساتھی فاسٹ بولر گس اٹکنسن پہلے ٹیسٹ میں تاریخی کامیابی کے بعد لندن کے ایک نائٹ کلب میں جشن مناتے پائے گئے تھے۔
ٹیم کے مقررہ وقت کے بعد ہوٹل واپس آنے پر دونوں کھلاڑیوں کو ضابطہ اخلاق کی سنگین خلاف ورزی کا مرتکب قرار دیتے ہوئے سزا کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
اپنے دور کے عظیم ترین کرکٹر، ای سی بی کا خراجِ تحسین
ای سی بی کے چیئرمین رچرڈ تھامسن نے بین اسٹوکس کے کیریئر کو سنہری الفاظ میں سراہتے ہوئے کہا کہ وہ انگلینڈ کی تاریخ کے عظیم ترین کرکٹرز میں شمار ہوتے ہیں۔
مزید پڑھیں:’پاکستانی ٹیم کی شرٹ کیوں پہنی؟‘، بھارت انگلینڈ ٹیسٹ میچ میں تماشائی کو باہر نکال دیا گیا
انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ ’بین اسٹوکس بین الاقوامی کرکٹ کو انگلینڈ کے عظیم ترین کھلاڑیوں میں سے ایک اور اپنی نسل کے نمایاں ترین کرکٹر کے طور پر خیرباد کہہ رہے ہیں۔‘
ناقابل فراموش یادیں اور انگلش کرکٹ پر انمٹ نقوش
رچرڈ تھامسن نے مزید کہا کہ دباؤ کے انتہائی کٹھن لمحات میں اسٹوکس کی غیرمعمولی کارکردگی، بے مثال جذبہ اور اہم مواقع پر جرات مندانہ کھیل نے دنیا بھر کے لاکھوں شائقین کو ایسی یادیں دی ہیں جو ہمیشہ زندہ رہیں گی۔
انہوں نے یاد دلایا کہ اسٹوکس نے 2019 کے ون ڈے اور 2022 کے ٹی20 ورلڈ کپ میں انگلینڈ کو عالمی چیمپیئن بنانے، ہیڈنگلے میں تاریخی ایشز اننگز کھیلنے اور بطور ٹیسٹ کپتان جرات مندانہ قیادت کے ذریعے انگلش کرکٹ پر ایسے انمٹ نقوش چھوڑے ہیں جنہیں کبھی مٹایا نہیں جا سکے گا۔
ایک شاندار کیریئر کا اختتام
بین اسٹوکس ایک ایسے لازوال بین الاقوامی کیریئر کے بعد کرکٹ کو الوداع کہہ رہے ہیں، جس میں انہوں نے اپنی جارحانہ آل راؤنڈ کارکردگی، نڈر قیادت اور ہارے ہوئے میچوں کو جیت میں بدلنے کے منفرد فن کے ذریعے کرکٹ کی تاریخ میں اپنا نام ہمیشہ کے لیے امر کر لیا ہے۔














