سابق وزیراعظم آزاد کشمیر تنویر الیاس نے کہا ہے کہ مقبوضہ کمشیر میں قابض 9 لاکھ بھارتی فوج کے سامنے ڈٹنے والے کشمیریوں کا دل پاکستان کے ساتھ دھڑکتا ہے، اگر کوئی پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے دیکھے گا تو اسے کشمیریوں کی لاشوں سے گزرنا ہوگا۔
سابق وزیراعظم و استحکامِ پاکستان پارٹی (آئی پی پی) کے رہنما تنویر الیاس نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ جب جہانگیر خان ترین نے آئی پی پی کی بنیاد رکھی تو وہ شروع سے اس ٹیم کا حصہ تھے، تاہم بعد ازاں کچھ ناگزیر حالات کے باعث انہوں نے گزشتہ سال جون میں پاکستان پیپلز پارٹ میں شمولیت اختیار کی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: تنویر الیاس اہم شخصیات سمیت استحکام پاکستان پارٹی میں شامل، آزاد کشمیر کی سیاست پر کیا اثرات مرتب ہوں گے؟
آزاد کشمیر کی سیاسی تاریخ پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر میں 53 ارکان کا ایوان ہے، جہاں گزشتہ برس پیپلز پارٹی کے 13 ارکان موجود تھے، ہم نے ایوان میں پیپلز پارٹی کی تعداد 29 تک پہنچائی۔
تنویز الیاس نے کہا کہ آزاد کشمیر میں فلور کراسنگ یعنی پارٹی بدلنے کا قانون وفاق سے بھی پرانا ہے اور 1990 میں پونچھ سے تعلق رکھنے والے سپیکر صاحب کو اسی قانون کے تحت نااہلی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ تاہم 2022 میں آزاد کشمیر ہائیکورٹ نے اس قانون کو کالعدم قرار دے دیا، جس کے بعد اب وہاں سیاسی وفاداریاں تبدیل کرنا اور دوسری پارٹیوں میں جانا معمول بن چکا ہے۔
انہوں نے پنجاب اور آزاد کشمیر کے دیرینہ تعلق پر بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ خود شروع سے پنجاب میں مقیم رہے ہیں اور جہاں بھی جائیں، لوگ آزاد کشمیر کے حالات کے بارے میں ضرور پوچھتے ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ مقبوضہ کشمیر کے عوام بدترین بھارتی تسلط اور 9 لاکھ فوج کی موجودگی کے باوجود خود کو پاکستانی کہتے ہیں اور برہان وانی کی شہادت ہو یا کوئی اور تحریک، کشمیریوں کا دل پاکستان کے ساتھ دھڑکتا ہے، برہان وانی شہید ہوئے تو انہیں پاکستان کے جھنڈے میں دفن کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: آزاد کشمیر میں آئندہ حکومت استحکام پاکستان پارٹی کی ہوگی، تنویر الیاس کا دعویٰ
انہوں نے عزم کا اظہار کیا کہ اگر کوئی پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے دیکھے گا تو اسے کشمیریوں کی لاشوں سے گزرنا ہوگا۔
سابقہ وزیرِ اعظم آزاد کشمیر پر کڑی تنقید کرتے ہوئے آئی پی پی کے رہنما نے کہا کہ حکومت کی نااہلی کی وجہ سے آزاد کشمیر میں شدید ہنگامے اور افراتفری کا ماحول پیدا ہوا۔ عوام کو اس حد تک مجبور کردیا گیا کہ انہوں نے مایوسی میں پاکستان کے ساتھ رابطے کی تمام 14 سے 15 شاہراہیں اور انٹری پوائنٹس بند کرنے کی دھمکی دی۔
