امریکا کا فیفا ورلڈ کپ 2026 میں ایک نئی تاریخ رقم کرنے کا خواب پری کوارٹر فائنل میں دم توڑ گیا، جہاں بیلجیم نے یکطرفہ انداز میں 1-4 سے کامیابی حاصل کر کے میزبان ٹیم کو ٹورنامنٹ سے باہر کر دیا۔
یہ شکست صرف ایک میچ کی ہار نہیں بلکہ گزشتہ چند روز سے جاری تنازعات، توقعات اور دباؤ کا بھی اختتام ثابت ہوئی۔
امریکی ٹیم اپنے اسٹار فارورڈ فولارن بالوگن کے ریڈ کارڈ کی منسوخی کے تنازع کے بعد شدید تنقید کی زد میں تھی، تاہم کوچ موریسیو پوچیٹینو نے انہیں ایک مرتبہ پھر ابتدائی لائن اپ میں شامل کیا۔
یہ بھی پڑھیں: اسپین نے پرتگال کو شکست دے کر کوارٹر فائنل میں جگہ بنا لی
میچ کے آغاز ہی سے بیلجیم نے جارحانہ انداز اپنایا, 8ویں منٹ میں ہی امریکی دفاع کو خطرے کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ چند ہی لمحوں بعد لیانڈرو ٹروسارڈ کی عمدہ موو پر نکولس راسکن نے گیند چارلس ڈی کیٹیلایر کو دی، جنہوں نے آسانی سے گول کر کے اپنی ٹیم کو برتری دلائی۔
امریکی شائقین کو امید اس وقت ملی جب مالک ٹل مین نے ایک شاندار فری کک کے ذریعے مقابلہ 1-1 سے برابر کر دیا، گیند دفاع سے معمولی انحراف کے بعد گول کیپر تھیبو کورتوا کو چکمہ دیتے ہوئے جال میں جا پہنچی۔
اس گول کے ساتھ ٹل مین ایک ہی ورلڈ کپ میں 2 براہ راست فری ککس پر گول کرنے والے تاریخ کے صرف دوسرے کھلاڑی بن گئے۔
https://Twitter.com/dailyfootvibes/status/2074292499909398593
تاہم یہ خوشی زیادہ دیر برقرار نہ رہ سکی، بیلجیم نے فوری ردعمل دیتے ہوئے دوبارہ برتری حاصل کر لی، جب ٹروسارڈ کے کراس پر ڈی کیٹیلایر نے عمدہ ہیڈر کے ذریعے دوسرا گول داغ دیا۔
دوسرے ہاف میں امریکی کوچ نے جیو رینا کو میدان میں اتار کر واپسی کی کوشش کی، مگر 57ویں منٹ میں گول کیپر میٹ فریز کی ایک سنگین غلطی نے امریکی امیدوں پر پانی پھیر دیا۔
فریز لمبی گیند پر غیر ضروری طور پر اپنے علاقے سے باہر نکلے، گیند کو کلیئر کرنے میں ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کیا اور ہانس واناکن نے خالی گول میں گیند پہنچا کر اسکور 3-1 کر دیا۔
مزید پڑھیں: ریڈ کارڈ سے صدارتی فون کال تک، فیفا ورلڈ کپ کا انوکھا تنازع
میچ کے آخری لمحات میں متبادل کھلاڑی رومیلو لوکاکو نے چوتھا گول کر کے امریکی واپسی کے تمام امکانات ختم کر دیے۔
آخری سیٹی بجتے ہی امریکی کھلاڑی مایوسی سے میدان میں گر گئے جبکہ کئی کھلاڑیوں کی آنکھوں میں آنسو بھی دیکھے گئے۔
میچ کے بعد امریکی کوچ موریسیو پوچیٹینو نے اعتراف کیا کہ ان کی ٹیم اپنی حقیقی صلاحیت کے مطابق کھیل پیش نہیں کر سکی۔

’ابتدا ہی سے ہمارا کھیل سے رابطہ نہیں بن سکا، گول کرنے کے فوراً بعد ہم پر دوبارہ گول ہوگیا۔ بیلجیم بہتر ٹیم تھی اور ہم وہ کھیل نہیں دکھا سکے جس کی اس ٹیم سے توقع کی جا رہی تھی۔‘
اس شکست کے ساتھ امریکا کی ورلڈ کپ مہم آخری 16 کے مرحلے پر اختتام پذیر ہو گئی، جبکہ بلجیئم اعتماد کے ساتھ کوارٹر فائنل میں پہنچ گیا۔













