ایکشن کمیٹی ہائی جیک ہوچکی، سرینڈر کرنے علاوہ اب کوئی آپشن نہیں، آزاد کشمیر حکومت

پیر 6 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سیکریٹری اطلاعات آزاد کشمیر محمد راشد حنیف نے کہا کہ کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی نے پرتشدد کارروائیوں کے ذریعے آزاد کشمیر کا امن تباہ کرنے کی کوشش کی، گزشتہ ایک ماہ کے دوران ریاست کو مجموعی طور پر 15 ارب روپے کا نقصان پہنچا، جبکہ عوامی حقوق کی تحریک کو شرپسند اور ذیلی قوم پرست عناصر نے ہائی جیک کرلیا ہے۔

پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سیکریٹری اطلاعات آزاد کشمیر راشد حنیف نے کہا کہ عوام کو یہ تاثر دیا جارہا ہے کہ اگر ہڑتال کی کال ناکام ہوئی تو ان سے بنیادی حقوق اور حکومتی مراعات چھین لی جائیں گی، حالانکہ حکومت آزاد کشمیر پہلے ہی عوام کو سستا آٹا اور سستی بجلی فراہم کرنے کے لیے بڑی سبسڈی دے چکی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم آزاد کشمیر نے کالعدم ایکشن کمیٹی کے رہنماؤں کو عام معافی دینے کا امکان مسترد کردیا

محمد راشد حنیف کے مطابق کالعدم ایکشن کمیٹی انتخابات میں خلل ڈالنے کی ناکام کوشش کررہی ہے، جو جمہوری عمل پر براہ راست حملہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ کمیٹی یہ دعویٰ کرتی ہے کہ وہ پاکستان اور مسلح افواج کے خلاف نہیں، تاہم اس کے رہنما اپنی تقاریر میں عوام کو اکساتے اور پاک فوج کے جوانوں کو بغاوت پر آمادہ کرنے کی بات کرتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ کالعدم تنظیم نے سول نافرمانی پر اکسانے کے لیے خود کو کبھی رجسٹرڈ نہیں کروایا، جبکہ ماضی کے پرتشدد واقعات کی بنیاد پر اسے کالعدم قرار دیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ کمیٹی امجد ایوب مرزا جیسے ملک دشمن عناصر سے مدد لے رہی ہے، جو بھارتی فنڈنگ سے یورپ میں کشمیریوں کو پاکستان کے خلاف استعمال کررہا ہے۔

سیکریٹری اطلاعات نے بتایا کہ کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کے سرغنوں اور شرپسند عناصر کے خلاف 79 ایف آئی آرز درج ہیں۔ ان کے مطابق 5 جولائی کی ہڑتال کی کال عوام اور تاجروں نے مکمل طور پر مسترد کردی کیونکہ کشمیر کے عوام معاشی ریلیف چاہتے ہیں، بدامنی نہیں۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ پونچھ اور سدھنوتی کے عوام میں خوف و ہراس پھیلایا گیا، نوجوانوں کے ہاتھوں سے قلم چھین کر ڈنڈے تھما دیے گئے، جبکہ جلسوں اور دھرنوں میں ریاست اور فوج مخالف نعرے لگائے گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ کمیٹی کے رہنما آزاد کشمیر کو الگ ریاست بنانے کی بات کرتے ہیں، پاکستانی سیکیورٹی فورسز کو غیرملکی فورسز قرار دیتے ہیں اور منگلا سے بجلی کی ترسیل روکنے کی دھمکیاں دیتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: آزاد کشمیر: کالعدم ایکشن کمیٹی کے 400 سے زیادہ افراد کے نام فورتھ شیڈول میں شامل کرنے کا فیصلہ

محمد راشد حنیف نے دعویٰ کیا کہ مئی 2023 میں شرپسند جتھوں نے اسسٹنٹ کمشنر ڈڈیال کے دفتر پر حملہ کر کے سرکاری گاڑی نذر آتش کی، اسلام گڑھ میں سب انسپکٹر عدنان قریشی کو گولی مار کر شہید کیا گیا، اے سی کھوئی رٹہ کی گاڑی جلائی گئی اور سیکیورٹی اہلکاروں سے اسلحہ چھینا گیا۔

انہوں نے کہا کہ نومبر 2024 میں اسلام آباد پولیس اہلکاروں کو یرغمال بنا کر ان کی وردیاں اتاری گئیں اور پلاک میرپور میں انہیں تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ چمیاٹی دھیرکوٹ میں اسسٹنٹ کمشنر امجد قادر پر خنجر سے حملہ کر کے قتل کی کوشش کی گئی، جبکہ ایس پی باغ ریاض مغل سمیت دیگر اہلکاروں کو یرغمال بنا کر تشدد کیا گیا۔

دھیرکوٹ میں فائرنگ سے تین پولیس اہلکار اور دو شہری شہید ہوئے، راستے بند کرنے کے لیے سینکڑوں درخت کاٹے گئے اور ہجیرہ میں جبراً بازار بند کرا کے اشیائے خورد و نوش سے بھرے ٹرک لوٹے گئے۔

