بھارت کا عالمی تشخص سوالوں کی زد میں، سرحد پار مجرمانہ نیٹ ورکس پر بھی انگلیاں اٹھنے لگیں

بدھ 8 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

 

بھارت کا خود کو ایک ذمہ دار سیکیورٹی ریاست کے طور پر پیش کرنے کا بیانیہ عالمی سطح پر دباؤ کا شکار ہوتا جا رہا ہے۔ حالیہ الزامات اور انکشافات نے نہ صرف نئی دہلی کے دعوؤں پر سوالات کھڑے کیے ہیں بلکہ بھارت سے مبینہ طور پر چلنے والے سرحد پار مجرمانہ نیٹ ورکس اور ان کے ممکنہ سرپرستوں پر بھی توجہ مرکوز کر دی ہے۔

بین الاقوامی سطح پر سامنے آنے والے حالیہ انکشافات کے بعد بھارت کی اس شبیہ کو شدید دھچکا پہنچا ہے جسے وہ برسوں سے ایک ذمہ دار اور دہشتگردی کے خلاف سرگرم ریاست کے طور پر پیش کرتا رہا ہے۔ مبصرین کے مطابق نئی دہلی نے منظم اطلاعاتی مہمات کے ذریعے نہ صرف اپنا مثبت تاثر اجاگر کیا بلکہ پاکستان کے خلاف بھی منفی بیانیہ تشکیل دینے کی کوشش کی، تاہم حالیہ پیش رفت نے اس حکمت عملی کو عالمی جانچ کے دائرے میں لا کھڑا کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:امریکا، کینیڈا اور یورپ میں بھارتی جرائم پیشہ گروہوں کے خلاف بڑا کریک ڈاؤن

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ان الزامات نے بھارت میں موجود مبینہ سرحد پار مجرمانہ نیٹ ورکس کی سرگرمیوں پر بھی سنگین سوالات اٹھائے ہیں۔ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ بعض ایسے جرائم پیشہ عناصر، جو بھارتی جیلوں میں قید ہیں، مبینہ طور پر بیرون ملک ٹارگٹ کلنگ نیٹ ورکس سے رابطے اور ان کی معاونت کرتے رہے ہیں۔

رپورٹس میں یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ اگر ایسے نیٹ ورکس واقعی موجود ہیں تو بھارتی جیلوں کے اندر سے انہیں مواصلاتی سہولتیں اور انتظامی معاونت کس کی سرپرستی میں حاصل رہی۔ مبصرین کے مطابق ایسے معاملات کی غیرجانبدارانہ تحقیقات ضروری ہیں تاکہ حقائق سامنے آسکیں۔

یہ بھی پڑھیں:کینیڈا میں سکھ رہنماؤں کا قتل، بھارت کی ریاستی دہشتگردی کے شواہد بے نقاب

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر کسی ملک کی سرزمین سے سرحد پار مجرمانہ نیٹ ورکس کے سرگرم ہونے کے سنگین الزامات سامنے آئیں تو اس کے لیے دہشتگردی کے خلاف اخلاقی برتری کا دعویٰ برقرار رکھنا مشکل ہو جاتا ہے۔ ان کے مطابق ایسے تمام الزامات کی شفاف اور آزادانہ تحقیقات ہی عالمی اعتماد کی بحالی کا مؤثر ذریعہ بن سکتی ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ٹرمپ کا وینزویلا سے ’تاریخ کا سب سے بڑا تیل معاہدہ‘، 65 ارب بیرل ذخائر پر امریکی کنٹرول اور پیٹرول سستا ہونے کا دعویٰ

پاکستان میں موبائل فون اسمبلنگ میں 102 فیصد اضافہ، حقیقی صنعتی ترقی کی علامت ہے؟

پمز چلڈرن اسپتال یورپ و امریکا کے اسپتالوں سے بہتر بنا تھا، کام چلاؤ طریقوں نے یہاں تک پہنچایا، معروف آرکیٹیکٹ ہارون رشید

پمز سانحہ: ’ایک شخص کو ذمہ دار ٹھہرانے کے بجائے پورے ہیلتھ سسٹم کو دیکھنا ہوگا‘، پروفیسر ڈاکٹر خلیق الزمان

ہم کیوں لکھتے ہیں؟

ویڈیو

ٹرمپ کا وینزویلا سے ’تاریخ کا سب سے بڑا تیل معاہدہ‘، 65 ارب بیرل ذخائر پر امریکی کنٹرول اور پیٹرول سستا ہونے کا دعویٰ

پمز چلڈرن اسپتال یورپ و امریکا کے اسپتالوں سے بہتر بنا تھا، کام چلاؤ طریقوں نے یہاں تک پہنچایا، معروف آرکیٹیکٹ ہارون رشید

پمز سانحہ: ’ایک شخص کو ذمہ دار ٹھہرانے کے بجائے پورے ہیلتھ سسٹم کو دیکھنا ہوگا‘، پروفیسر ڈاکٹر خلیق الزمان

کالم / تجزیہ

ہم کیوں لکھتے ہیں؟

کیا امریکا ہر جنگ جیت سکتا ہے؟

جب فیصلے خوف کے تابع ہوجائیں