کیا پاکستان لیبیا کے متحارب دھڑوں میں صلح کرا رہا ہے؟

جمعرات 9 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

6  جولائی کو برطانوی خبر رساں ادارے نے ایک خبر دی جس میں کہا گیا کہ پاکستان خاموشی کے ساتھ گزشتہ کئی ماہ سے  لیبیا کے 2 متحارب سیاسی و عسکری دھڑوں کے درمیان مفاہمت کی کوششیں کر رہا ہے۔ اگرچہ اس خبر کی پاکستان کی وزارت خارجہ نے نہ تو باضابطہ تصدیق کی ہے اور نہ ہی تردید تاہم اس رپورٹ نے پاکستان کی سفارتی سرگرمیوں کو بین الاقوامی توجہ کا مرکز بنا دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: فیلڈ مارشل سے لیبیا کی مسلح افواج کے نائب کمانڈر انچیف کی ملاقات، دوطرفہ تعلقات کو مضبوط بنانے پر زور

سنہ2011  میں لیبیا کے معمر قذافی کی حکومت کے خاتمے کے بعد اُس ملک میں سول خانہ جنگی شروع ہو گئی جبکہ سال 2014 میں ہونے والے متنازعہ انتخابات نے ملک کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا۔ اور سنہ 2020 تک خانہ جنگی کی صورتحال رہی جب کہ اس کے بعد ملک میں 2 متوازی حکومتیں قائم ہو گئیں۔

مشرقی دھڑا گورنمنٹ آف نیشنل اسٹیبلیٹی کے زیرِحکومت ہے جس کا دارلحکومت بن غازی اور فیلڈ مارشل خلیفہ خفتر اس کی لیبین نیشنل آرمی کے سربراہ ہیں۔ لیبیا کے مشرقی علاقوں میں تیل پایا جاتا ہے وہاں پر گورنمنٹ آف نیشنل اسٹیبلیٹی کا کنٹرول ہے۔ سیاسی طور پر اس دھڑے کو مشرقی پارلیمان کی حمایت حاصل ہے جبکہ عملی طور پر اختیارات خلیفہ خفتر کے پاس ہیں۔

مغربی دھڑے کی قیادت وزیراعظم عبدالحمید الدبیبہ کر رہے ہیں۔ اس دھڑے گورنمنٹ آف نیشنل یونٹی کا دارلحکومت طرابلس ہے۔ یہ اقوام متحدہ کی تسلیم شدہ حکومت ہے۔

لیبیا مفاہمتی عمل میں پاکستان کی شمولیت کے بارے میں باتیں کیوں چل رہی ہیں؟

اس سال فروری میں پاکستان کے فیلڈ مارشل چیف آف ڈیفینس فورسز جنرل عاصم منیر نے لیبیا کا دورہ کیا تھا جس میں لیبیا کی قیادت کے ساتھ ان کی ملاقاتوں کی ویڈیوز کافی وائرل ہوئی تھیں۔

اس دورے میں پاکستان اور لیبیا کی گورنمنٹ آف نیشنل اسٹیبلیٹی کے درمیان عسکری تربیت، پیشہ ورانہ تبادلوں، دفاعی صنعت، انسداد دہشت گردی اور علاقائی تعاون میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا گیا۔

اس کے بعد 24 جون کو مشرقی دھڑے کے فوجی سربراہ خلیفہ خفتر نے پاکستان کا دورہ کیا۔ انہوں نے راولپنڈی جی ایچ کیو میں جنرل عاصم منیر سے ملاقات کی جس میں دفاعی تعاون علاقائی سلامتی اور فوجی تربیت کے موضوعات پر گفتگو کی گئی۔

مزید پڑھیے: پاکستانی فوج دنیا کی نمبر ون آرمی بننے جا رہی ہے، لیبیا کے بزنس مین کا اظہارِ خیال

پاکستان اور لیبیا کی گورنمنٹ آف نیشنل اسٹیبلیٹی کے درمیان ان رابطوں کی بناء پر دونوں دھڑوں کے درمیان پاکستان کے مفاہمتی کردار کے بارے میں باتیں عالمی میڈیا پر منظرعام پر آئیں۔

برطانوی میڈیا میں کیا انکشاف ہوا؟

رپورٹ میں بتایا کہ اسلام آباد دسمبر 2025 سے لیبیا کے مشرقی اور مغربی دھڑوں کے درمیان بیک چینل رابطوں میں مصروف ہے۔ رپورٹ کے مطابق امریکا اس عمل سے مکمل طور پر آگاہ ہے اور سعودی عرب اس کی حمایت کر رہا ہے جبکہ قطر اور ترکی بھی اس سفارتی کوشش کی حوصلہ افزائی کر رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان نے 36 ماہ پر مشتمل ایک عبوری سیاسی روڈ میپ تیار کیا جس کے اہم نکات میں قومی اتفاق رائے کی حکومت، وزیراعظم عبدالحمید الدبیبہ کو عبوری وزیراعظم برقرار رکھنا، مشرقی لیبیا کے بااثر رہنما صدام حفتر کو نئی صدارتی کونسل کا سربراہ بنانا، ریاستی اداروں کی مشترکہ نگرانی اور 3 برس کے اندر عام انتخابات کا انعقاد شامل ہے۔

لیبیا کے دونوں متحارب دھڑوں کا مؤقف

طرابلس حکومت کی جانب سے پاکستان کی ثالثی کی براہ راست تصدیق نہیں کی گئی تاہم حکومت مسلسل اس مؤقف کا اعادہ کرتی رہی ہے کہ ملک میں سیاسی استحکام اور قومی انتخابات ہی بحران کا مستقل حل ہیں۔ وزیراعظم عبدالحمید الدبیبہ بھی متعدد مواقع پر اقتدار کی آئینی منتقلی کے لیے انتخابات کی حمایت کا اظہار کر چکے ہیں۔

مزید پڑھیں: ترکیہ میں طیارہ حادثہ، لیبیا کے آرمی چیف محمد الحداد ساتھیوں سمیت جاں بحق

دوسری جانب خلیفہ حفتر کی قیادت نے بھی پاکستان کے ساتھ روابط میں اضافہ کیا ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ نہ طرابلس حکومت اور نہ ہی خلیفہ حفتر کی قیادت نے پاکستان کے مفاہمتی کردار کی کھل کر تردید کی ہے، لیکن کسی بھی فریق نے پاکستان کے مجوزہ روڈ میپ کی باضابطہ توثیق بھی نہیں کی۔

پاکستان کو کیا فائدہ ہو سکتا ہے؟

اگر یہ سفارتی کوشش کامیاب ہوتی ہے تو پاکستان کئی سطحوں پر فائدہ حاصل کر سکتا ہے۔ اسلام آباد ایک ایسے ملک کے طور پر ابھر سکتا ہے جو صرف جنوبی ایشیا ہی نہیں بلکہ مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ میں بھی تنازعات کے حل میں مثبت کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ خلیجی ممالک، امریکا اور شمالی افریقی ریاستوں کے ساتھ سیاسی اور دفاعی تعاون کے نئے امکانات پیدا ہو سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: وزیراعظم سے لیبیا کی مسلح افواج کے کمانڈر ان چیف کی ملاقات، مختلف شعبوں میں تعاون پر گفتگو

لیبیا توانائی کے وسیع ذخائر اور بحیرہ روم میں اپنی جغرافیائی اہمیت کے باعث یورپ اور افریقہ کے درمیان ایک اہم پل ہے۔ ایسے میں وہاں استحکام کی بحالی پاکستان کے لیے معاشی اور سفارتی مواقع بھی پیدا کر سکتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp