امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اٹلی کی وزیراعظم جارجیا میلونی کے درمیان حالیہ جی 7 سربراہی اجلاس کے دوران پیدا ہونے والے تنازع نے ایک بار پھر شدت اختیار کرلی ہے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جی 7 اجلاس کے دوران جارجیا میلونی کے ساتھ اپنی ایک تصویر شیئر کی، جس پر نمایاں الفاظ میں Restraining order needed درج تھا، (دور رکھنے کے لیے عدالتی حکم کی ضرورت ہے)۔
مزید پڑھیں:ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان پر اٹلی برہم، وزیر خارجہ نے امریکا کا دورہ منسوخ کر دیا
ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ واضح نہیں کیا کہ ان کا اشارہ کس جانب تھا، تاہم سوشل میڈیا صارفین کی بڑی تعداد نے اسے اطالوی وزیراعظم پر طنز قرار دیا۔ بعض مبصرین نے اسے گزشتہ ماہ سامنے آنے والے اس تنازع کا تسلسل بھی قرار دیا، جب ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ میلونی نے جی 7 اجلاس میں ان کے ساتھ تصویر بنوانے کے لیے اصرار کیا تھا۔
یہ تنازع فرانس کے شہر ایویان لی بینز میں منعقدہ جی 7 سربراہی اجلاس کے بعد سامنے آیا، جہاں امریکی صدر، اطالوی وزیراعظم اور دیگر عالمی رہنماؤں کے ساتھ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی بھی شریک تھے۔
TRUMP: Posts image reading “RESTRAINING ORDER NEEDED” over Trump and Giorgia Meloni photo pic.twitter.com/D61h4J5yWt
— Trump Truths (@trumptruthsbot) July 5, 2026
ٹرمپ نے ایک تقریب کے دوران دعویٰ کیا تھا کہ جارجیا میلونی ان کے ساتھ تصویر بنوانے کی خواہش مند تھیں اور انہوں نے محض ’ترس کھا کر‘ اس کی اجازت دی۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ میلونی خوش ہوں گی کہ انہیں ان سے بات کرنے کا موقع ملا، کیونکہ وہ ایسا کرنے کے پابند نہیں تھے۔
اطالوی وزیراعظم نے ٹرمپ کے ان بیانات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے انہیں مکمل طور پر من گھڑت قرار دیا تھا۔ جارجیا میلونی نے کہا تھا کہ انہیں امریکی صدر کے بیانات پر شدید حیرت ہوئی ہے۔ ان کے بقول، ’ایک بات انہیں یاد رکھنی چاہیے کہ اٹلی اور میں کسی سے بھیک نہیں مانگتے۔‘
میلونی نے یہ بھی افسوس ظاہر کیا تھا کہ ٹرمپ اپنے اتحادیوں کے مقابلے میں مغرب کے مخالف رہنماؤں کے بارے میں نسبتاً نرم رویہ اختیار کرتے ہیں۔
مزید پڑھیں:اطالوی وزیرِ خارجہ کا ٹرمپ کے بیان پر امریکا کا دورہ منسوخ، سفارتی کشیدگی میں اضافہ
اس تنازع کے سفارتی اثرات بھی سامنے آئے تھے، جب اٹلی کے وزیر خارجہ انتونیو تاجانی نے گزشتہ ماہ اپنا طے شدہ امریکی دورہ منسوخ کر دیا تھا۔
حالیہ مہینوں میں ٹرمپ اور میلونی کے تعلقات میں واضح کشیدگی دیکھی گئی ہے۔ ایک وقت میں ٹرمپ کی حامی سمجھی جانے والی اطالوی وزیراعظم نے بعد ازاں ایران تنازع اور پوپ لیو سے متعلق امریکی صدر کے بیانات سمیت مختلف معاملات پر کھل کر تنقید کی، جس کے جواب میں ٹرمپ نے بھی ان پر متعدد مرتبہ تنقیدی حملے کیے۔














