روس نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان جاری سرحدی کشیدگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے دونوں ممالک پرتمام متنازع امور سیاسی اور سفارتی ذرائع سے حل کرنے پر زور دیا ہے۔
روسی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ماسکو پاکستان اور افغانستان کے درمیان جاری فوجی محاذ آرائی پر گہری تشویش رکھتا ہے، جس کا سب سے زیادہ نقصان عام شہریوں کو پہنچ رہا ہے۔
بیان میں 29 جون کی شب افغانستان کے مشرقی صوبوں پکتیا، پکتیکا اور کنڑ میں ہونے والے پاکستانی فضائی حملوں کا بھی حوالہ دیا گیا، جنہیں روس نے ایک ’افسوسناک واقعہ‘ قرار دیا۔
یہ بھی پڑھیں: افغانستان سے ابھرنے والے دہشتگردی کے خطرات پر پاکستان اور روس میں اہم مشاورت
اقوام متحدہ کے مطابق ان حملوں میں کم از کم 28 افراد جاں بحق، جن میں بچے بھی شامل تھے، جبکہ تقریباً 50 افراد زخمی ہوئے۔
روسی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ روسی فریق اسلام آباد اور کابل پر زور دیتا ہے کہ وہ مسلح تصادم ختم کریں اور تمام متنازع معاملات کو سیاسی اور سفارتی ذرائع سے حل کریں۔
دوسری جانب پاکستان کا مؤقف ہے کہ افغانستان کی سرزمین پر موجود دہشت گرد عناصر پاکستان میں حملوں کی منصوبہ بندی کرتے ہیں، جبکہ افغان طالبان ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ عسکریت پسندی پاکستان کا داخلی مسئلہ ہے۔
مزید پڑھیں: روس کا افغانستان اور پاکستان سے جھڑپیں روکنے کا مطالبہ، ثالثی کی پیشکش
ادھر پاک فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق افغان طالبان حکومت نے 30 جون کو بلوچستان کی سرحد پر 4 ڈرونز بھیجے تھے، جنہیں پاکستان کے فضائی دفاعی نظام نے بروقت نشاندہی کے بعد کامیابی سے مار گرایا۔
آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی فورسز نے اعلیٰ پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے دشمن کے تمام مذموم عزائم ناکام بنا دیے۔













