وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال نے کہا ہے کہ پاکستان طبی تحقیق میں عالمی اداروں کے ساتھ تعاون کا خواہاں ہے تاکہ ملک میں ابھرنے والے طبی اداروں کو بین الاقوامی معیار سے ہم آہنگ بنایا جاسکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال نے اپنے دورہ اامریکا کے دوران یونیورسٹی آف الینوائے شکاگو کا دورہ کیا، جہاں پاکستان اور اامریکا کے درمیان طبی تعلیم، تحقیق اور صحت کے شعبے میں مستقبل کے تعاون کے امکانات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: خواہش ہے کہ ’پی کے ایل آئی‘ پاکستان کی پہچان بنے: شہباز شریف
دورے کے دوران وفاقی وزیر نے یونیورسٹی کے پرووسٹ، وائس پرووسٹ اور فیکلٹی آف میڈیسن کے ڈین سے ملاقات کی۔
اس موقع پر وزیراعظم کے مجوزہ جناح میڈیکل کمپلیکس اینڈ ریسرچ سینٹر اور پاکستان کڈنی اینڈ لیور انسٹیٹیوٹ اینڈ ریسرچ سینٹر کے درمیان مستقبل میں ادارہ جاتی تعاون کے امکانات کا جائزہ لیا گیا۔ گفتگو میں طبی تعلیم، جدید طبی تحقیق، اختراع، علاج معالجے کی نئی ٹیکنالوجی اور ادارہ جاتی روابط کے فروغ پر خصوصی توجہ دی گئی۔

احسن اقبال نے کہا کہ حکومت پاکستان جدید طبی سہولیات کی فراہمی کے ساتھ عالمی معیار کے تعلیمی اور طبی اداروں کے ساتھ مضبوط شراکت داری قائم کرنے کے لیے پُرعزم ہے تاکہ جناح میڈیکل کمپلیکس اینڈ ریسرچ سینٹر کو خطے کے نمایاں طبی مراکز میں شامل کیا جاسکے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کڈنی اینڈ لیور انسٹیٹیوٹ روبوٹک سرجری سمیت جدید طبی سہولیات کی جانب تیزی سے پیشرفت کررہا ہے اور پاکستان اس شعبے میں یونیورسٹی آف الینوائے شکاگو کے تجربے اور مہارت سے فائدہ اٹھانا چاہتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ’پی کے ایل آئی‘ کی بڑی کامیابی، عالمی ٹرانسپلانٹ مراکز کی صف میں شامل
اس موقع پر انہوں نے پی کے ایل آئی کے صدر پروفیسر ڈاکٹر سعید اختر کو آن لائن ذرائع سے یونیورسٹی کی قیادت اور میڈیکل فیکلٹی سے متعارف کرایا، جہاں مستقبل میں تعاون کے مختلف شعبوں پر ابتدائی تبادلہ خیال بھی ہوا۔
ملاقات میں پاکستان۔اامریکا نالج کوریڈور کے دائرہ کار کو طبی علوم تک وسعت دینے کی تجویز پر بھی غور کیا گیا۔ اس سلسلے میں فیکلٹی اور طلبہ کے تبادلے، وظائف، مشترکہ تحقیقی منصوبوں، جدید جراحی کی تربیت اور ادارہ جاتی شراکت داری کے امکانات پر گفتگو کی گئی۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان عالمی سطح پر کامیاب طبی تعلیمی اداروں اور مربوط نظامِ صحت کے ماڈلز سے استفادہ کرنا چاہتا ہے تاکہ ملک میں ابھرنے والے طبی اداروں کو بین الاقوامی معیار سے ہم آہنگ بنایا جاسکے۔
احسن اقبال نے پاکستان اور اامریکا کے درمیان تعلیمی تعاون کی کامیاب روایت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اپنے گزشتہ دورِ وزارت میں انہوں نے حکومت پاکستان کی مالی شراکت کو یقینی بنا کر فل برائٹ اسکالرشپ پروگرام کو وسعت دینے میں اہم کردار ادا کیا، جس کے نتیجے میں یہ دنیا کے بڑے فل برائٹ پروگراموں میں شمار ہونے لگا۔
یہ بھی پڑھیں: جناح میڈیکل کمپلیکس و ریسرچ پراجیکٹ کے لیے 212 ارب روپے منظور
ان کے مطابق یہ اقدام انسانی وسائل کی ترقی اور بین الاقوامی تعلیمی تعاون کے فروغ کے لیے پاکستان کے عزم کا مظہر ہے۔
یونیورسٹی آف الینوائے شکاگو کی قیادت نے پاکستانی اداروں کے ساتھ رابطے برقرار رکھنے اور طبی تعلیم، تحقیق اور صحت کے شعبے میں باہمی مفاد پر مبنی مستقبل کے تعاون کے امکانات کا جائزہ لینے میں دلچسپی کا اظہار کیا۔














