خیبرپختونخوا اسمبلی کے اراکین کو خصوصی مراعات، سیکیورٹی اور قانونی تحفظ دینے کے لیے ایکٹ میں ترمیم کے بعد نئی مراعات دی گئی ہیں، جن میں اراکین اسمبلی اور ان کی شریک حیات کے لیے بلیو پاسپورٹ، ٹول ٹیکس سے استثنیٰ، لازمی سیکیورٹی اور بعض قانونی معاملات میں خصوصی سہولیات شامل ہیں۔
ایکٹ میں ترمیم کے ذریعے اراکین کی گرفتاری، عدالتی حاضری اور حلقوں میں سرکاری افسران کے ساتھ اجلاسوں سے متعلق نئی شقیں بھی شامل کی گئی ہیں۔
مزید پڑھیں: اراکان اسمبلی اور سینیٹ کی تنخواہوں اور مراعات میں لاکھوں روپے کا اضافہ منظور، سفارشات وزیراعظم کو ارسال
خیبر پختونخوا کے اراکین کو خصوصی مراعات اراکین اسمبلی مراعات ایکٹ 1988 میں ترمیم کے ذریعے دی گئی ہیں۔ یہ ترمیمی بل مارچ کے مہینے میں اسمبلی میں پیش کیا گیا تھا، تاہم اس ترمیمی بل کو کافی حد تک خفیہ رکھا گیا۔ اس کے ساتھ اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کی مراعات سے متعلق بل بھی پیش کیا گیا تھا، لیکن اراکین کی مراعات کے حوالے سے بل کو خفیہ رکھا گیا۔
رکن اور شریک حیات کے لیے بلیو پاسپورٹ
خیبر پختونخوا حکومت نے اب باقاعدہ گزٹ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے، جس کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کے ہر رکن اور ان کے شریک حیات بلیو پاسپورٹ کے حقدار ہوں گے، جبکہ آفیشل پاسپورٹ کی سہولت وفاقی قوانین کے تابع فراہم کی جائے گی۔
اسمبلی سیکریٹریٹ کے مطابق ترمیمی بل مارچ کے مہینے میں اسمبلی میں پیش کیا گیا تھا، جس کے بعد اسے متعلقہ کمیٹی کو ریفر کیا گیا، بعد ازاں مئی کے آخر میں اسے دوبارہ ایوان میں پیش کیا گیا۔
قانون کے تحت اراکین اسمبلی کو ملک بھر کے ٹول پلازوں پر ٹول ٹیکس کی ادائیگی سے استثنیٰ حاصل ہوگا۔ اسی طرح اسمبلی اجلاس کے دوران کسی رکن اسمبلی کو عدالت میں حاضری کے لیے طلب نہیں کیا جا سکے گا۔
قانون کے مطابق اگر کسی مقدمے کی سماعت اجلاس کے دوران مقرر ہو تو متعلقہ عدالت سماعت ملتوی کر سکتی ہے یا نئی تاریخ مقرر کر سکتی ہے، تاہم رکن اسمبلی اپنی مرضی سے عدالت میں پیش ہونے کا اختیار رکھے گا۔
نوٹیفکیشن کے مطابق ہر رکن اسمبلی کم از کم کیٹیگری ’بی‘ سیکیورٹی کا حقدار ہوگا، جبکہ خطرات یا سیکیورٹی خدشات کی صورت میں سیکیورٹی کو کیٹیگری ’اے‘ تک بڑھایا جا سکے گا۔ یہ سیکیورٹی پاکستان بھر کے علاوہ آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان میں بھی مؤثر ہوگی۔
قانون میں اراکین اسمبلی کو اپنے حلقہ انتخاب میں عوامی مسائل اور ترقیاتی امور پر اجلاس طلب کرنے کا اختیار بھی دیا گیا ہے۔ ایسے اجلاسوں میں متعلقہ سرکاری افسران کی شرکت لازمی ہوگی اور بلاجواز عدم شرکت کو اسمبلی کے استحقاق کی خلاف ورزی تصور کیا جائے گا۔ مزید یہ کہ متعلقہ رکن اسمبلی کی موجودگی میں اجلاس کی صدارت بھی وہی کرےگا۔
قانون کے تحت کسی رکن اسمبلی کی گرفتاری سے قبل اسپیکر خیبر پختونخوا اسمبلی کی اجازت لازمی قرار دی گئی ہے۔ اسپیکر کو اختیار حاصل ہوگا کہ وہ گرفتاری سے قبل پولیس رپورٹ یا چالان طلب کریں، جبکہ ضرورت محسوس ہونے پر چالان پیش کیے جانے سے پہلے انکوائری کرانے کی ہدایت بھی دے سکیں گے۔
مزید پڑھیں: قومی اسمبلی: اراکین پارلیمنٹ کی تنخواہوں میں اضافے کا بل پیش ہونے پر کیا ہوا؟
اپوزیشن اور حکومتی اراکین اس معاملے پر ایک ہی مؤقف رکھتے ہیں۔ ان کے مطابق اسمبلی کے اس قانون کا مقصد عوامی نمائندوں کو اپنے آئینی اور عوامی فرائض کی انجام دہی کے لیے ضروری سہولیات، تحفظ اور انتظامی معاونت فراہم کرنا ہے۔
تاہم سیاسی اور قانونی حلقوں میں اس قانون کی بعض شقوں، خصوصاً گرفتاری اور عدالتی کارروائی سے متعلق استثنیٰ پر بحث شروع ہونے کا امکان ہے۔













