سانحہ کاہنہ کی تحقیقاتی رپورٹ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کو ارسال کر دی گئی ہے، جس میں ابتدائی طور پر حادثے کی وجوہات، جانی نقصان اور ذمہ داریوں سے متعلق اہم نکات شامل کیے گئے ہیں۔ وزیراعلیٰ کو پیش کی گئی رپورٹ کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے، جبکہ واقعے کے سلسلے میں قانونی کارروائی بھی جاری ہے۔
رپورٹ کے مطابق چھت گرنے کی بنیادی وجہ اس پر ضرورت سے زیادہ ملبہ ڈالنا تھا، جس کے باعث ٹی آئرن اور گارڈر پر مشتمل ڈھانچہ اضافی بوجھ برداشت نہ کر سکا اور منہدم ہو گیا۔ تحقیقاتی ٹیم نے قرار دیا ہے کہ چھت پر بچوں کی موجودگی کے دوران مٹی ڈلوانا واضح غفلت تھی۔
یہ بھی پڑھیں:کاہنہ ٹیوشن سینٹر واقعہ: جاں بحق بچوں کے والدین کیا کہتے ہیں؟
رپورٹ میں ماہرین کی فنی رائے بھی شامل کی گئی ہے، جس کے مطابق کمزور ڈھانچے پر اضافی وزن ڈالنے سے حادثہ پیش آیا۔ رپورٹ کے مطابق چھت گرنے کے وقت ایک خاتون ٹیچر اور 20 بچے اس کے نیچے موجود تھے، جبکہ بچوں کی اموات سر پر شدید چوٹیں لگنے کے باعث ہوئیں۔
تحقیقاتی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اب تک کی تحقیقات میں کسی متعلقہ سرکاری ادارے کے اہلکار کی غفلت سامنے نہیں آئی۔ تاہم واقعے کے بعد مقدمہ درج کر لیا گیا ہے اور گھر کے مالک، اس کے بھائی سمیت پانچ افراد کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:لاہور: کاہنہ میں ٹیوشن سینٹر کی چھت گرنے کا واقعہ، 14 بچے جاں بحق، مالک مکان زیر حراست
رپورٹ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کو ارسال کیے جانے کے بعد اس کے تمام پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لیا جا رہا ہے، جبکہ ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی جاری رکھنے کا عمل بھی آگے بڑھایا جا رہا ہے۔














