وزیراعظم نے اسلام آباد کے ون کانسٹیٹیوشن ایونیو سے متعلق قانونی اور انتظامی معاملات کی تحقیقات کے لیے اعلیٰ سطح کی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) تشکیل دے دی ہے۔ کابینہ ڈویژن اور وزیر قانون کی سربراہی میں قائم کمیٹی کی سفارشات کی روشنی میں وزیراعظم آفس نے جے آئی ٹی کے قیام کا باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا، جبکہ ٹیم کو 60 روز کے اندر اپنی رپورٹ وزیراعظم کو پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
اسلام آباد کے ون کانسٹیٹیوشن ایونیو سے متعلق قانونی اور انتظامی معاملات کی تحقیقات کے لیے وزیراعظم نے اعلیٰ سطح کی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) تشکیل دے دی ہے۔
ون کانسٹیٹیوشن ایونیو اسلام آباد معاملے پر وزیر اعظم کا بڑا فیصلہ
وزیراعظم نے نیب کی سربراہی میں مشترکہ تحقیقاتی ٹیم شکیل دے دی
وزیراعظم آفس نے جے آئی ٹی کی تشکیل کا نوٹیفکیشن جاری کردیا۔
جے آئی ٹی میں گریڈ 21 یا اس سے اوپر کے اعلیٰ افسران شامل ہوں گے۔
نیب کے گریڈ 21 کے افسر… pic.twitter.com/QWmi3kIg1O— Siddeeq Sajid (@S_SajidOfficial) July 1, 2026
وزیراعظم آفس کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق یہ فیصلہ کابینہ ڈویژن کی سفارشات اور وزیر قانون کی سربراہی میں قائم کمیٹی کی سفارشات کی روشنی میں کیا گیا۔ وزیراعظم نے کمیٹی کی سفارشات سے اتفاق کرتے ہوئے جے آئی ٹی کے قیام کی حتمی منظوری دی۔
نوٹیفکیشن کے مطابق جے آئی ٹی گریڈ 21 یا اس سے اوپر کے سینیئر افسران پر مشتمل ہوگی، جبکہ نیشنل اکاؤنٹیبلٹی بیورو (نیب) کے گریڈ 21 کے ایک افسر کو جے آئی ٹی کا کنوینر مقرر کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ون کانسٹیٹیوشن ایوینو کیس: اسلام آباد ہائیکورٹ نے سی ڈی اے کو رہائشیوں کے خلاف کارروائی سے روک دیا
تحقیقاتی ٹیم میں وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے)، سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی)، فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر)، انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) اور انٹیلی جنس بیورو (آئی بی) کے نمائندے بھی شامل ہوں گے۔
نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ جے آئی ٹی ون کانسٹیٹیوشن ایونیو سے متعلق قانونی اور انتظامی امور کا باریک بینی سے جائزہ لے گی اور کمیٹی کی رپورٹ میں درج ٹرمز آف ریفرنس (ToRs) کے مطابق اپنی تحقیقات مکمل کرے گی۔
وزیراعظم نے جے آئی ٹی کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنی تحقیقات مکمل کر کے 60 روز کے اندر رپورٹ وزیراعظم آفس میں جمع کرائے۔

وزیراعظم آفس نے نیشنل اکاؤنٹیبلٹی بیورو کو جے آئی ٹی کی تشکیل کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کرنے اور تحقیقاتی ٹیم کو ضروری سیکرٹریل معاونت فراہم کرنے کی بھی ہدایت کی ہے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق وفاقی حکومت کے تمام ڈویژنز، وزارتیں، محکمے اور متعلقہ ادارے جے آئی ٹی کو اس کے ٹرمز آف ریفرنس کے مطابق تحقیقات مکمل کرنے کے لیے ہر ممکن تعاون، مطلوبہ ریکارڈ اور ضروری معاونت فراہم کرنے کے پابند ہوں گے۔
دستاویز کے مطابق جے آئی ٹی کی تشکیل کا مقصد ون کانسٹیٹیوشن ایونیو سے متعلق قانونی اور انتظامی معاملات کا جامع جائزہ لے کر ذمہ داریوں کا تعین کرنا اور اپنی سفارشات وزیراعظم کو پیش کرنا ہے۔














