بھارت کا خود کو ایک ذمہ دار سیکیورٹی ریاست کے طور پر پیش کرنے کا بیانیہ عالمی سطح پر دباؤ کا شکار ہوتا جا رہا ہے۔ حالیہ الزامات اور انکشافات نے نہ صرف نئی دہلی کے دعوؤں پر سوالات کھڑے کیے ہیں بلکہ بھارت سے مبینہ طور پر چلنے والے سرحد پار مجرمانہ نیٹ ورکس اور ان کے ممکنہ سرپرستوں پر بھی توجہ مرکوز کر دی ہے۔
بین الاقوامی سطح پر سامنے آنے والے حالیہ انکشافات کے بعد بھارت کی اس شبیہ کو شدید دھچکا پہنچا ہے جسے وہ برسوں سے ایک ذمہ دار اور دہشتگردی کے خلاف سرگرم ریاست کے طور پر پیش کرتا رہا ہے۔ مبصرین کے مطابق نئی دہلی نے منظم اطلاعاتی مہمات کے ذریعے نہ صرف اپنا مثبت تاثر اجاگر کیا بلکہ پاکستان کے خلاف بھی منفی بیانیہ تشکیل دینے کی کوشش کی، تاہم حالیہ پیش رفت نے اس حکمت عملی کو عالمی جانچ کے دائرے میں لا کھڑا کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:امریکا، کینیڈا اور یورپ میں بھارتی جرائم پیشہ گروہوں کے خلاف بڑا کریک ڈاؤن
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ان الزامات نے بھارت میں موجود مبینہ سرحد پار مجرمانہ نیٹ ورکس کی سرگرمیوں پر بھی سنگین سوالات اٹھائے ہیں۔ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ بعض ایسے جرائم پیشہ عناصر، جو بھارتی جیلوں میں قید ہیں، مبینہ طور پر بیرون ملک ٹارگٹ کلنگ نیٹ ورکس سے رابطے اور ان کی معاونت کرتے رہے ہیں۔

رپورٹس میں یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ اگر ایسے نیٹ ورکس واقعی موجود ہیں تو بھارتی جیلوں کے اندر سے انہیں مواصلاتی سہولتیں اور انتظامی معاونت کس کی سرپرستی میں حاصل رہی۔ مبصرین کے مطابق ایسے معاملات کی غیرجانبدارانہ تحقیقات ضروری ہیں تاکہ حقائق سامنے آسکیں۔
یہ بھی پڑھیں:کینیڈا میں سکھ رہنماؤں کا قتل، بھارت کی ریاستی دہشتگردی کے شواہد بے نقاب
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر کسی ملک کی سرزمین سے سرحد پار مجرمانہ نیٹ ورکس کے سرگرم ہونے کے سنگین الزامات سامنے آئیں تو اس کے لیے دہشتگردی کے خلاف اخلاقی برتری کا دعویٰ برقرار رکھنا مشکل ہو جاتا ہے۔ ان کے مطابق ایسے تمام الزامات کی شفاف اور آزادانہ تحقیقات ہی عالمی اعتماد کی بحالی کا مؤثر ذریعہ بن سکتی ہیں۔














