اسرائیل نے مقبوضہ یروشلم میں امریکی سفارت خانے کے مستقل کمپلیکس کی تعمیر کے لیے فلسطینی خاندانوں کی سابقہ ملکیتی اراضی 99 سال کے لیے صرف ایک ڈالر کے عوض امریکا کو لیز پر دے دی۔ اس اقدام پر انسانی حقوق کی تنظیموں نے شدید اعتراض کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی قانون اور فلسطینیوں کے املاک کے حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیل اور امریکا کے درمیان ہونے والے معاہدے کے تحت مقبوضہ یروشلم میں واقع اراضی امریکی سفارت خانے کے مستقل کمپلیکس کی تعمیر کے لیے 99 سال کی علامتی لیز پر صرف ایک ڈالر کے عوض فراہم کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:مقبوضہ بیت المقدس میں صومالی لینڈ کے سفارتخانے کا افتتاح، پاکستان اور سعودی عرب سمیت اسلامی ممالک کا سخت ردعمل
اسرائیلی انسانی حقوق کی تنظیم ’عدالہ‘ کا کہنا ہے کہ یہ زمین 1948 سے قبل فلسطینی خاندانوں کی ملکیت تھی، تاہم 1950 میں اسرائیل نے اسے اپنے قبضے میں لے لیا۔ تنظیم کے مطابق اس اراضی کی منتقلی ان افراد کی رضامندی کے بغیر کی گئی جنہیں اس کا اصل مالک قرار دیا جاتا ہے۔
رپورٹس کے مطابق اس منصوبے کے تحت امریکا موجودہ سفارت خانے کی جگہ ایک جدید اور وسیع مستقل سفارتی کمپلیکس تعمیر کرے گا۔ یہ معاہدہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب یروشلم کی قانونی اور سیاسی حیثیت بدستور عالمی تنازع کا اہم موضوع بنی ہوئی ہے۔

فلسطینی حلقوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس فیصلے کو بین الاقوامی قوانین کے منافی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ مقبوضہ علاقوں میں اس نوعیت کے اقدامات نہ صرف فلسطینیوں کے املاک کے حقوق کو متاثر کرتے ہیں بلکہ خطے میں کشیدگی کو بھی بڑھا سکتے ہیں۔
اقوام متحدہ مشرقی یروشلم کو مقبوضہ فلسطینی علاقہ قرار دیتی ہے اور اس کا مؤقف ہے کہ یروشلم کی حتمی حیثیت باہمی مذاکرات کے ذریعے طے ہونی چاہیے۔ دوسری جانب اسرائیل پورے یروشلم کو اپنا دارالحکومت قرار دیتا ہے، تاہم اس دعوے کو عالمی سطح پر متفقہ پذیرائی حاصل نہیں۔














