ورلڈ بینک کی پاکستان کو این ایف سی ایوارڈ کے فارمولے پر نظرثانی کی تجویز

جمعرات 2 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ورلڈ بینک نے پاکستان کو قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ کے عمودی اور افقی تقسیم کے فارمولے پر نظرثانی کرتے ہوئے وسائل کی تقسیم آبادی کے بجائے صوبوں کی مالی ضروریات اور آمدنی پیدا کرنے کی صلاحیت کی بنیاد پر کرنے کی سفارش کی ہے۔ ادارے نے وفاقی و صوبائی مالیاتی نظام، ٹیکس ڈھانچے اور مقامی حکومتوں کو مضبوط بنانے کے لیے بھی متعدد تجاویز پیش کی ہیں۔

ورلڈ بینک نے پاکستان پر زور دیا ہے کہ وہ قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ کے موجودہ فارمولے پر نظرثانی کرے اور وسائل کی تقسیم کے لیے مالی مساوات کا نظام اپنائے، تاکہ صوبوں کو ان کی اخراجاتی ضروریات اور متوقع آمدنی کی صلاحیت کے مطابق وسائل فراہم کیے جا سکیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق ورلڈ بینک نے ’پاکستان میں مالیاتی وفاقیت کو مضبوط بنانے‘ کے عنوان سے اپنی رپورٹ جاری کرتے ہوئے سفارش کی ہے کہ وسائل کی تقسیم میں آبادی کو بنیادی معیار بنانے کے بجائے غربت، پسماندگی، مالی ضروریات اور صوبوں کی آمدنی پیدا کرنے کی صلاحیت کو زیادہ اہمیت دی جائے۔

رپورٹ کے مطابق جنرل سیلز ٹیکس (جی ایس ٹی) کا موجودہ بکھرا ہوا نظام کاروباری سرگرمیوں اور محصولات کی وصولی میں رکاوٹ بن رہا ہے، اس لیے اشیا اور خدمات پر جی ایس ٹی کی وصولی کے لیے ایک متحدہ نظام متعارف کرایا جائے، جس کے بعد حاصل ہونے والی رقم متفقہ فارمولے کے تحت صوبوں میں تقسیم کی جائے۔ اس مقصد کے لیے قانون سازی کی ضرورت ہوگی۔

یہ بھی پڑھیں:صوبوں کی مشاورت سے این ایف سی ایوارڈ میں تبدیلی کی جائےگی، رانا ثنااللہ

ورلڈ بینک نے نشاندہی کی کہ اٹھارویں آئینی ترمیم کے بعد وفاقی حکومت کی مالی ذمہ داریاں کم نہیں ہوئیں، جبکہ وسائل کا بڑا حصہ صوبوں کو منتقل ہونے سے وفاق کو ساختی مالی خسارے کا سامنا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ وفاقی مالی وسائل اور اس کی ذمہ داریوں میں عدم توازن قومی قرضوں اور بجٹ خسارے میں اضافے کی ایک بڑی وجہ بن چکا ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ صوبے اپنی ٹیکس وصولی کی صلاحیت سے پوری طرح فائدہ نہیں اٹھا رہے۔ زرعی آمدنی پر ٹیکس اور جائیداد سے متعلق محصولات اب بھی بہت کم وصول کیے جا رہے ہیں، جبکہ مقامی حکومتیں مالی طور پر کمزور اور صوبائی حکومتوں پر انحصار کرتی ہیں۔

ورلڈ بینک نے سفارش کی کہ تعلیم، صحت، ماحولیات، محصولات میں اضافے، گورننس اور مقامی حکومتوں کی کارکردگی کو قابلِ پیمائش اہداف سے مشروط مالی معاونت کے ساتھ منسلک کیا جائے، جبکہ وفاق اور صوبے ٹیکس نظام میں ہم آہنگی پیدا کرکے مالیاتی وفاقیت کو مزید مؤثر بنائیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

مشال خان کو کیسے مرد پسند نہیں، اداکارہ کا نجی زندگی کے بارے میں اہم بیان

نئے صوبوں کے قیام سے متعلق فضل الرحمان کے مؤقف پر ناقدین کی سخت تنقید، ماضی یاد دلا دیا

بنوں میں قاری راشد کے قتل کا الزام پولیس امن کمیٹی پر، لواحقین کا تحقیقات اور کارروائی کا مطالبہ

ہارٹ ٹرانسپلانٹ کا متبادل تیار، چینی سائنسدانوں کا کرشماتی علاج، 90 فیصد ہارٹ فیلیئر مریض صحتیاب

عاطف اسلم کا 18 سال بعد نیا البم ’صبح آئے نہ‘ ریلیز، کراچی میں اسپاٹیفائی کے زیراہتمام جشن

ویڈیو

ہارٹ ٹرانسپلانٹ کا متبادل تیار، چینی سائنسدانوں کا کرشماتی علاج، 90 فیصد ہارٹ فیلیئر مریض صحتیاب

ٹیک ٹائکون زکربرگ نے تاریخی آئرش قلعہ خرید لیا، حقیقت اور قیمت جان کر آپ بھی حیران رہ جائیں گے

چینی روبوٹس نے دوڑ کاعالمی ریکارڈ تو توڑ دیا، لیکن اصل امتحان اب شروع ہوگا!

کالم / تجزیہ

گر آنکھ چھلک پڑے تو …… معاف کرنا

سفید جادو، مثبت اور مددگار

عینی آپا ’آگ کا دریا‘ پار کیوں نہ کرسکیں؟