پاکستانی زیتون کے تیل کے ایک برانڈ نے لندن انٹرنیشنل اولیو آئل کمپیٹیشن 2026 میں گولڈ میڈل جیت کر ملک کے لیے اعزاز حاصل کر لیا۔ بلوچستان کے ضلع لورالائی میں پیدا ہونے والے زیتون سے تیار کیے گئے اس برانڈ نے دنیا بھر کے ممتاز برانڈز کے درمیان نمایاں کامیابی حاصل کی۔
پاکستانی زیتون کے تیل کے ایک اعلیٰ معیار کے برانڈ نے لندن انٹرنیشنل اولیو آئل کمپیٹیشن 2026 میں گولڈ میڈل جیت کر عالمی سطح پر پاکستان کا نام روشن کر دیا۔
یہ بھی پڑھیں:زیتون کا تیل اور ہڈیوں کا سوپ: کیا سوشل میڈیا پر وائرل غذائیں واقعی مؤثر ہیں؟
یہ برانڈ محمد حسن ترین نے قائم کیا ہے اور اسے بلوچستان کے ضلع لورالائی میں کاشت کیے گئے زیتون سے تیار کیا جاتا ہے۔ اس کامیابی کا مقصد پاکستان کو اعلیٰ معیار کے ایکسٹرا ورجن اولیو آئل پیدا کرنے والے ممالک کی صف میں نمایاں مقام دلانا ہے۔
محمد حسن ترین نے اس اعزاز کو نہ صرف اپنی کمپنی بلکہ پاکستان کی ابھرتی ہوئی زیتون کے تیل کی صنعت کے لیے بھی ایک اہم سنگ میل قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ لندن انٹرنیشنل اولیو آئل کمپیٹیشن دنیا کے معتبر مقابلوں میں شمار ہوتا ہے، جہاں مختلف ممالک کے معروف برانڈز حصہ لیتے ہیں۔
ان کے مطابق اس سال مقابلے میں دنیا بھر سے تقریباً 1200 سے 1300 زیتون کے تیل کے برانڈز شریک ہوئے۔ مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے ماہر ججوں نے ذائقے اور معیار کی بنیاد پر تیل کا جائزہ لیا اور انہیں گولڈ، سلور اور برانز کیٹیگریز میں تقسیم کیا۔

محمد حسن ترین نے بتایا کہ پاکستان میں زیتون کی صنعت ابھی ترقی کے ابتدائی مرحلے میں ہے، تاہم اس شعبے میں بے پناہ امکانات موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت بھی زیتون کی کاشت کے فروغ کے لیے اقدامات کر رہی ہے، کسانوں کو عالمی معیار کی اقسام کے پودے فراہم کیے جا رہے ہیں اور ملک بھر میں بڑی تعداد میں زیتون کے درخت لگائے جا چکے ہیں۔
انہوں نے اس امر کو بھی اہم پیش رفت قرار دیا کہ پاکستان اب انٹرنیشنل اولیو کونسل کا مستقل رکن بن چکا ہے، جس سے ملکی زیتون کی صنعت کو عالمی منڈیوں تک رسائی اور مزید ترقی کے مواقع میسر آئیں گے۔













