پنجاب میں پلاسٹک آلودگی کے خلاف بڑا قدم، لاہور کینال میں پہلی بار ‘اسکمنگ بوٹ‘ چلادی گئی

جمعہ 3 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پنجاب کی ماحولیاتی تحفظ ایجنسی (ای پی اے) نے پلاسٹک آلودگی کے خاتمے کی کوششوں کے تحت نہروں اور آبی گزرگاہوں سے پلاسٹک کا کچرا صاف کرنے کے لیے پہلی ’اسکمنگ بوٹ‘ متعارف کرا دی جسے ماحولیاتی تحفظ کے لیے ایک اہم پیشرفت قرار دیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: لاہور میں ٹریفک مسائل سے نمٹنے کے لیے ڈرون ٹیکنالوجی استعمال کرنے کا انقلابی فیصلہ

یہ بوٹ ابتدائی طور پر ایک پائلٹ منصوبے کے تحت لاہور کینال میں کام شروع کرے گی جہاں اسے پانی کی سطح پر تیرنے والے پلاسٹک اور دیگر فضلے کو جمع کرنے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔
حکام کے مطابق بوٹ کے اگلے حصے میں خصوصی کچرا جمع کرنے والا کنٹینر نصب کیا گیا ہے جو آبی گزرگاہوں میں موجود پلاسٹک فضلے کو مؤثر انداز میں جمع کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

ای پی اے پنجاب کے حکام کا کہنا ہے کہ اس پائلٹ منصوبے کے ذریعے جدید ٹیکنالوجی کی افادیت کا جائزہ لیا جائے گا جس کے بعد اسے صوبے کی دیگر نہروں اور دریاؤں تک توسیع دینے پر غور کیا جائے گا۔

اس منصوبے کا اعلان لاہور میں ’پلاسٹک بیگ فری ڈے‘ کے موقعے پر منعقدہ ایک سیمینار کے دوران کیا گیا جس میں پارلیمانی سیکریٹری برائے ماحولیات کنول لیاقت نے بطور مہمان خصوصی جبکہ ای پی اے پنجاب کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر عمران حمید شیخ نے بطور مہمان اعزاز شرکت کی۔

تقریب میں سرکاری حکام، ماحولیاتی ماہرین، صنعتوں کے نمائندوں، سول سوسائٹی، میڈیا اور دیگر متعلقہ شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی اور ممنوعہ پلاسٹک بیگز کے استعمال کے خاتمے کے عزم کا اعادہ کیا۔

مزید پڑھیں: پاکستانی ٹیکنالوجی کمپنی ایوانسیون کو خلیجی ممالک میں 11.6 ملین ڈالر کے نئے منصوبے حاصل

حکام کے مطابق پلاسٹک کے خلاف جاری مہم کے دوران اب تک 50 ہزار سے زائد کاروباری افراد ممنوعہ پلاسٹک بیگز استعمال نہ کرنے کا عہد کر چکے ہیں جبکہ نافذ العمل کارروائیوں کے دوران 6 لاکھ کلوگرام سے زائد ممنوعہ پلاسٹک ضبط کیا جا چکا ہے اور خلاف ورزیوں پر 2 کروڑ روپے سے زائد جرمانے بھی عائد کیے گئے ہیں۔

ڈائریکٹر جنرل ای پی اے ڈاکٹر عمران حمید شیخ نے کہا کہ پلاسٹک آلودگی کے خاتمے کے لیے عملی اقدامات ناگزیر ہیں اور اصل چیلنج وعدوں کو عملی اقدامات میں تبدیل کرنا ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ پنجاب بھر میں سنگل یوز پلاسٹک بیگز کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی اور جدید ٹیکنالوجی اور ڈیٹا پر مبنی نگرانی کے نظام کے ذریعے اس مہم کو مزید مؤثر بنایا جائے گا۔

انہوں نے بتایا کہ پنجاب پلاسٹک مینجمنٹ اسٹریٹیجی سنہ 2023 کے تحت پلاسٹک تیار کرنے والوں، فروخت کنندگان، کچرا جمع کرنے والوں اور ری سائیکلنگ سے وابستہ افراد کی رجسٹریشن کا عمل بھی جاری ہے تاکہ پلاسٹک فضلے کے انتظام کا ایک مؤثر نظام قائم کیا جا سکے۔

مزید پڑھیں: قدیم لاہور کی بحالی: سڑکوں، گیٹوں اور عمارتوں کے اصل نام و شکل بحال کرنے کا فیصلہ

پارلیمانی سیکریٹری کنول لیاقت نے کہا کہ ماحولیاتی قوانین پر عمل درآمد ایک مشکل لیکن ناگزیر قومی ذمہ داری ہے اور کسی بھی دباؤ یا سفارش کی بنیاد پر ماحولیاتی خلاف ورزیوں کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔

انہوں نے شہریوں، صنعتوں، غیر سرکاری تنظیموں، میڈیا اور سول سوسائٹی سے اپیل کی کہ وہ پنجاب کو پلاسٹک سے پاک بنانے کے مشن میں حکومت کا ساتھ دیں۔

تقریب کے اختتام پر شرکا نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پلاسٹک سے پاک پنجاب کا خواب صرف حکومت نہیں بلکہ پورے معاشرے کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

واضح رہے کہ ای پی اے پنجاب نے رواں برس پلاسٹک آلودگی کے خلاف اپنی کارروائیاں مزید تیز کر دی ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: پنجاب کے تھانوں میں کیمروں کی تنصیب، باڈی کیمروں اور جدید ٹیکنالوجی کا آغاز

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق یکم جنوری سے 27 اپریل 2026 تک 3 ہزار 612 انسپکشنز کی گئیں، 9 لاکھ 37 ہزار 868 کلوگرام پلاسٹک بیگز ضبط کیے گئے، 189 نوٹسز جاری کیے گئے، 30 لاکھ روپے جرمانے عائد کیے گئے، 26 مقامات سیل کیے گئے اور 7 مقدمات درج کیے گئے۔ تاہم حکام کے مطابق دیہی اور نیم شہری علاقوں میں پلاسٹک کے استعمال کا خاتمہ اب بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp