کراچی کے علاقے لی مارکیٹ کے قریب سے لاپتہ ہونے والے 6 سالہ بچے کی تشدد زدہ لاش برآمد ہوئی ہے، جس کے بعد پولیس نے مقتول کے ایک 20 سالہ پڑوسی کو گرفتار کر لیا ہے۔
ڈی آئی جی ساؤتھ سید اسد رضا کے مطابق گرفتار ملزم پیشے سے بڑھئی ہے اور اس کا تعلق پھول نگر لاہور سے ہے۔ ملزم نے ابتدائی تفتیش کے دوران اعتراف کیا ہے کہ اس نے بچے کو بدفعلی کی نیت سے اغوا کیا اور بعد میں اسے قتل کردیا۔ مقتول اپنے والدین کا اکلوتا بیٹا تھا اور اس کا خاندان بھی پنجاب سے تعلق رکھتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: 3 سالہ بچی سے جنسی زیادتی کے بعد قتل کی ہولناک واردات، ملزم رکشہ ڈرائیور گرفتار
یہ افسوسناک واقعہ اس وقت پیش آیا جب نیپیئر تھانے کی حدود مسلم آباد کا رہائشی یہ بچہ پیر کی دوپہر دکان پر گیا اور واپس نہیں لوٹا۔ بچے کے رکشہ ڈرائیور والد نے علاقے میں تلاش اور مساجد میں اعلانات کے بعد پولیس میں اغوا کا مقدمہ درج کروایا۔
ملزم نے قتل کے بعد بچے کی لاش کو اپنے گھر کی چھت پر چھپا دیا تھا، جسے منگل کی رات اس نے بوری میں بند کرکے تیسری منزل سے نیچے خالی پلاٹ میں پھینک دیا۔ اس دوران علاقہ مکینوں نے اسے دیکھ لیا اور پولیس کے پہنچنے سے پہلے ملزم کو پکڑ کر اس کی دھلائی کردی۔
پولیس نے لاش کو سول اسپتال منتقل کیا جہاں پولیس سرجن ڈاکٹر سمعیہ سید نے بتایا کہ بچے کی لاش مسخ شدہ حالت میں تھی اور اس کی ہڈیوں میں متعدد فریکچر پائے گئے۔
یہ بھی پڑھیں: پشاور کے شاہ عالم میں 7 سالہ بچی اور کرک کے علاقے صابر آباد میں 7 سالہ بچہ قتل
پولیس کے مطابق مبینہ زیادتی کی تصدیق اور کیمیائی تجزیے کے لیے نمونے حاصل کر لیے گئے ہیں جبکہ موت کی حتمی وجہ کی رپورٹ تاحال محفوظ ہے۔
سندھ کے وزیر داخلہ ضیاء الحسن لنجار نے واقعے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے ڈی آئی جی ساؤتھ سے تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے۔
یاد رہے کہ گزشتہ ماہ قائد آباد میں بھی ایک 3 سالہ بچی کو زیادتی کے بعد قتل کیا گیا تھا، جس کے بعد شہر میں بچوں کے تحفظ کے حوالے سے شدید تشویش پائی جاتی ہے۔














