اقوامِ متحدہ کا اے آئی ایجنٹس کو قابلِ بھروسہ بنانے کے لیے نئے گروپ کا قیام

جمعرات 9 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

جنیوا میں منعقدہ ‘اے آئی فار گڈ گلوبل سمٹ’ کے دوران اقوامِ متحدہ کی ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز کی ایجنسی، انٹرنیشنل ٹیلی کمیونیکیشن یونین (آئی ٹی یو) نے خود مختار آرٹیفیشل انٹیلیجنس سسٹمز کو جوابدہ اور محفوظ بنانے کے لیے ایک نئے بین الاقوامی فوکس گروپ کے قیام کا اعلان کیا ہے۔ یہ اقدام ایک ایسے وقت میں اٹھایا گیا ہے جب اے آئی ایجنٹس تیزی سے وہ حساس کام اپنے ہاتھ میں لے رہے ہیں جو اب تک صرف انسانوں سے ہی منسوب تھے۔

یہ بھی پڑھیں: اقوامِ متحدہ کا اے آئی ایجنٹس کو قابلِ بھروسہ بنانے کے لیے نئے گروپ کا قیام

یہ نئے اے آئی ایجنٹس ماضی کے روایتی جنریٹو اے آئی ٹولز سے بالکل مختلف ہیں، کیونکہ یہ کسی صارف کے دیے گئے حکم پر محض جواب دینے کے بجائے اس کی طرف سے مکمل طور پر خود مختار ہو کر کام کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ان کاموں میں روزمرہ کی شیڈولنگ اور خریداریاں کرنے سے لے کر کمپنیوں کے پیچیدہ کاروباری معاملات کو سنبھالنا تک شامل ہے۔

تاہم ٹیکنالوجی کی یہی خود مختاری عالمی ادارے کے لیے سب سے بڑی تشویش کا باعث بن چکی ہے، کیونکہ انسان کی براہِ راست موجودگی کے بغیر کام کرنے والے یہ سسٹمز کسی دوسرے شخص یا تنظیم کا روپ دھار سکتے ہیں اور مالیاتی لین دین یا اہم ترین انفراسٹرکچر جیسے حساس شعبوں میں غیر مجاز یا غلط فیصلے بھی کر سکتے ہیں۔

اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے قائم کیا جانے والا یہ نیا فوکس گروپ دنیا بھر سے تکنیکی، قانونی اور پالیسی ساز ماہرین کو ایک میز پر اکٹھا کرے گا۔ اس گروپ کا بنیادی مقصد ایسے بین الاقوامی طریقہ کار وضع کرنا ہے جن کے ذریعے ان خود مختار سسٹمز کی شناخت برقرار رکھی جا سکے، ان کے کام کرنے کے انداز کو قابلِ بھروسہ بنایا جائے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ آخری کنٹرول ہمیشہ انسان کے ہاتھ میں رہے۔

یہ بھی پڑھیں: اے آئی ماڈل میں انسانی دماغ سے مشابہ نظام کا انکشاف

گروپ کی شریک چیئر ڈیبورا کمپرین کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ چونکہ یہ ایجنٹس بہت جلد انسانوں کی نیابت کرتے ہوئے کاروباری مذاکرات، مالی لین دین اور بڑے فیصلے کرنے جا رہے ہیں، اس لیے ایک مشترکہ بین الاقوامی فہم کا ہونا لازمی ہے تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ یہ ایجنٹس کون ہیں اور ان پر کس حد تک بھروسہ کیا جا سکتا ہے۔ اسی موقف کی تائید کرتے ہوئے دوسرے شریک چیئر امیر بنی فاطمی نے واضح کیا کہ یہ معاملہ بنیادی جوابدہی کا ہے، جہاں شناخت کا مطلب یہ جاننا ہے کہ پسِ پردہ ‘کون’ ہے اور بھروسے سے مراد یہ ہے کہ وہ سسٹم ‘کیسے’ کام کر رہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

دفتر خارجہ میں قونصلر خدمات کے لیے شام کی شفٹ کا آغاز، اوقات کار رات 8 بجے تک بڑھا دیے گئے

اسٹیٹ بینک کا شرح سود 11.50 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ، کاروبار اور معیشت کو کیا فائدہ ہوگا؟

پیٹرولیم کی قیمتوں میں ردوبدل، پیٹرول ایک روپے سستا اور ڈیزل 3.37 روپے مہنگا

ایران سے بات چیت جاری ہے، ناکامی کی صورت میں سخت حملہ کردیں گے، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ

ڈی ڈبلیو کی پاکستان کے ایٹمی پروگرام پر دستاویزی فلم: صحافت یا پروپیگنڈا؟

ویڈیو

ڈی ڈبلیو کی پاکستان کے ایٹمی پروگرام پر دستاویزی فلم: صحافت یا پروپیگنڈا؟

طالبان مخالف مزاحمت نئے مرحلے میں داخل، مسلح جدوجہد مقامی کارروائیوں سے منظم بغاوت کی جانب گامزن

کراچی کی منور چورنگی پر اب ٹریفک جام نہیں ہوگا، انڈر پاس عوام کے لیے کھول دیا گیا

کالم / تجزیہ

فخر درانی۔ ایک دلیر صحافی

دریاؤں کا مقدمہ اور معرکۂ حق

دو ہم سفر دو ہم عصر: منیر نیازی اور محمد سلیم الرحمان