غزہ کے 80 فیصد سے زیادہ علاقے پر اسرائیل قابض ہوچکا، 73 ہزار فلسطینی شہید ہوئے، رپورٹ جاری

جمعرات 2 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

اسرائیلی افواج ایک ہزار روز سے جاری جنگ کے بعد غزہ کی پٹی کے 80 فیصد سے زیادہ علاقے پر کنٹرول حاصل کر چکی ہیں، جبکہ اس عرصے کے دوران 73 ہزار سے زیادہ فلسطینی جاں بحق اور ہزاروں لاپتا ہو چکے ہیں۔

جمعرات کو غزہ کے سرکاری میڈیا آفس سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق اکتوبر 2023 سے اب تک غزہ پر 2 لاکھ 23 ہزار ٹن سے زیادہ دھماکہ خیز مواد گرایا گیا۔ غزہ حکام نے ان کارروائیوں کو ’نسل کشی‘ قرار دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:پاکستان اور ترکیہ کے وزرائے خارجہ کا رابطہ، غزہ میں اسرائیلی مظالم کی شدید مذمت

رپورٹ کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں 21 ہزار 500 سے زیادہ بچے اور 12 ہزار 500 خواتین شامل ہیں، جبکہ 9 ہزار 500 افراد تاحال لاپتا ہیں۔ اسی دوران ایک لاکھ 73 ہزار 514 افراد زخمی ہوئے۔

غزہ حکام کے مطابق 5 ہزار 400 افراد کے اعضا کٹ چکے ہیں، جن میں 18 فیصد بچے شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ایک ہزار 500 افراد مستقل مفلوج ہو چکے ہیں جبکہ ایک ہزار 200 افراد بینائی سے محروم ہو گئے۔

بیان میں کہا گیا کہ 58 ہزار 800 سے زیادہ بچے یتیم ہو چکے ہیں، جبکہ متعدی بیماریوں کے 21 لاکھ 40 ہزار سے زیادہ کیسز رپورٹ ہوئے، جن میں 71 ہزار 338 افراد وائرل ہیپاٹائٹس کا شکار ہوئے۔

غزہ میڈیا آفس کے مطابق اسرائیلی حملوں میں ایک ہزار 47 مساجد مکمل طور پر تباہ، مزید 210 کو جزوی نقصان پہنچا، جبکہ 3 گرجا گھروں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ 312 آئمہ، خطبا، قرآنی اساتذہ اور دیگر مذہبی شخصیات بھی جاں بحق ہوئیں۔

صحت کے شعبے کو بھی شدید نقصان پہنچا۔ غزہ حکام کے مطابق 38 اسپتال، 96 طبی مراکز، 197 ایمبولینسیں، 84 ہنگامی امدادی گاڑیاں اور 16 سول ڈیفنس مراکز تباہ یا ناکارہ ہو چکے ہیں۔

مزید پڑھیں:’میں کیوں نہ بولوں‘؟ ہسپانوی اداکار جیویر بارڈیم فلسطین کی حمایت میں کھل کر سامنے آگئے

بیان کے مطابق جنگ سے ہونے والے براہ راست معاشی نقصانات کا تخمینہ 80 ارب ڈالر لگایا گیا ہے، جن میں 34 ارب ڈالر کا نقصان صرف رہائشی شعبے میں ہوا۔ تقریباً 3 لاکھ 35 ہزار عمارتیں اور رہائشی یونٹس مکمل تباہ جبکہ مزید 7 لاکھ 37 ہزار کو نقصان پہنچا۔

غزہ حکام کا کہنا ہے کہ اگرچہ اکتوبر 2025 میں جنگ بندی نافذ ہوئی تھی، تاہم اسرائیل نے فضائی حملے جاری رکھے، محاصرہ مزید سخت کیا اور انسانی، طبی اور غذائی امداد کی فراہمی میں رکاوٹیں برقرار رکھیں۔