سابق وزیراعظم نے کہا کہ انہوں نے آزاد کشمیر کے عوام کو سمجھایا کہ پاکستان کے بغیر ان کا گزارا کیسے ممکن ہے کیونکہ تعلیم، صحت اور روزگار کے لیے انہیں پاکستان ہی آنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کی عوام دشمن پالیسیوں نے لوگوں کو احتجاج پر مجبور کردیا۔ آزاد کشمیر میں حالیہ عوامی تحریک اور بجلی کے بلوں کے تنازع پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عوام کا مطالبہ بالکل جائز تھا کیونکہ جب بجلی کا ریٹ 16 روپے فی یونٹ تھا تو اسے یکدم بڑھا کر 32 روپے کردیا گیا۔
انہوں نے سابق وزیرِاعظم چوہدری انوار الحق کے فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے خوفزدہ ہو کر بجلی کا ریٹ محض 3 روپے فی یونٹ کردیا، حالانکہ اس طرح کے عارضی اور غیر پائیدار فیصلوں سے ریاستوں کی بنیادیں نہیں رکھی جاتیں اور اگر کل کو یہ ریٹ دوبارہ بڑھانا پڑا تو عوام میں پھر شدید اشتعال پھیلے گا۔
انہوں نے آزاد کشمیر کے عوام اور پاک فوج کے درمیان مضبوط رشتے کو سراہتے ہوئے کہا کہ سیاچن سے لے کر سیالکوٹ تک، آزاد کشمیر کا ہر شہری پاک فوج کی قربانیوں سے واقف ہے۔ عوام فوج کی گاڑیوں اور وردیوں پر فخر کرتے ہیں اور یہ رشتہ کسی صورت کمزور نہیں ہو سکتا۔
یہ بھی پڑھیں: آزاد کشمیر: عام انتخابات سے قبل سیاسی جوڑ توڑ، تنویر الیاس پیپلز پارٹی کی بنیادی رکنیت سے مستعفی
انہوں نے 2022 کے بلدیاتی انتخابات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان مخالف عناصر کو وہاں بدترین شکست کا سامنا کرنا پڑا، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ کشمیری صرف پاکستان کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں۔
پریس کانفرنس کے اختتام پر انہوں نے آزاد کشمیر سے تعلق رکھنے والی اہم سیاسی شخصیات کی آئی پی پی میں شمولیت کا خیرمقدم کیا۔
انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر کے عوام موجودہ کرپٹ اور ناکام نظام سے مکمل طور پر بیزار ہوچکے ہیں اور وہ علیم خان کی قیادت میں آزاد کشمیر کے سیاسی منظر نامے کو تبدیل کرنے اور عوامی حقوق کی جنگ لڑنے کے لیے پوری طرح تیار ہیں، جس کے مثبت نتائج جلد سب کے سامنے آئیں گے۔
اللہ نے آزاد کشمیر میں حکومت بنانے کا موقع دیا تو خوبصورت ڈیولپمنٹ کریں گے، علیم خان
اس موقع پر استحکام پاکستان پارٹی کے صدر علیم خان نے کہا کہ آزاد کشمیر پاکستان کا سوئٹزرلینڈ ہے، اللہ نے آزاد کشمیر میں حکومت بنانے کا موقع دیا تو خوبصورت ڈیولپمنٹ کریں گے، سیاحت کے لیے بنیادی سہولیات کا ہونا ضروری ہے۔
آزاد کشمیر میں جتنی پارٹیاں برسراقتدار رہیں، وہ اپنے منشور پر عمل نہیں کر سکیں، عوام کو ان جماعتوں سے حساب لینا چاہیے، باتیں کرنے سے کچھ نہیں ہوگا، عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ اقتدار میں آئے تو اللہ کے آگے اور عوام کے سامنے جوابدہ ہوں گے، استحکام پاکستان پارٹی نوجوانوں کے لیے مستقبل کی نوید ہے، مستقبل میں آ کر نوجوانوں کو روزگار دیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم سے کہا کہ میری دو وزارتیں کسی اور کو دے دیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ وزارتیں تو کوئی نہیں چھوڑتا۔ میں نے وزیراعظم سے کہا کہ میں مواصلات پر فوکس کرنا چاہتا ہوں، 3 سال میں منافع 400 سے 500 ارب تک پہنچا دوں گا، اس سال کا ہدف 200 ارب روپے رکھا ہے۔













