امریکا میں شدید اسہال اور جسم میں پانی کی خطرناک کمی کا باعث بننے والے ایک خوردبینی طفیلیے کی وبا 17 ریاستوں تک پھیل گئی ہے۔ امریکی محکمہ صحت کے مطابق اب تک 145 کیسز کی تصدیق ہو چکی ہے، جبکہ ماہرین کا کہنا ہے کہ اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے کیونکہ کئی مریضوں میں بیماری کی تشخیص ہی نہیں ہو رہی۔
امریکی سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن (سی ڈی سی) کے مطابق مئی کے آغاز سے اب تک 17 ریاستوں میں اس بیماری کے کیسز سامنے آئے ہیں، جبکہ کم از کم 20 افراد کو اسپتال میں داخل کرنا پڑا ہے۔ تاہم اب تک اس وبا سے کسی ہلاکت کی اطلاع نہیں ملی۔
سی ڈی سی کا کہنا ہے کہ معمول کی لیبارٹری جانچ میں اس بیماری کی تشخیص اکثر ممکن نہیں ہوتی، اس لیے خدشہ ہے کہ متاثرہ افراد کی حقیقی تعداد سرکاری اعداد و شمار سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیے امریکا: نیویارک میں لیجنئیرز ڈیزیز کی وبا پھوٹ پڑی، 5 افراد ہلاک، 108 متاثر
ریاست نیویارک اس وبا سے سب سے زیادہ متاثر ہوئی ہے، جہاں 31 سے 80 افراد میں اس طفیلیے کی تصدیق ہوئی ہے۔ اس کے علاوہ الاسکا، کولوراڈو، کنیکٹیکٹ، فلوریڈا، جارجیا، الینوائے، لوزیانا، میساچوسٹس، نارتھ کیرولائنا، اوہائیو، پنسلوانیا، ٹینیسی، ٹیکساس، ورجینیا اور وسکونسن سمیت دیگر ریاستوں میں بھی کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔
ماہرین کے مطابق اس بیماری کی نمایاں علامت شدید پانی جیسے اسہال ہیں، جبکہ پیٹ پھولنا، گیس، پیٹ میں درد، متلی، قے، تھکن اور بخار بھی اس کی عام علامات میں شامل ہیں۔ بعض افراد میں کوئی علامت ظاہر نہیں ہوتی۔

سی ڈی سی کے مطابق یہ طفیلیہ عموماً انسانی فضلے سے آلودہ خوراک یا پانی کے استعمال سے جسم میں داخل ہوتا ہے، جبکہ علامات عموماً ایک ہفتے بعد ظاہر ہونا شروع ہوتی ہیں۔
اگرچہ اینٹی بایوٹک ادویات سے اس بیماری کا علاج ممکن ہے، تاہم بروقت تشخیص نہ ہونے کی صورت میں یہ انفیکشن ایک ماہ یا اس سے زیادہ عرصے تک برقرار رہ سکتا ہے اور اس دوران بار بار اسہال کی شکایت سامنے آ سکتی ہے۔
یہ خوردبینی طفیلیہ عموماً گوئٹے مالا، پیرو اور نیپال جیسے گرم اور نیم گرم خطوں میں پایا جاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس کے ایک انسان سے دوسرے انسان میں منتقل ہونے کے شواہد موجود نہیں ہیں۔
یہ بھی پڑھیے امریکا نے عالمی وبائی خطرات سے نمٹنے کے منصوبہ مسترد کردیا، دستخط سے انکار
چونکہ حالیہ وبا سے متاثر ہونے والے بیشتر افراد نے حالیہ عرصے میں امریکا سے باہر سفر نہیں کیا، اس لیے صحت حکام کو شبہ ہے کہ اس کا تعلق امریکا میں تقسیم کی جانے والی آلودہ زرعی اجناس یا تازہ سبزیوں اور پھلوں سے ہو سکتا ہے۔
وفاقی، ریاستی اور مقامی صحت حکام اس وبا کے مختلف کیسز کی تحقیقات کر رہے ہیں تاکہ آلودگی کے اصل ذریعے کا تعین کیا جا سکے۔
اس سے قبل امریکا میں سائیکلوسپورا کی وبا کا تعلق میکسیکو سے درآمد کی جانے والی دھنیا، رسبیری، میٹھے مٹر، سلاد کے پتے اور تلسی سے جوڑا جا چکا ہے۔
سی ڈی سی نے شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے مشورہ دیا ہے کہ پتوں والی سبزیوں کو استعمال سے قبل ٹھنڈے بہتے پانی سے اچھی طرح دھویا جائے تاکہ انفیکشن کے خطرات کو کم کیا جا سکے۔














