وفاقی حکومت نے مالی سال 27-2026 کے دوران موسمی پیش گوئی کے نظام کو جدید بنانے اور قدرتی آفات سے نمٹنے کی صلاحیت میں اضافہ کرنے کے لیے محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) کے لیے 1.6 ارب روپے مختص کردیے ہیں۔
یہ فنڈز حکومت کے سالانہ منصوبہ 27-2026 کے تحت مختلف ترقیاتی منصوبوں اور پالیسی اقدامات پر خرچ کیے جائیں گے، جن کی تفصیلات گزشتہ ماہ جاری کی گئی تھیں۔
مختص کیے گئے فنڈز میں سے 344 ملین روپے مجوزہ نیشنل سینٹر فار رین فال انہانسمنٹ کے قیام کے لیے رکھے گئے ہیں۔ اس منصوبے کا مقصد آبی تحفظ کو مضبوط بنانا، موسمیاتی تبدیلیوں سے مطابقت پیدا کرنا اور زرعی پیداوار میں بہتری لانا ہے۔
مزید پڑھیں: کاکروچ سیلاب زدہ علاقوں میں انسانوں کو ریسکیو کریں گے، سائنسدانوں نے ڈائیونگ سوٹ بھی تیار کرلیا
اسی طرح ملتان اور سکھر میں موسم کی نگرانی کے لیے جدید ریڈار سسٹم نصب کرنے کے منصوبوں کے لیے بالترتیب 195 ملین اور 5 ملین روپے مختص کیے گئے ہیں تاکہ حقیقی وقت میں موسمی صورتحال کی نگرانی اور بروقت وارننگ جاری کرنے کی صلاحیت بہتر بنائی جا سکے۔
حکومت نے ہائیڈرومیٹ سروسز اِن پاکستان منصوبے کی جدیدکاری کے لیے ایک ارب روپے بھی مختص کیے ہیں۔ اس منصوبے کے تحت موسمیاتی اور آبیاتی مشاہداتی نظام کو اپ گریڈ کیا جائے گا، موسم کی پیش گوئی کی درستگی بڑھائی جائے گی اور موسمیاتی ڈیٹا کے نظام کو مزید مؤثر بنایا جائے گا۔
دوسری جانب وزارت موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی کے لیے آئندہ مالی سال میں مجموعی طور پر 2.48 ارب روپے رکھے گئے ہیں، جن کا بڑا حصہ جنگلات کے فروغ، حیاتیاتی تنوع کے تحفظ، شجرکاری اور قدرتی ماحولیاتی نظام کی بحالی پر خرچ کیا جائے گا۔
اہم منصوبوں میں پاکستان کلائمیٹ انوویشن اینڈ گرین گروتھ انیشی ایٹو بھی شامل ہے، جس کے ذریعے نوجوانوں کو ماحول دوست مہارتیں فراہم کرنے اور گرین انوویشن فنڈ کے ذریعے سبز معیشت سے متعلق کاروباری سرگرمیوں کی حوصلہ افزائی کی جائے گی۔
حکومت نے ریموٹ سینسنگ اور مشین لرننگ ٹیکنالوجی کی مدد سے نیشنل فاریسٹ اینڈ ٹری کور اسیسمنٹ کا منصوبہ بھی تیار کیا ہے، جس کا مقصد جنگلات کی مؤثر نگرانی اور بحالی کے منصوبوں کو بہتر بنانا ہے۔
گرین پاکستان پروگرام کے توسیعی مرحلے کے تحت اسلام آباد میں ماحولیاتی آلودگی کی نگرانی کے لیے پالیوشن لوڈ اسیسمنٹ نیٹ ورک قائم کیا جائے گا، وفاقی دارالحکومت میں ایک بوٹینیکل گارڈن بنایا جائے گا اور مارگلہ ہلز نیشنل پارک کے تحفظ کے لیے بھی خصوصی اقدامات کیے جائیں گے۔
حکومت نے موسمیاتی لحاظ سے موزوں زراعت، پانی کے مؤثر استعمال، قدرتی آفات کے خطرات میں کمی، ماحول دوست صنعتوں کے فروغ، سرکلر اکانومی اور مقامی کاربن مارکیٹ جیسے منصوبوں کو بھی آگے بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ پائیدار معاشی ترقی کو فروغ دیا جا سکے۔
سالانہ منصوبے میں کہا گیا ہے کہ پاکستان موسمیاتی تبدیلیوں سے پیدا ہونے والی قدرتی آفات کے بڑھتے ہوئے خطرات کا سامنا کر رہا ہے۔ 2010، 2011، 2014، 2022 اور 2025 میں آنے والے بڑے سیلابوں نے ملک بھر میں بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان پہنچایا، جبکہ بنیادی ڈھانچے اور لاکھوں افراد کے روزگار بھی متاثر ہوئے۔
منصوبے میں عالمی بینک کی 2022 کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ پاکستان کو سیلاب اور زلزلوں کے باعث ہر سال اوسطاً تقریباً 2 ارب ڈالر کا نقصان برداشت کرنا پڑتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق اگر مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو یہ نقصانات 2030 تک بڑھ کر 250 ارب ڈالر اور 2050 تک 1.2 کھرب ڈالر تک پہنچ سکتے ہیں، جبکہ کسی بڑے قدرتی سانحے کے سال میں ترجیحی شعبوں کو ہونے والا نقصان مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کے 30 فیصد تک جا سکتا ہے۔
رپورٹ میں موسمیاتی تبدیلیوں سے مطابقت پیدا کرنے اور قدرتی آفات سے نمٹنے کی تیاریوں کو مزید مضبوط بنانے پر زور دیا گیا ہے۔
دریں اثنا گزشتہ ماہ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی نے وزارت موسمیاتی تبدیلی کے پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) کے بجٹ میں کمی پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔
کمیٹی کو بتایا گیا تھا کہ وزارت کے لیے مختص رقم گزشتہ مالی سال کے 3.5 ارب روپے کے مقابلے میں کم ہو کر 2.48 ارب روپے رہ گئی ہے۔
مزید پڑھیں: پگھلتے گلیشیئرز و بار بار آنے والے سیلاب، سوات موسمیاتی بحران کی زد میں
قائمہ کمیٹی کی چیئرپرسن سینیٹر شیری رحمان نے موسمیاتی خطرات میں اضافے کے باوجود اس شعبے کے بجٹ میں کمی کو تشویشناک قرار دیا تھا۔
اعداد و شمار کے مطابق قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے مالی وسائل کے علاوہ تقریباً تمام موسمیاتی شعبوں میں گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں فنڈز کم کر دیے گئے ہیں۔ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کم کرنے کے لیے مختص رقم 603 ارب روپے سے گھٹا کر 124 ارب روپے کر دی گئی ہے، جبکہ موسمیاتی تبدیلی سے مطابقت پیدا کرنے کے منصوبوں کے لیے فنڈز 85 ارب روپے سے کم ہو کر 70 ارب روپے رہ گئے ہیں۔