دوسری جانب امدادی تنظیم ’سیو دی چلڈرن‘ نے کہا ہے کہ جنگ کے دوران کم از کم 21 ہزار بچوں کی شہادت کی تصدیق ہو چکی ہے، تاہم اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے کیونکہ متعدد افراد اب بھی ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔

تنظیم کے مطابق 8 لاکھ سے زیادہ بچے، جو غزہ کے تقریباً 80 فیصد بچوں کے برابر ہیں، بے گھر ہو چکے ہیں، جبکہ 6 لاکھ 25 ہزار اسکول جانے والے بچے مسلسل 3 برس سے رسمی تعلیم سے محروم ہیں۔

تنظیم سے گفتگو کرتے ہوئے 14 سالہ امانی نے کہا کہ ’ہم کسی بھی لمحے مارے جا سکتے ہیں۔ میری خواہش ہے کہ جنگ ختم ہو تاکہ میں دوبارہ تعلیم حاصل کر سکوں اور دنیا کی دوسری بچیوں کی طرح اپنے بنیادی انسانی حقوق کے ساتھ زندگی گزار سکوں۔‘

ایک اور 14 سالہ بچی بیسان نے کہا کہ ’میری خواہش ہے کہ جنگ ختم ہو، ہم سب اپنے گھروں کو واپس جائیں اور ہماری زندگی پہلے جیسی ہو جائے۔‘

سیو دی چلڈرن نے خبردار کیا کہ انسانی امداد کی محدود فراہمی کے باعث تقریباً 2 لاکھ 45 ہزار بچے غذائی قلت کے خطرے سے دوچار ہیں یا پہلے ہی اس کا شکار ہو چکے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:فلسطینیوں کی دشمنی میں اسرائیل نے اقوام متحدہ کو بھی نہیں بخشا، عمارتیں منہدم

تنظیم نے اقوام متحدہ کے حالیہ کمیشن آف انکوائری کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس میں اسرائیلی حکام پر فلسطینی بچوں کو جان بوجھ کر نشانہ بنانے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں، جنہیں نسل کشی، انسانیت کے خلاف جرائم اور جنگی جرائم کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔

سیو دی چلڈرن نے عالمی برادری سے مستقل جنگ بندی، بچوں کے خلاف جرائم پر جوابدہی اور اسرائیل کو اسلحہ کی فراہمی معطل کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

اکتوبر 2023 میں شروع ہونے والی اس جنگ نے غزہ کے بڑے حصے کو کھنڈر میں تبدیل کر دیا ہے اور ماہرین کے مطابق اس تباہی سے بحالی میں کئی سال لگ سکتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پاسکو ختم، ملازمین کے لیے 4.18 ارب روپے کے پیکج کی منظوری

سپریم کورٹ کی جیل اصلاحات کانفرنس کا اعلامیہ جاری، جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدیوں اور سہولیات کے بحران پر تشویش

آزاد کشمیر میں آئندہ حکومت استحکام پاکستان پارٹی کی ہوگی، تنویر الیاس کا دعویٰ

پاکستان کا سیمی کنڈکٹر صنعت میں بڑا قدم، 4.5 ارب روپے کے قومی چپ ڈیزائن پروگرام پر عملدرآمد شروع

ساؤتھ ایشین گیمز 2027: میزبان پاکستان نے تیاریوں میں تیزی لانے کے لیے اہم فیصلے کر لیے

ویڈیو

سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی غیر قانونی، بھارت پانی کو سیاسی دباؤ کے ہتھیار کے طور پر استعمال نہ کرے، دفتر خارجہ

صادقین کی 96ویں سالگرہ پر پاکستان پوسٹ کا دنیا کا طویل ترین یادگاری ڈاک ٹکٹ جاری

پی ٹی آئی کی اندرونی رسہ کشی، خیبرپختونخوا کے عوام پریشان

کالم / تجزیہ

بھارتی آبی جارحیت: چند سنگین قانونی پہلو

دریاؤں کو بہنے دو

تفرقہ اور نام نہاد پوڈکاسٹرز