ہسپانوی اداکار جیویر بارڈیم عراق جنگ کی مخالفت اور غزہ کے معاملے پر اسرائیلی کارروائیوں پر تنقید کے حوالے سے اپنے واضح مؤقف کے باعث جانے جاتے ہیں۔
حال ہی میں ایک انٹرویو کے دوران جب ان سے پوچھا گیا کہ وہ اپنے خیالات کا اظہار کیوں کرتے ہیں تو انہوں نے کہا کہ ان کے نزدیک سوال یہ نہیں کہ وہ کیوں بولتے ہیں بلکہ یہ ہے کہ وہ کیوں نہ بولیں۔ ان کے مطابق ایک فنکار کے طور پر انہیں یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے اردگرد ہونے والی ناانصافیوں پر آواز اٹھائیں۔
View this post on Instagram
بارڈیم نے کہا کہ وہ اپنی تقریروں اور بیانات میں ہمیشہ اس بات کو ذہن میں رکھتے ہیں کہ وہ ریکارڈ کیے جا رہے ہیں اس لیے وہ ان امور پر بات کرتے ہیں جنہیں وہ غلط سمجھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ غزہ کے حوالے سے ان کے مؤقف پر انہیں کسی تقریب میں مخالفت کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا تھا تاہم انہیں عوامی سطح پر مثبت ردعمل بھی ملا۔
انہوں نے انڈسٹری میں ممکنہ دباؤ اور ’بلیک لسٹ‘ کیے جانے کے خدشات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ انہیں بعض پراجیکٹس یا برانڈز سے دور رکھنے کی باتیں سننے کو ملی ہیں لیکن اس کے باوجود انہیں نئے مواقع بھی مل رہے ہیں۔ ان کے مطابق وہ اس بات کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں کہ ان کی آواز سنی جا رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: فلسطینی بچوں کا ملالہ سے ویڈیو کال مکالمہ، تعلیمی رکاوٹیں اور اسرائیلی مظالم کی دردناک کہانی
مردانگی کے موضوع پر بات کرتے ہوئے بارڈیم نے کہا کہ انہیں ایسی ثقافت میں پرورش ملی جہاں مردوں کو طاقتور اور غالب سمجھا جاتا تھا جو ان کے مطابق ایک غلط تصور ہے۔ انہوں نے کہا کہ بطور والد وہ اس بات سے فکر مند ہیں کہ معاشرہ دوبارہ پرانی سوچ کی طرف جا سکتا ہے۔
انہوں نے اپنی والدہ اداکارہ پیلار بارڈیم کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی والدہ نے زندگی میں بہت جدوجہد کی اور وقار کے ساتھ اپنی جگہ بنائی جس سے انہوں نے بہت کچھ سیکھا۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت: فلسطینی بچی پر مبنی آسکر نامزد فلم ’دی وائس آف ہند رجب‘ پر پابندی عائد
اپنی اہلیہ اور اداکارہ پینیلوپ کروز کے بارے میں بات کرتے ہوئے بارڈیم نے کہا کہ وہ گھر میں کام کے معاملات پر زیادہ گفتگو نہیں کرتے تاکہ پیشہ ورانہ اور ذاتی زندگی میں توازن برقرار رہے۔ انہوں نے اپنی اہلیہ کو ایک باصلاحیت، باکردار اور قابلِ احترام شخصیت قرار دیا اور کہا کہ وہ ان کی بہت قدر کرتے ہیں۔
بارڈیم نے یہ بھی کہا کہ انہیں اپنی اہلیہ کے ساتھ کام کرنا اس لیے پسند ہے کیونکہ اس سے انہیں ایک دوسرے کو بہتر سمجھنے اور جذباتی طور پر قریب آنے کا موقع ملتا ہے۔














