گلگت بلتستان حکومت سازی: وزیراعلیٰ کی حلف برداری ملتوی، کابینہ کب بنے گی؟

پیر 29 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

نو منتخب وزیراعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین ایڈووکیٹ کی یکم جولائی کو ہونے والی حلف برداری ملتوی کر دی گئی ہے جبکہ نئی تاریخ کا اعلان بھی نہیں کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: گلگت بلتستان میں پیپلز پارٹی کی حکومت کو کن چیلنجز کا سامنا ہوگا؟

پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) گلگت بلتستان نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ حلف برداری کی تقریب جو یکم جولائی 2026 کو ہونی تھی اب ملتوی کر دی گئی ہے۔

میڈیا کو جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ حلف برداری کی تقریب میں چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور دیگر مرکزی رہنما شریک ہوں گے تاہم بلاول بھٹو زرداری کی مصروفیات کے باعث تقریب ملتوی کی گئی ہے۔

پی پی پی کے مطابق پارٹی چیئرمین ایران کے سپریم لیڈر کی آخری رسومات میں شرکت کے لیے جا رہے ہیں جس کے باعث وہ حلف برداری کی تقریب میں شرکت نہیں کر سکتے تھے۔

پی پی پی نے تاحال حلف برداری کی نئی تاریخ کا اعلان نہیں کیا تاہم بتایا ہے کہ چیئرمین کی مصروفیات کو مدنظر رکھتے ہوئے نئی تاریخ کا اعلان کیا جائے گا۔

 مزید پڑھیے: گلگت بلتستان حکومت سے شہریوں کی کیا امیدیں ہیں؟

واضح رہے کہ گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی کے 22 جون کو ہونے والے اجلاس میں پی پی پی کے امجد حسین ایڈووکیٹ بلا مقابلہ وزیراعلیٰ منتخب ہوئے تھے۔ قانون ساز اسمبلی میں پی پی پی سب سے بڑی جماعت بن کر ابھری ہے جبکہ استحکام پاکستان پارٹی (آئی پی پی) اس کی اتحادی جماعت ہے جس کی 4 نشستیں ہیں۔

کابینہ کب بنے گی اور کون کون شامل ہوں گے؟

حلف برداری میں تاخیر کے باعث گلگت بلتستان میں حکومت سازی کا عمل بھی تاخیر کا شکار ہو گیا ہے۔

پی پی پی ذرائع کے مطابق حلف برداری کے بعد کابینہ تشکیل دی جائے گی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ کابینہ کے حوالے سے مشاورت تاحال جاری ہے تاہم پی پی پی نے استحکام پاکستان پارٹی کے 4 ارکان کو کابینہ میں شامل کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔

ذرائع کے مطابق آئی پی پی کے دو ارکان کو وزارتیں اور 2 کو مشیر مقرر کیا جائے گا جبکہ ایک کوآرڈینیٹر کا عہدہ بھی دیا جائے گا۔

مزید پڑھیں: مسلم لیگ ن سے تعلق رکھنے والے حافظ حفیظ الرحمان گلگت بلتستان اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر مقرر

ذرائع کا کہنا ہے کہ کابینہ میں پی پی پی کے بیشتر منتخب ارکان شامل ہوں گے جبکہ خواتین کو بھی مناسب نمائندگی دی جائے گی۔

اہم محکموں کے لیے کوششیں

ذرائع کے مطابق پی پی پی کے نو منتخب ارکان نے کابینہ میں شمولیت اور اہم وزارتوں کے حصول کے لیے کوششیں تیز کر دی ہیں۔ بعض اہم ارکان کو پہلے ہی کابینہ میں شامل کیے جانے کی یقین دہانی کرائی جا چکی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ گلگت بلتستان میں حکومت سازی ایک پیچیدہ مرحلہ ہوتا ہے، جہاں کابینہ کی تشکیل میں علاقائی نمائندگی کو خاص اہمیت دی جاتی ہے۔ ان کے مطابق نئی کابینہ میں تمام اضلاع سے ارکان کو شامل کیا جائے گا۔

ذرائع نے بتایا کہ گلگت بلتستان کے گورنر سید مہدی شاہ کے صاحبزادے کے کابینہ میں شامل ہونے کے امکانات ہیں جبکہ نوجوان نو منتخب رکن سید جلال علی شاہ بھی مضبوط امیدواروں میں شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: گلگت بلتستان کے نومنتخب وزیراعلیٰ امجد حسین ایڈووکیٹ کون ہیں؟

گلگت بلتستان کے صحافی ذاکر بلتستانی کا کہنا ہے کہ حلف برداری کے بعد ہی کابینہ کی تشکیل عمل میں آئے گی۔ ان کے مطابق کابینہ کے حوالے سے مشاورت تقریباً مکمل ہو چکی ہے اور اتحادی جماعت آئی پی پی کو بھی 4 محکمے دینے کی یقین دہانی کرا دی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ کابینہ میں ہر ضلع کو نمائندگی دی جائے گی اور نوجوان منتخب ارکان کو ترجیح ملنے کا امکان ہے۔

پی پی پی کے ایک رہنما نے بتایا کہ کابینہ کی تشکیل پر سب مطمئن ہوں گے۔

مزید پڑھیں: مل کر گلگت بلتستان کی ترقی کے لیے کام کریں گے، نو منتخب اراکین اسمبلی

انہوں نے کہا کہ یہ 14 رکنی کابینہ ہوگی جس میں اکثریت کو نمائندگی مل جائے گی اس لیے کسی کو شکایت نہیں ہوگی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp