وزیراعظم کے مشیر اور مسلم لیگ (ن) کے سینیئر رہنما سینیٹر رانا ثنا اللہ نے واضح کیا ہے کہ ملک کے سیاسی و معاشی مسائل کا حل سیاستدانوں کے ایک ساتھ مل بیٹھنے میں ہی مضمر ہے۔
جمعرات کو نجی ٹی وی کے ساتھ خصوصی انٹرویو میں رانا ثنا اللہ نے انکشاف کیا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے بجٹ اجلاس کے دوران خود 4 مرتبہ اپوزیشن کے ڈیسکس پر جا کر انہیں مذاکرات کی باقاعدہ دعوت دی ہے، تاہم اپوزیشن کی جانب سے ابھی تک ملاقات کے لیے آمادگی کا باقاعدہ اظہار نہیں کیا گیا۔
محمود اچکزئی اور پی ٹی آئی رہنماؤں سے ٹیلیفونک رابطے
رانا ثنا اللہ نے بتایا کہ وزیراعظم کی پیشکش کے بعد انہوں نے اپوزیشن اتحاد کے سربراہ محمود خان اچکزئی، بیرسٹر گوہر خان، اسد قیصر اور عامر ڈوگر سمیت پی ٹی آئی کے سینیئر رہنماؤں سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ذاتی مفادات کی سیاست چھوڑ کر قومی مفاد کے لیے کام کریں، رانا ثنا اللہ کی پی ٹی آئی رہنماؤں کو تلقین
انہوں نے رہنماؤں سے کہا کہ آپ کو مذاکرات کی آفر کی گئی ہے، آپ اپنا وفد تشکیل دیں اور وقت بتائیں تاکہ وزیراعظم سے ملاقات کا ارینجمنٹ کروا کر آپ کو مطلع کیا جائے، جس پر اپوزیشن رہنماؤں نے جواب دیا کہ ’اچھا ٹھیک ہے، ہم (مشاورت کے بعد) آپ کو بتائیں گے‘۔
بانی کی اجازت کے بغیر نہ ملنے کا کوئی علاج نہیں
مشیرِ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اپوزیشن سے رابطوں میں حکومت کو کوئی مشکل درپیش نہیں ہے، لیکن اگر اپوزیشن یہ کہے کہ وہ بانی پی ٹی آئی کی اجازت کے بغیر حکومت سے مل بھی نہیں سکتے، تو یہ ان کی پارٹی کا اندرونی مسئلہ ہے اور ایسی سوچ کا حکومت کے پاس کوئی حل یا علاج نہیں ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ اپوزیشن پہلے ملاقات کا مسئلہ طے کرے، جب ایک کمرے میں بیٹھ کر بات ہوگی تو اس کا ماحول اور نتیجہ بالکل مختلف ہوگا، جہاں سے مستقبل کا روڈ میپ بنایا جا سکتا ہے۔
کیسز لڑیں مگر سیاست اور حکومت بھی کریں
رانا ثنا اللہ نے پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کو مخلصانہ مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ بانی پی ٹی آئی کے کیسز عدالتوں میں ضرور لڑیں، لیکن اس کے ساتھ ساتھ سیاست بھی کریں، خیبر پختونخوا میں اپنی حکومت چلائیں اور پنجاب و وفاق میں بھرپور اپوزیشن کا کردار ادا کریں۔
انتخابی بائیکاٹ کی پالیسی پر شدید تنقید
رانا ثنا اللہ نے پی ٹی آئی کی جانب سے آزاد کشمیر کے آئندہ انتخابات میں حصہ نہ لینے پر تنقید کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ کیا پی ٹی آئی آنے والے ہر الیکشن کا اسی طرح بائیکاٹ کرے گی؟
مزید پڑھیں:رانا ثنا اللہ کے لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید کی سرگرمیوں کے حوالے سے اہم انکشافات
انہوں نے کہا کہ اگر پی ٹی آئی یہ سمجھتی ہے کہ انہیں کسی الیکشن سے فائدہ نہیں ہوگا اور وہ وہاں کی صورتحال کا حصہ نہیں بنتے، تو یہ درست حکمتِ عملی نہیں۔
اگر الیکشن کے ذریعے کوئی بھی مثبت پیش رفت ممکن ہو تو پی ٹی آئی کو ہر صورت اس انتخابی عمل کا حصہ بننا چاہیے۔














