بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو گزشتہ 12 برسوں کے دوران غیر ملکی دوروں میں 30 سے زائد اعزازات مل چکے ہیں، تاہم حالیہ دورۂ سیشلز کے دوران انہیں دیا جانے والا نیا سول اعزاز اس وقت تنازع کا شکار ہوگیا جب اس کے سرٹیفکیٹ میں ملک کے نام سمیت متعدد املا کی غلطیاں سامنے آئیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ ایسے اعزازات بھارت کی سفارت کاری سے زیادہ مودی کی ذاتی تشہیر کا ذریعہ بن رہے ہیں۔
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو حالیہ دورۂ سیشلز کے دوران ایک نیا سول اعزاز ’گارڈین آف دی بلو ہورائزن (Guardian of the Blue Horizon) دیا گیا، تاہم یہ اعزاز ملتے ہی ‘ تنازع کی زد میں آ گیا کیونکہ اس کے ساتھ جاری کیے گئے سرٹیفکیٹ میں متعدد املا کی غلطیاں پائی گئیں۔
مودی نے 27 سے 29 جون تک سیشلز کا دورہ کیا، جہاں صدر پیٹرک ہرمینی نے اسٹیٹ ہاؤس میں منعقدہ تقریب کے دوران انہیں ملک کا اعلیٰ ترین سول اعزاز قرار دیے جانے والے اس ایوارڈ سے نوازا۔ انہیں یہ اعزاز پائیدار ترقی، ماحولیاتی تحفظ اور موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے خدمات کے اعتراف میں دیا گیا۔
تاہم تقریب کے بعد سامنے آنے والے سرٹیفکیٹ میں Republic of Seychellesکی جگہ Repubblic of Seycheelesلکھا گیا، جس پر سوشل میڈیا اور بھارتی سیاسی حلقوں میں شدید تنقید کی گئی۔
بعد ازاں سیشلز کی وزارت خارجہ نے وضاحت جاری کرتے ہوئے کہا کہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والا سرٹیفکیٹ دراصل ابتدائی مسودہ (ورکنگ ڈرافٹ) تھا، جبکہ اصل سرٹیفکیٹ درست ہے۔ وزارت نے یہ بھی واضح کیا کہ ’گارڈین آف دی بلو ہورائزن‘ ایک حقیقی سرکاری اعزاز ہے، جس کی منظوری کابینہ نے مودی کی آمد سے چند روز قبل دی تھی۔
12 برس میں 30 سے زائد غیر ملکی اعزازات
نریندر مودی اپنے تقریباً 12 سالہ دورِ اقتدار میں غیر ملکی دوروں کے دوران 30 سے زائد بین الاقوامی اعزازات حاصل کر چکے ہیں۔
گزشتہ روز انڈونیشیا نے انہیں اپنا اعلیٰ ترین سول اعزاز ’بنتانگ آدی پورنا‘ عطا کیا، جبکہ جون میں انہیں سلواکیہ کا اعلیٰ ترین سرکاری اعزاز ’آرڈر آف دی وائٹ ڈبل کراس، فرسٹ کلاس‘ دیا گیا، جو ان غیر ملکی شخصیات کو دیا جاتا ہے جنہوں نے سلواکیہ کے ساتھ تعلقات کے فروغ میں نمایاں کردار ادا کیا ہو۔
اسی طرح رواں سال فروری میں اسرائیل کے دورے کے دوران مودی کو کنیسٹ اسپیکر میڈل بھی دیا گیا، جس کے بارے میں بتایا گیا کہ یہ اعزاز خاص طور پر ان کے دورے سے قبل متعارف کرایا گیا تھا۔
اقوام متحدہ اور دیگر عالمی اعزازات
مودی کو 2018 میں فرانسیسی صدر ایمانویل میکرون کے ساتھ مشترکہ طور پر اقوام متحدہ کا چیمپیئنز آف دی ارتھ ایوارڈ ملا، جو ماحولیات کے شعبے میں اقوام متحدہ کا سب سے بڑا اعزاز سمجھا جاتا ہے۔
2019 میں انہیں بل اینڈ میلنڈا گیٹس فاؤنڈیشن کی جانب سے گلوبل گول کیپر ایوارڈ دیا گیا، جبکہ اسی سال انہیں فلپ کوٹلر صدارتی ایوارڈ بھی ملا، جس کے بعد اب تک کسی اور عالمی رہنما کو یہ اعزاز نہیں دیا گیا۔
ماہرین کی رائے
مودی ہر اعزاز وصول کرتے ہوئے یہ مؤقف اختیار کرتے رہے ہیں کہ یہ اعزاز دراصل ان کی ذات نہیں بلکہ بھارت کے لیے ہیں۔
تاہم آسٹریلیا کی گرفتھ یونیورسٹی کے بین الاقوامی تعلقات کے پروفیسر ایان ہال کے مطابق اگرچہ نئی دہلی ان اعزازات کو بھارت کے بڑھتے ہوئے عالمی اثرورسوخ کی علامت قرار دیتا ہے، لیکن ان کے سفارتی یا معاشی فوائد واضح دکھائی نہیں دیتے۔
دوسری جانب برطانیہ کی ویسٹ منسٹر یونیورسٹی کی پروفیسر نتاشا کول کا کہنا ہے کہ یہ اعزاز بھارت کی سفارت کاری سے زیادہ نریندر مودی کی سیاسی شخصیت کو اجاگر کرنے کا ذریعہ بن چکے ہیں۔
ان کے مطابق سیشلز کے ایوارڈ کا معاملہ، جس میں جلد بازی کے باعث املا کی غلطیاں سامنے آئیں، اس بات کی مثال ہے کہ ایسے اقدامات بھارت کی سفارتی کامیابیوں کے بجائے مودی کی ذاتی تشہیر سے زیادہ وابستہ نظر آتے ہیں، اور اب یہ عالمی سطح پر احترام کے بجائے تنقید کا باعث بھی بن رہے ہیں۔














