یمن کی بندرگاہ حدیدہ کے قریب بحیرۂ احمر میں ایک مال بردار جہاز پر مسلح افراد کے حملے کی اطلاع ملی ہے، جس کے بعد خطے میں بحری جہاز رانی کی سلامتی سے متعلق خدشات ایک بار پھر شدت اختیار کر گئے ہیں۔ برطانوی بحری تجارتی آپریشنز مرکز کے مطابق واقعے کی تحقیقات جاری ہیں جبکہ فوری طور پر کسی گروہ نے حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔
امریکی خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق حملہ حدیدہ سے تقریباً 30 ناٹیکل میل (55 کلومیٹر) جنوب مغرب میں پیش آیا، جہاں جہاز کے عملے نے اطلاع دی کہ نامعلوم مسلح حملہ آوروں نے فائرنگ کر کے جہاز کو نشانہ بنایا۔ برطانوی حکام نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ تحقیقات جاری ہیں اور جہاز کے عملے کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے متعلقہ ادارے صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:وزیر بحری امور نے صومالی قزاقوں کے ہاتھوں ٹینکر اغوا پر رپورٹ طلب کر لی
یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغیوں کی جانب سے بحیرۂ احمر میں تجارتی جہازوں پر ممکنہ حملوں کی دھمکیاں پہلے ہی عالمی بحری تجارت کے لیے تشویش کا باعث بنی ہوئی ہیں، اگرچہ حالیہ حملے کی ذمہ داری ابھی تک کسی تنظیم نے قبول نہیں کی۔ ماہرین کے مطابق اس پیش رفت سے خطے میں بین الاقوامی جہاز رانی اور عالمی سپلائی چین پر نئے خدشات پیدا ہو سکتے ہیں۔














