عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ صحت مند رہنے اور وزن کو متوازن رکھنے کے لیے صرف کیلوریز کی تعداد اہم ہوتی ہے تاہم نئی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ صرف یہ دیکھنا کافی نہیں کہ ہم کیا کھاتے ہیں بلکہ یہ بھی اہم ہے کہ ہم کب، کتنی رفتار سے اور کس انداز میں کھانا کھاتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: صحت بخش غذا کھانے کے لیے خود کو دھوکا دینے کے چند آسان طریقے
بی بی سی کی ایک ویڈیو رپورٹ کے مطابق ماہرین کا کہنا ہے کہ کھانے کے اوقات، کھانا کھانے کی رفتار اور یہاں تک کہ ایک لقمے کو کتنی بار چبایا جاتا ہے یہ تمام عوامل اس بات پر اثرانداز ہو سکتے ہیں کہ ہمارا جسم خوراک سے کتنی توانائی حاصل کرتا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ روایتی طور پر وزن کو قابو میں رکھنے کے لیے ’کیلوریز اندر، کیلوریز باہر‘ کے اصول کو بنیادی اہمیت دی جاتی رہی ہے یعنی جتنی توانائی ہم خوراک سے حاصل کرتے ہیں اتنی ہی جسمانی سرگرمی کے ذریعے خرچ کرنا ضروری سمجھا جاتا ہے۔ تاہم سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ یہ تصور مکمل تصویر پیش نہیں کرتا۔
مزید پڑھیے: ماں بننے کا سفر یا ذہنی جنگ؟ حمل کے دوران غذائی امراض کی پوشیدہ حقیقت
ماہرین کے مطابق تمام کیلوریز جسم پر یکساں اثرات مرتب نہیں کرتیں۔ خوراک کے استعمال کا وقت، کھانے کی رفتار اور کھانے کو اچھی طرح چبانا، ہاضمے کے عمل اور جسم کی توانائی استعمال کرنے کی صلاحیت کو متاثر کر سکتا ہے۔
تحقیق سے یہ بھی ظاہر ہوا ہے کہ آہستہ آہستہ اور اچھی طرح چبا کر کھانا کھانے سے نہ صرف ہاضمہ بہتر ہو سکتا ہے بلکہ انسان کم مقدار میں کھا کر بھی زیادہ سیر محسوس کر سکتا ہے جس سے وزن کو متوازن رکھنے میں مدد مل سکتی ہے۔
مزید پڑھیں: لیبلنگ کے اثرات: ہماری غذا ہمارے ہی خلاف کیسے کام کر رہی ہے؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ صحت مند طرز زندگی کے لیے صرف خوراک کی مقدار پر توجہ دینا کافی نہیں بلکہ کھانے کے اوقات، عادات اور مجموعی طرز زندگی کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہے۔














