افغانستان سے متعلق ایک غیر رسمی آن لائن سروے میں تقریباً 75 فیصد شرکا نے طالبان کی کارکردگی پر عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے، جبکہ خود کو طالبان کے نچلے درجے کے ارکان یا جنگجو قرار دینے والے متعدد افراد نے بھی تنظیم کے اندر مالی و اخلاقی بدعنوانی، اقربا پروری اور عہدوں کی غیر منصفانہ تقسیم پر شدید تنقید کی ہے۔
افغان خبر رساں ادارے زاویہ نیوز نے منگل کو آپ طالبان سے کتنے مطمئن ہیں اور ان سے آپ کی توقعات کس حد تک پوری ہوئی ہیں؟ کے عنوان سے سروے کے نتائج شائع کیے۔ ادارے کے مطابق اس سروے میں تقریباً 17 لاکھ افراد نے حصہ لیا۔
نتائج کے مطابق 21 فیصد شرکا نے طالبان کی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کیا، جبکہ 3.6 فیصد نے خود کو غیر جانبدار قرار دیا۔ اس کے برعکس تقریباً 75 فیصد شرکا نے طالبان کی کارکردگی سے عدم اطمینان ظاہر کیا۔
یہ بھی پڑھیے افغان طالبان کو شدید مزاحمت کا سامنا، نیشنل ریزسٹنس فرنٹ نے حملوں کی ویڈیو جاری کردی
زاویہ نیوز کے مطابق سروے فیس بک، ایکس (سابقہ ٹوئٹر) اور واٹس ایپ کے ذریعے کیا گیا۔ 4 روز کے دوران تقریباً 14 ہزار افراد نے تبصرے یا پیغامات بھیجے، جن پر 10 ہزار 500 سے زائد ردعمل سامنے آئے، تقریباً 9 ہزار سوشل میڈیا تبصرے کیے گئے، جبکہ 3 ہزار 652 واٹس ایپ پیغامات موصول ہوئے۔
رپورٹ کے مطابق واٹس ایپ پر موصول ہونے والے پیغامات میں سے 32.2 فیصد ایسے افراد کے تھے جنہوں نے خود کو طالبان کے ارکان یا نچلے درجے کے جنگجوؤں کے طور پر متعارف کرایا۔
ان افراد نے مالی اور اخلاقی کرپشن، تقرریوں میں اقربا پروری، سینئر کمانڈروں کے قریبی افراد کو ترجیح دینے اور عام طالبان ارکان کو نظر انداز کیے جانے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔
بعض نے کہا کہ انہوں نے سابق افغان جمہوری حکومت کے خلاف جنگ لڑی، مگر طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد انہیں نہ کوئی عہدہ ملا اور نہ ہی کوئی مراعات فراہم کی گئیں۔ کئی شرکا نے اپنی اور اپنے خاندانوں کی معاشی مشکلات کا بھی ذکر کیا۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ طالبان سے غیر مطمئن شرکا نے لڑکیوں کی تعلیم پر پابندی، خواتین کی ملازمتوں پر قدغن، طالبان حکومت کی بین الاقوامی سطح پر محدود قانونی حیثیت، بڑھتی ہوئی غربت، معاشی جمود، انتظامی بدعنوانی اور افغانستان کے مستقبل سے متعلق غیر یقینی صورتحال کو اپنی ناراضی کی بنیادی وجوہات قرار دیا۔
یہ بھی پڑھیے اسلامی حکومت یا وسائل کی لوٹ مار؟ افغان طالبان کے اندر اقتدار کی خونریز کشمکش سامنے آگئی
دوسری جانب طالبان کے حامی شرکا نے ملک میں سیکیورٹی کی بہتر صورتحال، بااثر مقامی شخصیات کے اثرورسوخ کے خاتمے اور بعض بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں پر عمل درآمد کو طالبان حکومت کی اہم کامیابیاں قرار دیا۔
سروے میں خواتین کی شرکت انتہائی محدود رہی اور مجموعی شرکا میں ان کا تناسب صرف 5 فیصد تھا۔
اس سے قبل افغانستان میں اقوام متحدہ کے امدادی مشن (UNAMA) نے مارچ 2024 میں جاری اپنی تحقیق میں بتایا تھا کہ سروے میں شامل 96 فیصد افغان خواتین طالبان کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیے جانے کی مخالف تھیں، جبکہ صرف 4 فیصد نے بغیر کسی تبدیلی کے طالبان حکومت کو تسلیم کرنے کی حمایت کی تھی۔
اسی طرح یو این ویمن کی اگست 2025 کی رپورٹ کے مطابق سروے میں شامل 92 فیصد افغان شہریوں نے لڑکیوں کی تعلیم کی حمایت کی، اور یہ حمایت معاشرے کے مختلف طبقات میں یکساں طور پر دیکھی گئی۔














