برطانیہ میں یوٹیوب الگورتھم تبدیل کرنے کی تجویز، آزادیٔ اظہار پر بحث چھڑ گئی

اتوار 5 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

برطانوی حکومت کو یوٹیوب کے الگورتھم میں مجوزہ تبدیلیوں کے منصوبے پر شدید تنقید کا سامنا ہے، جبکہ ناقدین کا کہنا ہے کہ ان اقدامات سے ریاست کی جانب سے آن لائن مواد پر اثر انداز ہونے کے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔

یہ تنازع برطانوی حکومت کی جانب سے کے عنوان سے عوامی مشاورت شروع کرنے کے اعلان کے بعد سامنے آیا، جس میں اس بات کا جائزہ لیا جا رہا ہے کہ عوام خبروں اور معلومات کے حصول کے لیے کس طرح ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کا رخ کر رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: برطانیہ میں 16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر مکمل پابندی کا اعلان

سرکاری نشریاتی اداروں اور چینلز، جن میں آئی ٹی وی، بی بی سی، چینل 4 اور چینل 5 شامل ہیں، نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ سوشل میڈیا کے الگورتھم معیاری صحافت کے مقابلے میں الگورتھم پر مبنی مواد کو زیادہ فروغ دے رہے ہیں۔

اسی تناظر میں برطانوی حکومت ٹک ٹاک اور یوٹیوب جیسے پلیٹ فارمز پر ان اداروں کے مواد کو زیادہ نمایاں کرنے کے مختلف طریقوں پر غور کر رہی ہے۔

حکومت کے مطابق اس اقدام کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ مستند اور قابلِ اعتماد خبریں شفاف انداز میں عوام تک پہنچ سکیں۔

تاہم ان تجاویز پر سوشل میڈیا پر شدید ردِعمل سامنے آیا ہے، یوٹیوب نے بھی اپنے مواد تخلیق کرنے والوں یعنی کونٹینٹ کریئیٹرز کو ایک پیغام جاری کرتے ہوئے خبردار کیا کہ مجوزہ قوانین ان کے مواد کی رسائی اور دریافت پر اثر ڈال سکتے ہیں۔

‘برطانیہ کے مجوزہ قوانین آپ کی فیڈ کو کنٹرول کر سکتے ہیں، یوٹیوب کو آپ کا اپنا رہنے دیں۔’

مزید پڑھیں: برطانیہ: سوشل میڈیا کمپنیوں کو بچوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کا سخت انتباہ

کمپنی نے کریئیٹرز سے کہا کہ وہ مجوزہ قوانین کے بارے میں مزید معلومات حاصل کریں اور حکومت کو اپنی رائے سے آگاہ کریں۔

یوٹیوب نے مزید کہا کہ اس کا پلیٹ فارم ہمیشہ اس اصول پر کام کرتا آیا ہے کہ ہر کریئیٹر کو ترقی کے مساوی مواقع ملیں۔

‘۔۔۔۔لیکن نئی تجاویز کے تحت بعض چینلز کو دوسروں پر فوقیت دینا لازم ہو سکتا ہے، جس سے دیگر تخلیق کاروں کے لیے اپنے ناظرین تک پہنچنا اور ترقی کرنا مشکل ہو جائے گا۔’

کمپنی کا کہنا ہے کہ اگر یہ تبدیلیاں نافذ ہوئیں تو اسے مرکزی دھارے کے میڈیا اداروں کو ترجیحی مقام دینا پڑے گا، جس کے نتیجے میں دیگر مواد تخلیق کرنے والوں کی رسائی محدود ہو سکتی ہے۔

مزید پڑھیں: یوٹیوب نے نیا زبردست فیچر متعارف کروا دیا

دوسری جانب سوشل میڈیا صارفین نے بھی ان تجاویز کو حکومت کی جانب سے عوامی بیانیے پر اثرانداز ہونے کی کوشش قرار دیتے ہوئے تنقید کی ہے۔

ایک صارف نے لکھا کہ آزادیوں اور آزادانہ سوچنے کی صلاحیت کو بتدریج محدود کیا جا رہا ہے، جس کا انجام تقسیم اور جبر کے سوا کچھ نہیں۔

ایک اور صارف نے تبصرہ کیا کہ اگر برطانوی حکومت کو اتنا ہی شوق ہے تو وہ اپنا الگ سوشل میڈیا پلیٹ فارم بنا لے اور دوسروں کے معاملات میں مداخلت نہ کرے، ایک تیسرے صارف نے اسے آزادیٔ اظہار پر ایک اور حملہ قراردیا۔

برطانوی حکومت نے عوامی مشاورت کے لیے تجاویز جمع کرانے کی آخری تاریخ 31 اگست مقرر کی ہے، جس کے لیے کریئیٹرز اور دیگر متعلقہ افراد سرکاری ویب سائٹ پر موجود رسپانس فارم کے ذریعے اپنی آرا جمع کرا سکتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp