راستوں کی تلاش کے بعد گوگل میپس میں کھانا منگوانے کا فیچر متعارف کرائے جانے کی تیاریاں

اتوار 5 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

گوگل میپس، جو اب تک دنیا بھر میں راستوں کی رہنمائی اور منزل تک رسائی کے لیے سب سے مقبول ایپ کے طور پر استعمال ہوتا رہا ہے، مستقبل قریب میں اپنے صارفین کو کھانا آرڈر کرنے کی سہولت بھی فراہم کر سکتا ہے۔

معروف ٹیکنالوجی ویب سائٹ ’اینڈرائیڈ اتھارٹی‘ کی رپورٹ کے مطابق گوگل میپس کے اینڈرائیڈ ورژن کے تازہ ترین کوڈ میں ایک نئے اور انقلابی فیچر کے شواہد سامنے آئے ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ صارفین جلد ہی چیٹ کے ذریعے براہِ راست اپنی پسند کا کھانا آرڈر کر سکیں گے۔

اس اقدام سے نیویگیشن ایپ کی افادیت اور صارفین کے تجربے میں مزید کئی گنا اضافہ متوقع ہے۔

مصنوعی ذہانت پر مبنی ٹول کا استعمال

رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ یہ نیا فیچر گوگل میپس کے نئے مصنوعی ذہانت پر مبنی ٹول ’آسک میپس‘ کے ساتھ مربوط (انٹیگریٹ) ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں:گوگل میپس کی غلطی نے ٹورنٹو کی ایک سڑک پر ٹریفک کا نظام درہم برہم کردیا

اس جدید ٹول کے ذریعے صارفین نہ صرف مختلف مقامات، ریسٹورنٹس اور دیگر جگہوں کے بارے میں تفصیلی معلومات حاصل کر سکیں گے، بلکہ اے آئی بوٹ کے ساتھ گفتگو کے دوران ہی کھانے کا آرڈر دینے کا آپشن بھی دستیاب ہوگا۔

ابتدائی معلومات سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ یہ سہولت صارفین کو دورانِ سفر بغیر کسی پریشانی کے کھانا آرڈر کرنے میں مدد دے گی۔

ڈرائیو اَپ سروس اور خود کار طریقے سے کھانا وصول کرنے کی سہولت

ایپ کے کوڈ میں موجود مختلف ڈیجیٹل بٹن اور دیگر عناصر اس بات کی واضح نشاندہی کرتے ہیں کہ گوگل کی ٹیکنیکل ٹیم اس فیچر کی تیاری پر تیزی سے کام کر رہی ہے۔

کوڈ کے اندر ’ڈرائیو اَپ‘ سروس کا بھی خصوصی ذکر پایا گیا ہے، جس کے تحت صارفین آن لائن آرڈر کیے گئے کھانے کو مقررہ ریسٹورنٹ یا مقام پر پہنچ کر اپنی گاڑی سے اترے بغیر خود وصول کر سکیں گے۔

مزید پڑھیں:گوگل میپس کی سیٹنگز اسکرین نئے ڈیزائن کے ساتھ متعارف

چند ہفتے قبل گوگل نے اپنی ایک آفیشل بلاگ پوسٹ میں بھی اس بات کا عندیہ دیا تھا کہ مستقبل میں گوگل میپس کے اندر ہی کھانا منگوانے کی سہولت مستقل بنیادوں پر متعارف کرائی جائے گی۔

باضابطہ لانچنگ اور دستیابی کی تاریخ کا انتظار

ٹیکنالوجی ماہرین کا کہنا ہے کہ گوگل کا یہ فیچر فوڈ ڈیلیوری مارکیٹ میں دیگر بڑی ایپس کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے کیونکہ صارفین کو اب ایک ہی پلیٹ فارم پر لوکیشن سروس اور فوڈ ڈیلیوری دونوں مل جائیں گی۔

 تاہم گوگل کی انتظامیہ کی جانب سے اس نئے فیچر کی باضابطہ لانچنگ یا مختلف ممالک میں اس کی دستیابی کی حتمی تاریخ کا ابھی تک کوئی اعلان سامنے نہیں آیا، لیکن قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں کہ اسے جلد ہی آزمائشی بنیادوں پر چند مخصوص خطوں میں پیش کر دیا جائے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

معرکہ حق میں پاکستان سے شکست کے بعد مودی بوکھلاہٹ کا شکار، پروپیگنڈے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا، خواجہ آصف

سمندر کی گہرائیوں میں چھپے راز، سائنسدانوں نے گھوسٹ شارک کی نئی نسل دریافت کر لی

پاکستان کو اب معرکہ معیشت جیتنا ہے، احسن اقبال کی امریکا میں مقیم پاکستانی کمیونٹی کو سرمایہ کاری کی دعوت

موسمی پیش گوئی اور قدرتی آفات سے نمٹنے کی تیاری، محکمہ موسمیات کے لیے 1.6 ارب روپے مختص

عامر گیلانی کی 30ویں سالگرہ، یاد گار لمحات مداحوں کے ساتھ شیئر

ویڈیو

پاکستان اور ترکیہ معاشی شراکت داری کو نئی بلندیوں تک لے جائیں گے، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار

’بھارت نے پانی روکا تو پاکستان بھارت کی لائف لائن بند کر دے گا‘

’مریم کی دستک‘ ایپ کیا ہے اور اس کے ساتھ کتنے ادارے منسلک ہیں؟

کالم / تجزیہ

ریڈیو کا روشن باب: بھائی لال اور اوم پرکاش

بریسٹ کینسر: خوف نہیں، آگاہی کی ضرورت

بھارتی آبی دہشتگردی کا پاکستان کیسے جواب دے؟