لاہور کے علاقے کاہنہ میں ٹیوشن سینٹر کی چھت گرنے کے افسوسناک واقعے کے بعد زخمی ہونے والی معلمہ نے کہا ہے کہ یہ سب اللہ کی قدرت سے ہوا، وہ کسی کو اس کا ذمہ دار نہیں ٹھہراتیں۔
میڈیا سے گفتگو میں معلمہ نے بتایا کہ وہ خود بھی ملبے تلے دب گئی تھیں جبکہ ان کی اپنی بیٹی، بھتیجی اور دیگر بچے بھی وہاں موجود تھے، لیکن معلوم نہیں کہ ان کی حالت کیسی ہے، ان کی بیٹی بھی زخمی ہوئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور: کاہنہ میں ٹیوشن سینٹر کی چھت گرنے کا واقعہ، 14 بچے جاں بحق، مالک مکان زیر حراست
چھت کی تعمیر سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ یہ تاثر درست نہیں کہ چھت پر کوئی تعمیراتی کام نہیں ہورہا تھا۔ ان کے مطابق چھت کی مرمت اور تعمیر کرائی گئی تھی، تاہم مالی وسائل محدود ہونے کے باعث مکمل ازسرنو تعمیر ممکن نہیں تھی۔
انہوں نے بتایا کہ ان کے مالی حالات اچھے نہیں۔ وہ خود محنت مزدوری کرتی ہیں جبکہ ان کے شوہر گھر کے قریب فروٹ فروٹ کی ریڑھی لگاتے ہیں، وزیراعلیٰ نے ان کو ریڑھی نہیں دی وہ خود ریڑھی لگاتے ہیں، اور روزانہ 200 سے 400 روپے تک کماتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپنے گھر کا نظام خود چلاتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: یہ ننھے پھول قوم کا مستقبل تھے، نواز شریف کا ٹیوشن سینٹر سانحہ میں 14 بچوں کی موت پر اظہار رنج و غم
معلمہ کا کہنا تھا کہ اگر گھر میں کسی قسم کا کام جاری ہو یا بجلی نہ ہو تو وہ بچوں کو چھٹی دے دیتی ہیں، کیونکہ وہ بچوں کی حفاظت کو اولین ترجیح دیتی ہیں اور بچوں کو اپنے بچے سمجھتی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ گھر کی چھت بن چکی تھی اور اس روز کوئی اضافی تعمیراتی کام نہیں ہو رہا تھا۔ ان کے بقول یہ واقعہ اچانک پیش آیا، وہ خود بھی ملبے تلے دب گئیں، اس لیے انہیں معلوم نہیں کہ یہ حادثہ کس طرح رونما ہوا اور بچے کیسے ملبے تلے آگئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پنڈی بھٹیاں میں ٹیوشن سینٹر کی چھت گرنے سے 5 بچوں سمیت 7 افراد جاں بحق
یاد رہے کہ لاہور کے علاقے کاہنہ میں منگل کی شام قریباً ساڑھے 4 بجے ایک المناک سانحہ پیش آیا، جہاں ایک رہائشی عمارت میں قائم غیر رجسٹرڈ نجی ٹیوشن سینٹر کی چھت اچانک گر گئی۔ اس حادثے میں 14 معصوم بچے ملبے تلے دب کر جاں بحق ہوگئے۔
واقعے کے وقت کلاس میں 30 سے زائد بچے موجود تھے۔ بچوں کی عمریں 5 سے 16 سال کے درمیان بتائی گئی ہیں، جن میں زیادہ تر 9 سال سے کم عمر تھے۔ ایک خاتون استاد سمیت متعدد بچے زخمی ہوئے، جنہیں فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا۔













