امریکا، ایران مذاکرات کا اگلا دور آج دوحہ میں، آبنائے ہرمز میں جہاز رانی بحال کرنا اولین ہدف

بدھ 1 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکا اور ایران کے درمیان عبوری معاہدے کے بعد آبنائے ہرمز میں تجارتی جہاز رانی کی مکمل بحالی کو مذاکرات کا اہم ترین ہدف قرار دیا جا رہا ہے۔ ایران اور امریکا کے معاہدے پر آج قطر کی ثالثی میں دوحہ میں مزید بات چیت ہوگی، جبکہ چین نے دونوں ممالک پر معاہدے پر عمل درآمد کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ دوسری جانب غزہ، لبنان اور آبنائے ہرمز سے متعلق بھی اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔

سیکیورٹی امور کے ماہر اور آسٹریا کے سابق دفاعی اتاشی وولف گینگ پسٹائی نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والے معاہدے کا سب سے اہم نتیجہ آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کی آمدورفت کی مکمل بحالی ہونا چاہیے۔

انہوں نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز میں آزادانہ جہاز رانی صرف خلیجی ممالک ہی نہیں بلکہ پوری عالمی معیشت کے لیے انتہائی اہمیت رکھتی ہے۔ ان کے مطابق موجودہ صورتحال ایران کے لیے بھی فائدہ مند ہے کیونکہ وہ تیل برآمد کر رہا ہے، جس سے اس کے مالی ذخائر میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جتنا طویل یہ صورتحال برقرار رہے گی، ایران کو اتنا ہی زیادہ مالی فائدہ پہنچے گا۔

چین نے بھی امریکا اور ایران پر زور دیا ہے کہ وہ عبوری معاہدے پر مکمل عمل درآمد کریں تاکہ مذاکرات کے اگلے مرحلے کی راہ ہموار ہو سکے۔ چینی وزیر خارجہ وانگ یی نے کہا کہ اس وقت ترجیح عبوری معاہدے کا تحفظ، مذاکرات کی رفتار برقرار رکھنا اور ایسا دیرپا حل تلاش کرنا ہے جو نہ صرف امریکا اور ایران بلکہ مشرق وسطیٰ کے ممالک اور عالمی برادری کے لیے بھی قابل قبول ہو۔

یہ بھی پڑھیں:’اسلام آباد ایم او یو‘ کیا امن کا عارضی وقفہ ہے، آبنائے ہرمز کا معاملہ سب سے زیادہ اہمیت کیوں اختیار کر گیا ہے؟

ایک حالیہ تجزیاتی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آبنائے ہرمز کے بحران کے تناظر میں چین ایشیا میں سب سے زیادہ فائدہ اٹھانے والا ملک بن کر ابھرا ہے، جبکہ ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی جنگ کے نتیجے میں پیدا ہونے والی معاشی اور جغرافیائی سیاسی تبدیلیاں بھی بیجنگ کے حق میں جا رہی ہیں۔

ادھر عمان نے واضح کیا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر محض گزرنے کی فیس عائد کرنے کی حمایت نہیں کرتا، تاہم بحری سلامتی، ماحولیاتی تحفظ اور جہاز رانی سے متعلق خدمات کے عوض الگ فیس پر بات چیت کے لیے تیار ہے۔ عمانی وزیر خارجہ بدر البوسعیدی نے کہا کہ ایسی کسی بھی فیس پر متعلقہ ممالک اور کمپنیوں کی رضامندی سے فیصلہ ہونا چاہیے۔

ادھر ایران کے سرکاری میڈیا نے بتایا ہے کہ ایک غیر ملکی کنٹینر بردار جہاز آبنائے ہرمز میں مقررہ بحری راستے سے ہٹ کر کم گہرے پانی میں داخل ہونے کے باعث پھنس گیا۔ رپورٹ میں ایک بار پھر پاسداران انقلاب کی اس ہدایت کا اعادہ کیا گیا کہ تمام جہاز صرف جزیرہ لارک کے جنوب میں واقع منظور شدہ بحری راستہ استعمال کریں، جو تہران کے مطابق آبنائے ہرمز سے گزرنے کا واحد مجاز راستہ ہے۔

حالیہ دنوں تجارتی جہازوں پر حملوں کے باعث خلیج میں معمول کی بحری سرگرمیوں کی بحالی کی امیدوں کو بھی دھچکا پہنچا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں سے فیس وصول کی تو مذاکرات ختم ہو جائیں گے، ڈونلڈ ٹرمپ

اسی دوران میری ٹائم انٹیلی جنس کمپنی ونڈورڈ نے اپنی تازہ رپورٹ میں کہا ہے کہ آبنائے ہرمز میں بحری ٹریفک تاحال جنگ سے پہلے کی سطح سے کافی کم ہے۔ کمپنی کے مطابق 29 جون تک بحری سرگرمیوں میں بحالی کا عمل رک گیا تھا، جبکہ متعدد پابندیوں کا شکار آئل ٹینکرز بھی آبنائے سے گزرے، جن میں ایک ایرانی جہاز بھی شامل تھا جو مبینہ طور پر جعلی یورپی پرچم استعمال کر رہا تھا۔ رپورٹ کے مطابق فی الحال امریکی معاونت سے قائم جنوبی بحری راہداری ہی محدود اور محفوظ آمدورفت کو برقرار رکھے ہوئے ہے۔

 

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp