امریکی خلائی ادارے ناسا نے اپنے پرانے مگر اہم خلائی دوربین سوئفٹ اسپیس ٹیلی اسکوپ کو زمین کے ماحول میں جل کر تباہ ہونے سے بچانے کے لیے ایک منفرد روبوٹک ریسکیو مشن شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے، تاہم خراب موسمی حالات کے باعث راکٹ کی لانچ مؤخر کردی گئی ہے۔
ناسا کے مطابق امریکی اسٹارٹ اپ کیٹالسٹ کی تیار کردہ روبوٹک خلائی گاڑی لنک کو منگل کے روز بحرالکاہل کے ایک جزیرے سے پیگاسس راکٹ کے ذریعے روانہ کیا جانا تھا، لیکن ناموافق موسم کے باعث لانچ ملتوی کردی گئی۔ اب اگلی کوشش یکم جولائی کو کی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں: ناسا اپنی دیوہیکل خلائی دوربین کو بچانے کے لیے کوشاں، امریکی اسٹارٹ اپ کمپنی سے مدد لے لی
یہ راکٹ روایتی لانچ پیڈ سے نہیں بلکہ ایک طیارے سے فضا میں چھوڑا جائے گا، جہاں سے وہ خلا کی جانب سفر شروع کرے گا۔
ناسا کی ماہر فلکیات ریجینا کیپوٹو نے کہا کہ اس مشن کا ہر مرحلہ غیر معمولی ہے۔ روبوٹ کو پہلے خلا میں سوئفٹ دوربین کا سراغ لگانا ہوگا، پھر اس کے گرد گھومتے ہوئے اپنے تین متحرک بازوؤں کی مدد سے اسے پکڑنا ہوگا۔
منصوبے کے مطابق روبوٹ کم از کم ایک ماہ کے دوران دوربین کو موجودہ مدار سے تقریباً 300 کلومیٹر بلند اور زیادہ محفوظ مدار میں منتقل کرے گا تاکہ وہ زمین کے ماحول میں داخل ہو کر تباہ نہ ہو۔
ناسا کے شعبۂ فلکیات کے ڈائریکٹر شان ڈوماگل گولڈمین نے کہا کہ اس مشن میں کئی ایسے اقدامات پہلی بار آزمائے جا رہے ہیں، تاہم وہ خوش ہیں کہ ادارہ اس تجربے کی کوشش کررہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ناسا کی بڑٖی کامیابی، غیر متوقع سیارچے پر قدیم پانی کے شواہد دریافت
سوئفٹ خلائی دوربین 2004 میں لانچ کی گئی تھی اور اسے ابتدا میں صرف 2 سال کے مشن کے لیے تیار کیا گیا تھا، تاہم یہ اب بھی فعال ہے اور گاما شعاعوں کے طاقتور دھماکوں سمیت کائنات کے انتہائی طاقتور واقعات کا مشاہدہ کررہی ہے۔
ناسا کے مطابق دوربین زمین سے تقریباً 600 کلومیٹر کی بلندی پر کم مدار میں گردش کررہی ہے، لیکن شمسی سرگرمیوں کے باعث زمین کی فضائی تہہ پھیلنے سے اس کا مدار آہستہ آہستہ نیچے آ رہا ہے، جس کے نتیجے میں اس کے زمین کے ماحول میں داخل ہوکر جل جانے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔
ناسا کا کہنا ہے کہ اگر سوئفٹ دوربین تباہ ہو گئی تو اسے فوری طور پر تبدیل کرنا ممکن نہیں ہوگا، کیونکہ یہ سائنسی تحقیق میں اب بھی انتہائی اہم کردار ادا کررہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ناسا کی خلائی دوربین کا ایک پرزہ خراب، مشاہدات وقتی طور پر معطل
اس ریسکیو مشن پر تقریباً 30 ملین ڈالر لاگت آئے گی، جبکہ سوئفٹ دوربین کی تیاری پر 250 ملین ڈالر خرچ ہوئے تھے۔
ناسا اور کیٹالسٹ کمپنی کا کہنا ہے کہ اگر یہ مشن کامیاب رہا تو مستقبل میں ایسے سیٹلائٹس کو بھی ایندھن فراہم کرنے، ان کا مدار تبدیل کرنے، مرمت کرنے اور اپ گریڈ کرنے کی راہ ہموار ہو سکتی ہے، جنہیں ابتدا میں ان مقاصد کے لیے تیار نہیں کیا گیا تھا۔














