190 ملین پاؤنڈ کیس: عمران خان اور بشریٰ بی بی کی سزا معطلی کے لیے سپریم کورٹ میں اپیل دائر

پیر 29 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

190 ملین پاؤنڈ کیس میں بانی پی ٹی آئی عمران خان اور بشریٰ بی بی نے سزا معطلی اور رہائی کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کرتے ہوئے اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کو چیلنج کر دیا ہے۔

سپریم کورٹ میں دائر اپیلوں میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے سزا معطلی کی درخواستیں مسترد کرتے ہوئے نیب کی جانب سے اختیار کیے گئے تاخیری حربوں کو نظر انداز کیا۔

حالانکہ استغاثہ کی جانب سے بار بار التوا لینے کے باعث کارروائی غیر ضروری طور پر طول پکڑتی رہی اور انصاف کی فراہمی میں تاخیر ہوئی۔

یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد ہائیکورٹ: 190 ملین پاؤنڈ کیس کے جج کی ڈیپوٹیشن چیلنج، فیصلہ محفوظ

درخواست گزاروں نے مؤقف اپنایا کہ جیل حکام نے وکالت ناموں پر دستخط کرانے میں بھی جان بوجھ کر تاخیر کی، جبکہ سزا معطلی کی درخواستوں کو بھی بلاجواز مؤخر کیا جاتا رہا۔

اپیل میں کہا گیا ہے کہ سزا معطلی کی درخواست مسترد کرنا انصاف کے تقاضوں کے منافی تھا اور عدالت نے درخواست کو قابل سماعت قرار دینے کے باوجود مقدمے کے اہم قانونی نکات اور شواہد کا ابتدائی جائزہ لیے بغیر فیصلہ سنا دیا۔

اپیل میں بانی پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق بھی خدشات ظاہر کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ عمران خان اپنی دائیں آنکھ کی 85 فیصد بینائی کھو چکے ہیں، جبکہ دورانِ قید بشریٰ بی بی کی آنکھ کا آپریشن کیا گیا لیکن اہل خانہ یا وکلا کو اس سے متعلق مطلع تک نہیں کیا گیا۔

مزید پڑھیں: اسلام آباد ہائیکورٹ: 190 ملین پاؤنڈ کیس کے جج کی ڈیپوٹیشن چیلنج، فیصلہ محفوظ

درخواست کے مطابق بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کو اڈیالہ جیل میں غیر قانونی طور پر قیدِ تنہائی میں رکھا گیا، جس کے باعث انہیں شدید ذہنی اذیت کا سامنا کرنا پڑا۔

اپیل میں کہا گیا ہے کہ سنگین صحت کے مسائل کے باوجود سزا معطل نہ کرنا ناانصافی ہے۔

درخواست گزاروں نے مؤقف اختیار کیا کہ ٹرائل کے دوران انہیں ضمانت مل چکی تھی اور الزامات کو بے بنیاد قرار دیا گیا تھا، جبکہ گرفتاری کا طریقۂ کار بھی غیر قانونی اور غیر ذمہ دارانہ تھا، جس پر ایک اعلیٰ عدالت پہلے ہی رہائی کا حکم دے چکی تھی۔

مزید پڑھیں: 190 ملین پاؤنڈ کیس: عمران خان نے سزا معطلی کی درخواست پر جلد سماعت کی استدعا کردی

اپیل میں مزید کہا گیا ہے کہ احتساب کے نام پر سیاسی بنیادوں پر کارروائی کی گئی اور منصفانہ سماعت کے بنیادی اصولوں سے انحراف کیا گیا۔

اپیل میں یہ نکتہ بھی اٹھایا گیا ہے کہ نیب قانون میں حالیہ ترمیم کے تحت حتمی اپیل آئینی عدالت میں دائر کرنے کا اختیار دیا گیا ہے، تاہم ضمانت یا سزا معطلی سے متعلق اپیلوں کو آئینی عدالت میں دائر کرنے کی کوئی صریح شق موجود نہیں، لہٰذا موجودہ اپیلیں سپریم کورٹ ہی میں قابلِ سماعت ہیں۔

درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی سزا معطل کی جائے اور ان کی رہائی کے احکامات جاری کیے جائیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp