امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ دنیا کے سب سے بڑے دفاعی اتحاد نیٹو کے 36ویں سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے ترکیہ کے دارالحکومت انقرہ پہنچ گئے ہیں، جہاں ترک صدر رجب طیب اردوان نے ان کا استقبال کیا۔
اجلاس میں نیٹو کے مستقبل، یورپ کی سلامتی، دفاعی تعاون اور رکن ممالک کے فوجی اخراجات سمیت کئی اہم امور پر غور کیا جائے گا۔
مزید پڑھیں: ایران جنگ پر اختلافات: مارکو روبیو کی نیٹو وزرا سے ملاقات، ڈونلڈ ٹرمپ اسپین اور جرمنی سے شدید ناراض
یہ اجلاس ایسے وقت میں منعقد ہو رہا ہے جب صدر ٹرمپ ایک بار پھر نیٹو کے رکن ممالک پر دفاعی بجٹ میں اضافے کے لیے زور دے رہے ہیں۔ سفارتی حلقوں کے مطابق اس دباؤ کے نتیجے میں متعدد یورپی ممالک اربوں ڈالر مالیت کے نئے دفاعی معاہدوں کا اعلان کر سکتے ہیں۔
اجلاس سے قبل صدر ٹرمپ نے نیٹو کے اتحادیوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے الزام لگایا کہ ایران کے خلاف امریکی کارروائیوں میں اتحادی ممالک نے مطلوبہ سطح پر تعاون نہیں کیا۔
عرب نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق ٹرمپ کا کہنا تھا کہ نیٹو کے کئی ارکان اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے میں ناکام رہے ہیں۔
دوسری جانب یورپی حکام نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ انہوں نے اپنی ذمہ داریاں بڑی حد تک نبھائیں۔ ان کے مطابق امریکا کو فضائی راستے اور فوجی اڈے استعمال کرنے کی اجازت دی گئی، حالانکہ ایران کے خلاف کارروائی سے پہلے انہیں اعتماد میں نہیں لیا گیا تھا۔
ڈونلڈ ٹرمپ ماضی میں بھی کئی مواقع پر نیٹو پر سخت تنقید کرتے رہے ہیں۔ رواں سال اپریل میں انہوں نے کہا تھا کہ وہ نیٹو سے علیحدگی کے امکان پر سنجیدگی سے غور کر رہے ہیں کیونکہ انہیں اس اتحاد سے شدید تحفظات ہیں۔
مزید پڑھیں: ڈونلڈ ٹرمپ کی آبنائے ہرمز کھلنے کے بعد نیٹو پر تنقید، کاغذی شیر قرار دیدیا
دفاعی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ انقرہ میں ہونے والا یہ اجلاس امریکا اور اس کے اتحادیوں کے تعلقات، مشترکہ دفاعی حکمت عملی اور نیٹو کے آئندہ کردار کے حوالے سے انتہائی اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ اس میں مستقبل کی سلامتی سے متعلق اہم فیصلوں پر غور متوقع ہے۔














