سانحہ گل پلازہ: کن وجوہ کی بنا پر چالان تیسری بار جمع کرانا پڑا؟

منگل 7 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

رواں برس 17 جنوری کو کراچی کے گل پلازہ میں رونما ہونے والے خوفناک آتش زدگی کے سانحے میں 70 سے زائد افراد جاں بحق ہوئے، جبکہ سینکڑوں تاجروں کا کروڑوں روپے مالیت کا سامان جل کر خاکستر ہوگیا اور ان کا روزگار شدید متاثر ہوا۔

اس سانحے کے بعد درج مقدمے کی تفتیش تاحال مکمل نہیں ہو سکی، اور تفتیشی حکام اس کا چالان اب تک 3 مرتبہ عدالت میں جمع کرا چکے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: سانحہ گل پلازہ : صدر گل پلازہ تنویر پاستا اور یونین صدر سمیت دیگر آتشزدگی کے ذمہ دار قرار

ہر بار قانونی اور تکنیکی اعتراضات کے باعث چالان میں ترمیم کرنا پڑی، جس سے مقدمے کے التوا اور نظامِ تفتیش کی کارکردگی پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔

وکیلِ سرکار سراج میمن کا کہنا ہے کہ یہ ایک حساس نوعیت کا مقدمہ ہے، اس لیے اس کے ہر پہلو کا انتہائی احتیاط سے جائزہ لینا ضروری تھا۔

ان کے مطابق ابتدائی طور پر جمع کرائے گئے چالان میں استغاثہ کی جانب سے عائد کردہ الزامات کو ثابت کرنے کے لیے ٹھوس شواہد اور گواہوں کے بیانات کی کمی تھی۔

عدالت نے انہی خامیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے چالان پر اعتراضات عائد کیے اور اسے ترمیم کے لیے واپس بھیج دیا۔

تکنیکی اور فورینزک رپورٹس میں تضاد

آگ لگنے کی حتمی وجہ، یعنی شارٹ سرکٹ، غفلت یا تخریب کاری، کے حوالے سے فائر بریگیڈ، الیکٹرک انسپکٹرز اور فورینزک لیبارٹری سمیت مختلف اداروں کی رپورٹس میں واضح تضاد پایا گیا۔

ان متضاد رپورٹس کو یکجا کرنے اور حتمی نتیجے پر پہنچنے کے لیے چالان کو متعدد بار ازسرِنو مرتب کرنا پڑا۔ دوسری جانب چالان میں عمارت کے مالکان، انتظامیہ اور متعلقہ سرکاری اداروں کے افسران کے انفرادی کردار اور مبینہ غفلت کو قانون کے مطابق واضح انداز میں بیان نہیں کیا گیا تھا، جس پر قانونی ماہرین اور عدالت نے اعتراضات اٹھائے۔

تاخیر کے بنیادی اسباب

چالان میں تاخیر کے ضمن میں وکیل عثمان فاروق نے بتایا کہ سرکاری محکموں کی سستی اور عدم تعاون ایک معمول بنتا جا رہا ہے۔

ان کے مطابق کسی بھی مقدمے میں الیکٹرک انسپکٹریٹ، سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی اور فائر بریگیڈ جیسے اداروں سے مطلوبہ دستاویزات اور تکنیکی آرا کے حصول میں کئی کئی ماہ لگ جاتے ہیں، جس کے باعث تفتیشی عمل غیر ضروری طور پر سست ہو جاتا ہے۔

 

سابق ایڈیشنل ڈسٹرکٹ پبلک پروسیکیوٹر خیر محمد خٹک کا کہنا ہے کہ جب بھی تفتیشی افسر چالان جمع کراتا، پروسیکیوشن برانچ اس میں موجود قانونی خامیوں اور دفعات کی غلط تشریح کی نشاندہی کرکے اسے دوبارہ تفتیشی افسر کے پاس بھیج دیتی، تاکہ عدالت میں مقدمہ کمزور نہ پڑے۔

ان کے مطابق چالان کے ساتھ ایک اسکروٹنی نوٹ بھی منسلک کیا جاتا ہے، جس میں تمام خامیوں کی نشاندہی کی جاتی ہے تاکہ انہیں دور کرکے چالان دوبارہ جمع کرایا جا سکے۔

ناقص چالان سے متاثرہ مقدمات

یہ پہلا موقع نہیں کہ کراچی میں کسی بڑے سانحے کی تفتیش یا چالان میں اس نوعیت کی تاخیر یا خامیاں سامنے آئی ہوں۔

ستمبر 2012 میں پیش آنے والے اس ہولناک سانحے میں بھی ابتدائی چالان شارٹ سرکٹ اور غفلت کے تناظر میں جمع کرایا گیا تھا۔

مزید پڑھیں: سندھ کابینہ کا اجلاس: متاثرین گل پلازہ کو معاوضوں کی ادائیگی کے لیے 7 ارب روپے کی منظوری

بعد ازاں مشترکہ تحقیقاتی ٹیم یعنی جے آئی ٹی کی رپورٹس اور بھتہ خوری و دہشتگردی سے متعلق شواہد سامنے آنے پر چالان میں کئی بار تبدیلیاں کرنا پڑیں، جس کے باعث مقدمے کے فیصلے میں برسوں لگ گئے۔

2017 میں شارع فیصل پر واقع ریجنٹ پلازہ ہوٹل میں آتشزدگی کے واقعے میں بھی سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی اور ہوٹل انتظامیہ کی مبینہ غفلت کے حوالے سے چالان کی تیاری میں طویل تاخیر ہوئی، جبکہ ناقص تفتیش کے باعث ملزمان کو ابتدائی مراحل میں ہی قانونی ریلیف مل گیا۔

تجارتی مراکز میں آتشزدگی کے دیگرواقعات

ماضی قریب میں راشد منہاس روڈ اور صدر کے مختلف تجارتی مراکز میں لگنے والی آگ کے مقدمات میں بھی فائر سیفٹی آڈٹ رپورٹس اور چالان کی تیاری میں اسی نوعیت کی تاخیر دیکھنے میں آئی، جس کے باعث آج تک ذمہ داران کو منطقی انجام تک نہیں پہنچایا جا سکا۔

ماہرِ قانون خیر محمد خٹک کے مطابق سانحہ گل پلازہ کا چالان تیسری بار عدالت میں جمع ہونا اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ پولیس کا شعبۂ تفتیش ابھی تک جدید تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں ہو سکا۔

مزید پڑھیں: سانحہ گل پلازہ کے متاثرہ تاجروں کے لیے 300 عارضی دکانوں کا قیام

ان کا کہنا ہے کہ جب تک تکنیکی نوعیت کے مقدمات میں سائنسی بنیادوں پر تفتیش کو فروغ نہیں دیا جائے گا، اس وقت تک چالان اسی طرح تاخیر کا شکار ہوتے رہیں گے اور متاثرین انصاف کے حصول کے لیے دربدر ٹھوکریں کھانے پر مجبور رہیں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp