سندھ طاس معاہدہ 1960 میں طے پایا، بھارت نے اس کے فوراً بعد ہی اس معاہدے کی خلاف ورزیاں کرنا شروع کردیں۔ پاکستان نے بار بار اس پر احتجاج کیا اور عالمی ثالثوں کو اپنے موقف سے آگاہ کرتا رہا لیکن بھارت اپنی حرکتوں سے باز نہ آیا۔ اس کی خلاف ورزیوں میں مسلسل اضافہ ہوتا چلا گیا۔ بعد ازاں بھارت نے کچھ بڑے منصوبوں کی تعمیر شروع کردی۔
مثلاً بھارت نے 90 کی دہائی میں مقبوضہ جموں و کشمیر میں دریائے چناب بگلیہار ہائیڈرو پاور منصوبہ شروع کیا جس پر 1999 میں پاکستان نے اعتراض اٹھایا۔ پاکستان کا موقف تھا کہ ڈیزائن میں اسٹوریج اور فلو کنٹرول سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی ہے۔ یہ پہلا بڑا کیس تھا جس سے معاہدے کی تشریح عالمی سطح پر زیر بحث آئی۔

سن 2000 کی دہائی میں بھارت نے دریائے نیلم پر کشن گنگا ڈیم کی تعمیر شروع کردی۔ جس پر پاکستان نے موقف اختیار کیا کہ بھارت دریا کا پانی موڑ رہا ہے۔ اس سے پاکستان کے نیلم جہلم ہائیڈرو پروجیکٹ پر اثر پڑے گا۔
سن 2010 میں بھارت نے دریائے مارو سُدر (چناب کا حصہ) پر پاکل دل ڈیم بنانے کا منصوبہ بنایا۔ جس پر پاکستان نے موقف اختیار کیا کہ اس میں ذخیرہ کی گنجائش معاہدے کی خلاف ورزی ہے۔
یہ بھی پڑھیے پاکستان اور بھارت کے درمیان سندھ طاس معاہدہ کیا ہے؟
اسی طرح بھارت نے راتلے ہائیڈرو پراجیکٹ شروع کیا جس کا ڈیزائن اور ذخیرہ کی صلاحیت سندھ طاس معاہدہ کی خلاف ورزی تھی۔ اس پر پاکستان نے احتجاج کیا۔ بعد ازاں پاکستان اس کو عالمی ثالثی عدالت میں بھی لے کر گیا۔
سن 2016 میں بھارت نے اعلان کیا کہ وہ زیادہ سے زیادہ مغربی دریاؤں کا استعمال کرے گا۔ اس پر پاکستان نے موقف اختیار کیا کہ بھارت پانی کے بہاؤ کو کنٹرول کرنے یا موڑنے کی کوشش کر رہا ہے۔

یہ وہ وقت ہے جب پاکستان نے پہلی بار کھل کر کہا کہ بھارت پانی کو ہتھیار بنانے کی طرف جارہا ہے۔ سن 2020 سے 2024 کے دوران ثالثی عدالت نے بار بار اس بات پر زور دیا کہ بھارت کو سندھ طاس معاہدے کی شقوں کی سختی سے پابندی کرنی چاہیے بالخصوص کشن گنگا اور راتلے منصوبوں کے ضمن میں۔
مزید پڑھیں:سندھ طاس معاہدہ خطرے میں؟ پاکستان کے دریاؤں پر بھارت کے متنازع ڈیموں کی کہانی
بھارت نے حال ہی میں سندھ طاس معاہدہ کی اس وقت خلاف ورزی کی جب دریائے چناب کے بہاؤ میں اچانک غیرمعمولی کمی واقع ہوئی۔ اس پر پاکستان نے ایک بار پھر پرزور انداز میں کہا کہ بھارت پانی کا ذخیرہ کر رہا ہے یا پھر اس کا رخ موڑ رہا ہے۔ اس پر بھارت نے بہانہ بنایا کہ یہ موسمی اور تکنیکی عوامل ہیں۔
اسی عرصے میں بھارت نے چناب کے پانی کو دیگر نظاموں کی طرف موڑنے کے منصوبوں کو اعلان کیا جس پر پاکستان نے ایک بار پھر عالمی ثالثوں کے سامنے اپنا موقف رکھا کہ بھارت معاہدے کی روح کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔













