’ایل نینو‘ شدت کے تمام ریکارڈ توڑ سکتا ہے، دنیا کو شدید موسمی آفات کا خدشہ

منگل 7 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

موسمیاتی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ موجودہ ایل نینو اپنی شدت کے اعتبار سے گزشتہ کئی دہائیوں کے تمام ریکارڈ توڑ سکتا ہے، جس کے باعث دنیا کے مختلف خطوں میں شدید خشک سالی، سیلاب، گرمی کی لہروں اور جنگلات میں آگ لگنے جیسے انتہائی موسمی واقعات کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔

یورپی مرکز برائے درمیانی مدت موسم کی پیش گوئی کے ماہر نے میڈیا بریفنگ میں کہاکہ موجودہ ایل نینو گزشتہ 3 دہائیوں میں دیکھے گئے تمام واقعات سے مختلف ہے۔ ان کے مطابق مختلف موسمیاتی ماڈلز مسلسل اس بات کی نشاندہی کررہے ہیں کہ یہ ایک انتہائی شدید ایل نینو ثابت ہو سکتا ہے۔

مزید پڑھیں: آج کہاں بارش ہوگی اور کہاں گرمی ستائے گی؟ محکمہ موسمیات نے پیشگوئی کر دی

انہوں نے کہاکہ یہ کہنا بالکل درست ہے کہ آج تک کسی ایل نینو کے بارے میں اتنی مضبوط اور تمام موسمیاتی ماڈلز میں یکساں پیش گوئی نہیں دیکھی گئی۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر یہ ایل نینو ریکارڈ نہ توڑ سکا تو یہ ایک بہت بڑا غیر متوقع واقعہ ہوگا، تاہم انہوں نے یہ بھی واضح کیاکہ اس کی کوئی 100 فیصد ضمانت نہیں دی جا سکتی۔

ایل نینو ایک قدرتی موسمیاتی مظہر ہے جس کے دوران بحرالکاہل کے وسطی اور مشرقی استوائی حصے کے سمندر کی سطح کا درجہ حرارت معمول سے زیادہ گرم ہو جاتا ہے۔

اس کے نتیجے میں دنیا بھر میں ہواؤں، فضائی دباؤ اور بارشوں کے نظام میں نمایاں تبدیلیاں آتی ہیں۔ یہ مظہر عموماً ہر 2 سے 7 سال بعد رونما ہوتا ہے اور 9 سے 12 ماہ تک برقرار رہ سکتا ہے۔

اگرچہ ایل نینو عام طور پر نومبر سے فروری کے درمیان اپنی انتہا پر پہنچتا ہے، تاہم اس کے باعث عالمی درجہ حرارت میں اضافہ بعد کے مہینوں میں زیادہ واضح ہوتا ہے۔

ماہرین کے مطابق انسانی سرگرمیوں سے پیدا ہونے والی موسمیاتی تبدیلی کے ساتھ مل کر گزشتہ ایل نینو نے 2023 کو تاریخ کا دوسرا گرم ترین سال اور 2024 کو اب تک کا گرم ترین سال بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔

امریکی محکمہ موسمیات گزشتہ ماہ اعلان کر چکا ہے کہ ایل نینو کا آغاز ہو چکا ہے اور اس کے تاریخی شدت اختیار کرنے کا امکان ہے۔

دوسری جانب عالمی موسمیاتی ادارے (ڈبلیو ایم او) نے بھی گزشتہ ہفتے پیش گوئی کی کہ جولائی سے ستمبر کے درمیان ایل نینو تیزی سے ایک مضبوط مرحلے میں داخل ہو جائے گا۔

اقوام متحدہ کے غذائی امدادی اداروں نے بھی گزشتہ ماہ ایل نینو کے ممکنہ اثرات سے نمٹنے کے لیے احتیاطی اقدامات کی خاطر فنڈز کی اپیل کی تھی۔

بھارت میں زرعی حکام نے کم بارشوں کے خدشے کے پیش نظر کسانوں کی مدد کے لیے ہنگامی منصوبے تیار کرنے کا اعلان کیا ہے، کیونکہ ایل نینو کے برسوں میں ایشیا کے کئی حصوں میں معمول سے کم بارش اور خشک سالی دیکھی جاتی ہے۔

جنوبی ایشیا میں یہ مظہر مون سون کو کمزور کر سکتا ہے، جس سے بھارت اور خطے کے دیگر ممالک میں کروڑوں افراد کی زرعی اور آبی ضروریات متاثر ہو سکتی ہیں۔

مزید پڑھیں: پگھلتے گلیشیئرز و بار بار آنے والے سیلاب، سوات موسمیاتی بحران کی زد میں

آسٹریلیا میں ایل نینو کے دوران شدید گرمی، خشک سالی اور جنگلات میں آگ لگنے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں، جبکہ افریقہ کے مشرقی حصے، خصوصاً ہارن آف افریقہ کے بعض علاقوں میں معمول سے زیادہ بارش ہوتی ہے۔ اس کے برعکس جنوبی، مغربی، وسطی اور مشرقی افریقہ کے وسیع علاقوں میں عام طور پر خشک موسم رہتا ہے۔

جنوبی امریکا کے مغربی ساحلی ممالک، خصوصاً پیرو اور ایکواڈور میں شدید ایل نینو کے دوران معمول سے زیادہ بارشیں متوقع ہوتی ہیں، جس سے سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ بڑھ جاتا ہے، جبکہ شمالی برازیل میں کم بارشوں کے باعث ایمیزون کے جنگلات میں آگ لگنے کے امکانات میں اضافہ ہو جاتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp