صوبوں کی مشاورت سے این ایف سی ایوارڈ میں تبدیلی کی جائےگی، رانا ثنااللہ

منگل 16 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنااللہ نے کہا ہے کہ قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ میں کسی بھی قسم کی تبدیلی تمام صوبوں کے اتفاق رائے سے کی جائےگی، پیپلز پارٹی نے اس معاملے پر اختلافِ رائے کا اظہار کیا تھا، تاہم اس نے کسی قسم کی ضد یا ہٹ دھرمی کا مظاہرہ نہیں کیا۔

نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنااللہ نے کہاکہ مسلم لیگ (ن) کا مؤقف تھا کہ این ایف سی ایوارڈ میں تبدیلی کی ضرورت ہے، تاہم پیپلز پارٹی کی اس حوالے سے مختلف رائے تھی۔

انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کا مؤقف تھا کہ وفاقی حکومت کی ضروریات پوری کرنے کے لیے مرکز کے وسائل میں اضافہ کیا جانا چاہیے۔

رانا ثنااللہ نے واضح کیا کہ پیپلز پارٹی نے اس معاملے پر نہ تو ضد کا مظاہرہ کیا اور نہ ہی ہٹ دھرمی اختیار کی، بلکہ اس نے اپنے سیاسی نقطہ نظر کے مطابق مؤقف پیش کیا۔

پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کو مطمئن رکھنے کی کوشش

وزیراعظم کے مشیر نے کہاکہ حکومت کی ہمیشہ یہ کوشش رہی ہے کہ اتحادی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کو خوش اور مطمئن رکھا جائے۔

انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم پاکستان اور پیپلز پارٹی کے درمیان کراچی کے معاملات، بلدیاتی انتخابات اور آرٹیکل 140 اے کے نفاذ کے حوالے سے اختلافات اور ٹکراؤ کی صورتحال رہتی ہے، تاہم حکومت دونوں جماعتوں کے تحفظات دور کرنے اور انہیں مطمئن رکھنے کی کوشش کرتی ہے۔

فیصل واوڈا کی گفتگو پر تبصرہ

رانا ثنااللہ نے سینیٹر فیصل واوڈا کی سیاسی گفتگو پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ان کی بات چیت اکثر حدود و قیود کے دائرے میں نہیں ہوتی۔

انہوں نے کہا کہ فیصل واوڈا عموماً غیر سنجیدہ انداز میں گفتگو کرتے ہیں، تاہم ان کے ساتھ زیادتی بھی ہوئی۔

رانا ثنااللہ نے انکشاف کیاکہ انہوں نے وزیراعظم سے کہا تھا کہ فیصل واوڈا کو سینیٹ کی نشست دے کر دراصل ٹرخا دیا گیا۔

رانا ثنااللہ نے گلگت بلتستان انتخابات کو شفاف قرار دے دیا

رانا ثنااللہ نے کہاکہ گلگت بلتستان کے انتخابات موجودہ حکومت کا کریڈٹ ہیں اور وزیراعظم نے خصوصی طور پر اس بات کا خیال رکھا کہ وہاں انتخابات مکمل طور پر شفاف اور قابل اعتبار ہوں۔

انہوں نے کہاکہ گلگت بلتستان کے انتخابات قابل اعتماد تھے اور انتخابی عمل کو ہر ممکن حد تک شفاف بنایا گیا۔

دوبارہ گنتی اور ری پولنگ سے شکوک دور ہوئے

انہوں نے بتایا کہ الیکشن کمیشن نے گلگت بلتستان میں بعض امیدواروں کی درخواستوں پر دوبارہ گنتی کا حکم دیا۔

ان کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی کو گلگت بلتستان کے چیف الیکشن کمشنر کے حوالے سے شکوک و شبہات تھے، تاہم الیکشن کمیشن نے دو سے تین حلقوں میں ووٹوں کی دوبارہ گنتی کرائی جبکہ ایک دو مقامات پر ری پولنگ بھی کروائی گئی۔

رانا ثنااللہ نے کہا کہ چیف الیکشن کمشنر نے مکمل میرٹ پر فیصلے کیے، جس کے بعد پیپلز پارٹی کے تحفظات اور شکوک و شبہات دور ہو گئے۔

حکومت نہ بنانے کا فیصلہ نواز شریف کا مؤقف قرار

انہوں نے کہاکہ مسلم لیگ (ن) نے گلگت بلتستان میں 6 نشستوں پر کامیابی حاصل کی جبکہ 2 حمایت یافتہ امیدوار بھی کامیاب ہوئے تھے۔

رانا ثنااللہ نے سوال اٹھایا کہ کیا مسلم لیگ (ن) 5 آزاد امیدواروں کو ساتھ ملا کر حکومت نہیں بنا سکتی تھی؟

انہوں نے کہا کہ پارٹی کے قائد نواز شریف کا ہمیشہ سے یہ مؤقف رہا ہے کہ جس جماعت کے پاس اکثریت ہو، حکومت بنانے کا حق بھی اسی جماعت کو ملنا چاہیے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ آزاد امیدوار اور مسلم لیگ (ن) کے کامیاب امیدوار حکومت نہ بنانے کے فیصلے پر ناراض تھے اور انہوں نے وزیراعظم سے اس حوالے سے گلہ بھی کیا۔

رانا ثنااللہ کے مطابق وزیراعظم نے ناراض امیدواروں کو بتایا کہ یہ فیصلہ پارٹی قائد نواز شریف کی ہدایت کے مطابق کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) نے جمہوری رویے کا مظاہرہ کرتے ہوئے گلگت بلتستان میں پاکستان پیپلز پارٹی کو حکومت بنانے کا موقع دیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp