سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی ایک نئی ویڈیو میں بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) کی چیف آرگنائزر ماہرنگ لانگو کے والد عبدالغفار لانگو کی قبر پر کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کا پرچم لہراتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔
عبدالغفار لانگو ماضی میں ایک عسکریت پسند رہنما رہے تھے۔ انہیں دہشتگردی کے ایک مقدمے میں انسداد دہشتگردی عدالت (اے ٹی سی) نے عمر قید کی سزا سنائی تھی، تاہم بعد ازاں بلوچستان میں کمزور استغاثہ کے باعث عدالت نے انہیں بری کر دیا تھا۔
رپورٹس کے مطابق عبدالغفار لانگو اندرونی اختلافات کے نتیجے میں کالعدم بلوچ لبریشن آرمی سے وابستہ عسکریت پسندوں کے ہاتھوں مارے گئے تھے، جبکہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کی جانب سے اس وقت یہ مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ ان کی ہلاکت ریاستی اداروں کے ہاتھوں ہوئی۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کالعدم بلوچ لبریشن آرمی پر متعدد دہشتگرد حملوں اور شہریوں کی ہلاکتوں کی ذمہ داری عائد کی جاتی ہے، ایسے میں عبدالغفار لانگو کی قبر پر اس تنظیم کا پرچم لہرانے کی ویڈیو بلوچ یکجہتی کمیٹی کے اس دعوے پر سوالات اٹھاتی ہے کہ وہ ایک پرامن انسانی حقوق کی تنظیم کے طور پر کام کر رہی ہے۔
رپورٹ کے مطابق انتہا پسند عناصر بلوچ یکجہتی کمیٹی کو ایک نرم محاذ (سافٹ فرنٹ) کے طور پر استعمال کرتے ہوئے قومی اور بین الاقوامی سطح پر رائے عامہ کو متاثر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، تاکہ اپنی دہشتگردانہ سرگرمیوں کے لیے ہمدردی اور گنجائش پیدا کی جا سکے۔














