ٹیوشن سینٹر حادثہ، معلمہ نے غفلت کے الزامات مسترد کردیے

بدھ 1 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

لاہور کے علاقے کاہنہ میں ٹیوشن سینٹر کی چھت گرنے کے افسوسناک واقعے کے بعد زخمی ہونے والی معلمہ نے کہا ہے کہ یہ سب اللہ کی قدرت سے ہوا، وہ کسی کو اس کا ذمہ دار نہیں ٹھہراتیں۔

میڈیا سے گفتگو میں معلمہ نے بتایا کہ وہ خود بھی ملبے تلے دب گئی تھیں جبکہ ان کی اپنی بیٹی، بھتیجی اور دیگر بچے بھی وہاں موجود تھے، لیکن معلوم نہیں کہ ان کی حالت  کیسی ہے، ان کی بیٹی بھی زخمی ہوئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: لاہور: کاہنہ میں ٹیوشن سینٹر کی چھت گرنے کا واقعہ، 14 بچے جاں بحق، مالک مکان زیر حراست

چھت کی تعمیر سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ یہ تاثر درست نہیں کہ چھت پر کوئی تعمیراتی کام نہیں ہورہا تھا۔ ان کے مطابق چھت کی مرمت اور تعمیر کرائی گئی تھی، تاہم مالی وسائل محدود ہونے کے باعث مکمل ازسرنو تعمیر ممکن نہیں تھی۔

انہوں نے بتایا کہ ان کے مالی حالات اچھے نہیں۔ وہ خود محنت مزدوری کرتی ہیں جبکہ ان کے شوہر گھر کے قریب فروٹ فروٹ کی ریڑھی لگاتے ہیں، وزیراعلیٰ نے ان کو ریڑھی نہیں دی وہ خود ریڑھی لگاتے ہیں، اور روزانہ 200 سے 400 روپے تک کماتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپنے گھر کا نظام خود چلاتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: یہ ننھے پھول قوم کا مستقبل تھے، نواز شریف کا ٹیوشن سینٹر سانحہ میں 14 بچوں کی موت پر اظہار رنج و غم

معلمہ کا کہنا تھا کہ اگر گھر میں کسی قسم کا کام جاری ہو یا بجلی نہ ہو تو وہ بچوں کو چھٹی دے دیتی ہیں، کیونکہ وہ بچوں کی حفاظت کو اولین ترجیح دیتی ہیں اور بچوں کو اپنے بچے سمجھتی ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ گھر کی چھت بن چکی تھی اور اس روز کوئی اضافی تعمیراتی کام نہیں ہو رہا تھا۔ ان کے بقول یہ واقعہ اچانک پیش آیا، وہ خود بھی ملبے تلے دب گئیں، اس لیے انہیں معلوم نہیں کہ یہ حادثہ کس طرح رونما ہوا اور بچے کیسے ملبے تلے آگئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: پنڈی بھٹیاں میں ٹیوشن سینٹر کی چھت گرنے سے 5 بچوں سمیت 7 افراد جاں بحق

یاد رہے کہ لاہور کے علاقے کاہنہ میں منگل کی شام قریباً ساڑھے 4 بجے ایک المناک سانحہ پیش آیا، جہاں ایک رہائشی عمارت میں قائم غیر رجسٹرڈ نجی ٹیوشن سینٹر کی چھت اچانک گر گئی۔ اس حادثے میں 14 معصوم بچے ملبے تلے دب کر جاں بحق ہوگئے۔

واقعے کے وقت کلاس میں 30 سے زائد بچے موجود تھے۔ بچوں کی عمریں 5 سے 16 سال کے درمیان بتائی گئی ہیں، جن میں زیادہ تر 9 سال سے کم عمر تھے۔ ایک خاتون استاد سمیت متعدد بچے زخمی ہوئے، جنہیں فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

نام نہاد بلوچ یکجہتی کمیٹی کا اصل چہرہ بے نقاب، ماہرنگ لانگو کے والد کی قبر پر بی ایل اے کا پرچم لہرا دیا گیا

سام سنگ نے نئے فولڈ ایبل فون کی جھلک دکھا دی، ڈیزائن میں بڑی تبدیلی

سال 2026 کے 6 ماہ: ٹیکنالوجی شعبہ عالمی اسٹاک مارکیٹ میں نمایاں، امریکا اس میدان میں پیچھے رہ گیا

مون سون کے دوران خطرات سے بچاؤ کے لیے جامع روڈ میپ کے تحت اقدامات کیے جائیں، وزیراعظم شہباز شریف

سپریم کورٹ: خواتین کے حقِ وراثت سے متعلق تاریخی فیصلہ، 71 سال بعد 2 بہنوں کا آبائی جائیداد میں حصہ بحال

ویڈیو

امریکا، ایران مذاکرات کا اگلا دور آج دوحہ میں، آبنائے ہرمز میں جہاز رانی بحال کرنا اولین ہدف

فٹبال ورلڈ کپ: سعودی آرامکو کی انعامی مہم، جانیے تحائف کی تفصیل

سندھ طاس معاہدہ: پانی، امن اور مستقبل کی کہانی

کالم / تجزیہ

عالمی ریکارڈ کا حامل پاکستانی ڈاک ٹکٹ

تحریک انصاف اور محمود اچکزئی: ارادے کیا ہیں؟

جس کے ذکر سے پہلے پلکیں اشکوں سے وضو کرتی ہیں