پاکستان اور بھارت میں ایک بڑا طبقہ امن اور مذاکرات کا حامی ہے اور پاکستانی عوام کی اکثریت بھی ہمیشہ ان کوششوں کی پشت پناہی کرتی آ رہی ہے۔ تاہم بھارت میں ‘ہندوتوا’ کی سخت گیر سوچ مسلسل ان کوششوں کی راہ میں حائل رہی ہے۔
پاک بھارت تعلقات اس وقت تاریخ کی مشکل ترین سطح پر ہیں۔ سندھ طاس معاہدے پر تنازعات، سرحدی کشیدگی، دہشتگردی کے الزامات، سفارتی تعطل اور محدود ترین رابطوں کے اس گھمبیر ماحول میں دونوں ممالک کی 117 ممتاز شخصیات نے ایک اہم قدم اٹھایا ہے۔
ان تمام 117 شخصیات نے دونوں وزرائے اعظم کو ایک مشترکہ خط لکھ کر جامع امن مذاکرات شروع کرنے کی اپیل کی ہے، جس نے ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔اس امن اقدام پر بھارت کے بعض حکومتی حلقوں نے شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پاکستان اور بھارت کے درمیان جوہری تنصیبات کی فہرستوں کا تبادلہ
دوسری طرف پاکستان کے دفترِ خارجہ نے اس معاملے پر محتاط سفارتی مؤقف اپنایا اور اسے محض نجی شہریوں کی رائے قرار دیا۔
خط پر 61 بھارتی اور 56 پاکستانی ممتاز شخصیات نے دستخط کیے ہیں۔ پاکستان کی جانب سے سابق وزیرِ خارجہ خورشید محمود قصوری، سابق سیکریٹری خارجہ شمشاد احمد خان اور سابق سفارت کار اشرف جہانگیر قاضی سمیت متعدد نمایاں نام شامل ہیں۔
بھارت کی جانب سے بھی سابق اعلیٰ حکام اور مقبوضہ کشمیر کے سابق وزرائے اعلیٰ نے اس کی حمایت کی ہے۔ خط میں دونوں حکومتوں پر زور دیا گیا ہے کہ وہ کشیدگی کم کر کے جنوبی ایشیا کو مستقل تصادم کے بجائے امن اور تعاون کی طرف لے جائیں۔
کیا یہ خط کسی بڑی پیش رفت کا پیش خیمہ ہے؟
بین الاقوامی تعلقات کے ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ مشترکہ خط فوری طور پر پاک بھارت تعلقات میں کوئی بڑا بریک تھرو نہیں لا سکتا، تاہم اس کی علامتی اہمیت سے انکار ممکن نہیں کیا جا سکتا۔
مزید پڑھیں:کیا پاکستان اور بھارت کے درمیان برف پگھل رہی ہے؟ نصرت جاوید نے بڑی خبریں دے دیں
ایسے وقت میں جب سرکاری مذاکرات مکمل معطل ہیں، سابق وزرائے خارجہ، سفارت کاروں، دانشوروں اور سول سوسائٹی کی یہ مشترکہ پکار ثابت کرتی ہے کہ دونوں طرف امن کی خواہش رکھنے والی بااثر آوازیں اب بھی زندہ ہیں۔
ٹریک ٹو سفارت کاری اور ماضی کے تجربات
جنوبی ایشیا کی تاریخ گواہ ہے کہ کئی سفارتی پیش رفتوں کا آغاز سرکاری مذاکرات سے پہلے عوامی اور غیر سرکاری رابطوں یعنی ٹریک ٹو سفارت کاری کے ذریعے ہی ہوا تھا۔
1988 کا معاہدہ
واضح رہے کہ پاکستان اور بھارت دونوں ممالک کے درمیان جوہری تنصیبات پر حملہ نہ کرنے کے معاہدے کی فضا ماہرین اور غیر سرکاری سفارتی رابطوں نے تیار کی تھی۔
1999 کا لاہور اعلامیہ
اس تاریخی اعلامیے سے قبل بھی دونوں ملکوں کے دانشوروں، صحافیوں اور سابق سفارت کاروں کے درمیان متعدد غیر سرکاری مکالمے ہوئے تھے۔
2003-2004 کے مذاکرات
سال 2003 کی جنگ بندی اور 2004 میں جامع مذاکرات کی بحالی سے پہلے بھی تھنک ٹینکس، کاروباری شخصیات اور سول سوسائٹی کے درمیان مسلسل رابطے جاری تھے۔
اگرچہ یہ غیر سرکاری اقدامات براہِ راست معاہدوں کا سبب نہیں بنتے، لیکن یہ اعتماد سازی کا ماحول پیدا کرنے اور سیاسی قیادت کو مذاکرات کی میز پر لانے میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔
خط لکھنے والی اہم بھارتی شخصیات کون ہیں؟
بھارت کی جانب سے دستخط کرنے والوں میں مقبوضہ جموں کشمیر کے 3 سابق وزرائے اعلیٰ فاروق عبداللہ، عمر عبداللہ اور محبوبہ مفتی شامل ہیں۔
ان کے علاوہ سابق وزیرِ خارجہ یشونت سنہا، سابق مرکزی وزیر منی شنکر آیئر، ریٹائرڈ اعلیٰ فوجی و سول افسران، ممتاز صحافی اور انسانی حقوق کے کارکن بھی اس کا حصہ ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:پاکستان اور بھارت کے درمیان بات چیت کے دروازے کھلے ہیں، ترجمان دفتر خارجہ
ان شخصیات کا وزن اس لیے غیر معمولی ہے کیونکہ یہ مختلف سیاسی نظریات اور وسیع سرکاری تجربہ رکھتی ہیں۔ ان میں سے کئی لوگ ماضی میں بھارت کی خارجہ پالیسی، قومی سلامتی اور کشمیر جیسے حساس ترین معاملات پر براہِ راست فیصلہ ساز رہ چکے ہیں۔
ایسے بااثر بھارتی حلقوں کی جانب سے پاکستان کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کی اپیل یہ ثابت کرتی ہے کہ بھارت کے اندر بھی ایک مؤثر طبقہ مسلسل تصادم کے بجائے سفارت کاری کو ہی خطے کے استحکام کے لیے ناگزیر سمجھتا ہے۔
آخر کار جنوبی ایشیا کے 2 ایٹمی ہمسایوں کے درمیان پائیدار امن کا راستہ طاقت کے اظہار سے نہیں بلکہ مسلسل سفارت کاری، اعتماد سازی اور مذاکرات سے ہی نکل سکتا ہے اور یہ خط اسی سچائی کی ایک تازہ یاد دہانی ہے۔
دفترِ خارجہ کا محتاط مؤقف
گزشتہ دنوں ترجمان دفترِ خارجہ سے جب اس خط کے بارے میں سوال کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ یہ نجی شخصیات کی رائے ہے اس لیے حکومتِ پاکستان اس کی توثیق نہ ہی مخالفت کرتی ہے۔
سفارتی ماہرین کے مطابق پاکستان کا مؤقف بھلے ہی محتاط ہے لیکن اسلام آباد نے ہمیشہ امن اور ڈائیلاگ کی حمایت کی ہے۔
حکومت نے اس خط کی باقاعدہ توثیق نہ کرنے کے باوجود اسے مسترد بھی نہیں کیا۔ موجودہ حالات میں یہ رویہ ظاہر کرتا ہے کہ اختلافات اپنی جگہ، مگر مکالمے کا دروازہ مکمل طور پر بند نہیں ہونا چاہیے۔













