یورپ میں حالیہ شدید گرمی کی لہر کے دوران فرانس، بیلجیم اور نیدرلینڈز میں کم از کم 3,700 اموات ریکارڈ کی گئی ہیں، جبکہ حکام نے خبردار کیا ہے کہ یہ تعداد ابتدائی ہے اور مزید بڑھ سکتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق 20 سے 28 جون کے درمیان آنے والی شدید گرمی کی لہر کو یورپ کی تاریخ کی بدترین ہیٹ ویوز میں شمار کیا جا رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس غیر معمولی گرمی میں انسانی سرگرمیوں سے پیدا ہونے والی موسمیاتی تبدیلیوں نے اہم کردار ادا کیا، جبکہ ہیٹ ویو نے بجلی کی پیداوار، بنیادی ڈھانچے اور صحت کے نظام پر بھی شدید دباؤ ڈالا۔
مزید پڑھیں:یورپ میں شدید گرمی کی لہر سے 1,300 سے زائد اموات، عالمی ادارۂ صحت کا انتباہ
فرانس میں اس دوران 2,025 اضافی اموات رپورٹ ہوئیں، جن میں زیادہ تر متاثرین کی عمر 45 سال سے زائد تھی۔ فرانسیسی حکام کے مطابق 22 سے 28 جون کے دوران گھروں میں ہونے والی اموات گزشتہ ہفتے کے مقابلے میں 91 فیصد بڑھ گئیں، جبکہ نرسنگ ہومز اور طبی مراکز میں بھی اموات میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا۔
The French have started fighting over air conditioners and fans: the situation in Europe due to extreme heat
Temperatures in central and western regions have exceeded +44°C, which has led to the deaths of 1,300 people in just three days. pic.twitter.com/knNMF86z4B
— NEXTA (@nexta_tv) July 3, 2026
بیلجیم کی وزارت صحت نے بتایا کہ 18 سے 29 جون کے دوران قریباً 1,200 اضافی اموات ریکارڈ کی گئیں، جن میں 530 افراد کی عمر 85 سال یا اس سے زائد تھی، جبکہ 180 اموات 65 سال سے کم عمر افراد کی ہوئیں۔ وزارت صحت نے اسے ملک میں ہیٹ ویو کے دوران اموات کا غیر معمولی رجحان قرار دیا۔
مزید پڑھیں:یورپ میں شدید گرمی کی لہر، اسپین میں 4 روز کے دوران 212 اموات
ادھر نیدرلینڈز میں حکام کے مطابق شدید گرمی کے باعث قریباً 480 اضافی اموات ہوئیں، جن میں اکثریت 80 سال سے زائد عمر کے افراد کی تھی۔
صحت کے حکام نے خبردار کیا ہے کہ گرمی سے متعلق اموات کے اعداد و شمار ابھی مکمل نہیں ہوئے، اس لیے آئندہ دنوں میں ہلاکتوں کی مجموعی تعداد میں مزید اضافہ متوقع ہے۔