انہوں نے مزید کہا کہ سرغنہ عمر نذیر نے دکانداروں کو کھلے عام دھمکیاں دیں، مسجدوں کو اعلانات کے لیے استعمال کیا گیا اور سوشل میڈیا پر غزہ اور مقبوضہ کشمیر کی پرانی تصاویر شیئر کر کے حکومت مخالف بیانیہ بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے عوام پر زور دیا کہ وہ خبروں کی تصدیق صرف مستند ذرائع سے کریں۔

سیکرٹری اطلاعات نے الزام عائد کیا کہ کالعدم کمیٹی کے کارندے چندہ جمع کر کے منشیات اور ہتھیار اکٹھے کر رہے ہیں، خواتین، بچوں اور طلبہ کو ڈھال کے طور پر استعمال کیا جارہا ہے، جبکہ یکم جولائی 2026 کو سنگولہ بازار میں طارق نذیر اور مصطفیٰ نذیر پر تشدد کیا گیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ 4 جولائی کی فائرنگ سے متعلق سوشل میڈیا پر پھیلایا گیا پروپیگنڈا جھوٹا تھا اور مصنوعی ذہانت کے ذریعے تیار کیا گیا۔

’کالعدم کمیٹی کے کارندے نجی گاڑیاں روک کر شہریوں کے شناختی کارڈ چیک کرتے اور سرکاری ملازمین پر تشدد کرتے رہے‘

اس موقع پر ترجمان آزاد کشمیر پولیس ڈی آئی جی عرفان مسعود کشفی نے کہا کہ کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کے جتھوں نے متعدد مقامات پر راشن سے بھرے ٹرک لوٹے، جس کے باعث ڈرائیور آزاد کشمیر آنے سے گریز کر رہے ہیں، تاہم تمام راستے جلد کھول دیے جائیں گے۔

یہ بھی پڑھیں: کالعدم ایکشن کمیٹی کا گھناؤنا چہرہ بے نقاب، کیا خوفناک مطالبہ کیا گیا تھا؟

انہوں نے کہا کہ سی ایم ایچ راولاکوٹ میں مریضوں اور زخمی اہلکاروں کی بے حرمتی کشمیر کی پرامن روایات پر سیاہ دھبہ ہے۔ ان کے مطابق راولاکوٹ میں پولیس اہلکاروں پر فائرنگ سے3 اہلکار شہید ہوئے، جبکہ 7 جون کو سی ایم ایچ کا گیٹ کھلوانے اور یرغمال عملے کی بازیابی کے لیے کیے گئے آپریشن کے بارے میں سوشل میڈیا پر جھوٹا پروپیگنڈا کیا گیا۔

ڈی آئی جی عرفان مسعود کشفی نے دعویٰ کیا کہ ہجیرہ میں سڑکوں کی بندش کے باعث طبی امداد نہ ملنے سے 3 خواتین جاں بحق ہوئیں، جن میں 2 زچگی کے کیسز اور ایک عارضہ قلب کی مریضہ شامل تھی۔ ان کے مطابق کالعدم کمیٹی کے کارندے نجی گاڑیاں روک کر شہریوں کے شناختی کارڈ چیک کرتے اور سرکاری ملازمین پر تشدد کرتے رہے۔

انہوں نے کہا کہ والدہ کے جنازے میں جانے والے اسلام آباد پولیس کے ایک اے ایس آئی اور والد کے انتقال کے بعد ڈیوٹی پر واپس جانے والے دوسرے اہلکار کو بھی راستے میں روک کر تشدد کا نشانہ بنایا گیا، جبکہ ایک اہلکار سے اسلحے کے زور پر اداروں کے خلاف اور کالعدم کمیٹی کے حق میں ویڈیو بیان بھی ریکارڈ کرایا گیا۔

ترجمان پولیس نے مزید بتایا کہ گزشتہ ایک ماہ کے دوران 17 احتجاجی کارندوں کے قبضے سے مہلک ہتھیار اور کیلوں والے ڈنڈے برآمد کیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ 4 جولائی کو قانون نافذ کرنے والے اداروں پر اندھا دھند فائرنگ کے دعوے بے بنیاد ہیں اور اگر ایسی کوئی فائرنگ ہوئی تو اس کی مستند فوٹیج پیش کی جائے۔

یہ بھی پڑھیں: کالعدم ایکشن کمیٹی بیرونی ایجنڈے پر، سیکیورٹی اہلکاروں پر حملے، کال بھی لیک ہوگئی

 ان کے مطابق 4 جولائی کو سنائی دینے والی فائرنگ کی آوازیں ہجوم میں موجود مسلح افراد کی تھیں، جن کے بارے میں پہلے ہی الرٹ جاری کیا جاچکا تھا۔

انہوں نے کہا کہ 5 جولائی کو ڈڈیال میں خواجہ مہران کی ایماء پر مسلح جتھوں نے پولیس پر فائرنگ کی، جس سے 5 سیکیورٹی اہلکار زخمی ہوئے۔ ان کا کہنا تھا کہ کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کی قیادت کے پاس اب واحد راستہ یہی ہے کہ وہ خود کو قانون کے حوالے کرے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp