ورلڈ بینک نے پاکستان کو قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ کے عمودی اور افقی تقسیم کے فارمولے پر نظرثانی کرتے ہوئے وسائل کی تقسیم آبادی کے بجائے صوبوں کی مالی ضروریات اور آمدنی پیدا کرنے کی صلاحیت کی بنیاد پر کرنے کی سفارش کی ہے۔ ادارے نے وفاقی و صوبائی مالیاتی نظام، ٹیکس ڈھانچے اور مقامی حکومتوں کو مضبوط بنانے کے لیے بھی متعدد تجاویز پیش کی ہیں۔
ورلڈ بینک نے پاکستان پر زور دیا ہے کہ وہ قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ کے موجودہ فارمولے پر نظرثانی کرے اور وسائل کی تقسیم کے لیے مالی مساوات کا نظام اپنائے، تاکہ صوبوں کو ان کی اخراجاتی ضروریات اور متوقع آمدنی کی صلاحیت کے مطابق وسائل فراہم کیے جا سکیں۔
WBsays only two largest provinces allocated Rs806 billion in grants for Centre, recommending that Pakistan review NFC formula to permanently address fiscal imbalances, including deductions from provincial shares for seven national public goods serviceshttps://t.co/Krppi1h4ka
— Dr. Ikramul Haq (@DrIkramulHaq) July 2, 2026
میڈیا رپورٹس کے مطابق ورلڈ بینک نے ’پاکستان میں مالیاتی وفاقیت کو مضبوط بنانے‘ کے عنوان سے اپنی رپورٹ جاری کرتے ہوئے سفارش کی ہے کہ وسائل کی تقسیم میں آبادی کو بنیادی معیار بنانے کے بجائے غربت، پسماندگی، مالی ضروریات اور صوبوں کی آمدنی پیدا کرنے کی صلاحیت کو زیادہ اہمیت دی جائے۔
رپورٹ کے مطابق جنرل سیلز ٹیکس (جی ایس ٹی) کا موجودہ بکھرا ہوا نظام کاروباری سرگرمیوں اور محصولات کی وصولی میں رکاوٹ بن رہا ہے، اس لیے اشیا اور خدمات پر جی ایس ٹی کی وصولی کے لیے ایک متحدہ نظام متعارف کرایا جائے، جس کے بعد حاصل ہونے والی رقم متفقہ فارمولے کے تحت صوبوں میں تقسیم کی جائے۔ اس مقصد کے لیے قانون سازی کی ضرورت ہوگی۔
یہ بھی پڑھیں:صوبوں کی مشاورت سے این ایف سی ایوارڈ میں تبدیلی کی جائےگی، رانا ثنااللہ
ورلڈ بینک نے نشاندہی کی کہ اٹھارویں آئینی ترمیم کے بعد وفاقی حکومت کی مالی ذمہ داریاں کم نہیں ہوئیں، جبکہ وسائل کا بڑا حصہ صوبوں کو منتقل ہونے سے وفاق کو ساختی مالی خسارے کا سامنا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ وفاقی مالی وسائل اور اس کی ذمہ داریوں میں عدم توازن قومی قرضوں اور بجٹ خسارے میں اضافے کی ایک بڑی وجہ بن چکا ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ صوبے اپنی ٹیکس وصولی کی صلاحیت سے پوری طرح فائدہ نہیں اٹھا رہے۔ زرعی آمدنی پر ٹیکس اور جائیداد سے متعلق محصولات اب بھی بہت کم وصول کیے جا رہے ہیں، جبکہ مقامی حکومتیں مالی طور پر کمزور اور صوبائی حکومتوں پر انحصار کرتی ہیں۔

ورلڈ بینک نے سفارش کی کہ تعلیم، صحت، ماحولیات، محصولات میں اضافے، گورننس اور مقامی حکومتوں کی کارکردگی کو قابلِ پیمائش اہداف سے مشروط مالی معاونت کے ساتھ منسلک کیا جائے، جبکہ وفاق اور صوبے ٹیکس نظام میں ہم آہنگی پیدا کرکے مالیاتی وفاقیت کو مزید مؤثر بنائیں۔













