واشنگٹن اور تہران کے درمیان پسِ پردہ سفارتی رابطے تیز، قطر اور پاکستان بھی متحرک

جمعہ 10 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکا اور ایران کے درمیان گزشتہ ایک ہفتے سے جاری کشیدگی کے باوجود دونوں ممالک کے درمیان سفارتی رابطے مکمل طور پر منقطع نہیں ہوئے۔ امریکی حکام کے مطابق واشنگٹن نے جمعرات کو ایران پر حملہ کرنے سے گریز کیا، جبکہ پاکستان، قطر اور دیگر علاقائی ثالث دونوں ممالک کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے سرگرم ہیں۔

امریکی خبر رساں ادارے ایکسیوز کے مطابق، اگرچہ گزشتہ ایک ہفتے کے دوران امریکا اور ایران نے ایک دوسرے پر حملے کیے ہیں، تاہم واشنگٹن نے جمعرات کو صورتحال کو مزید بگاڑنے کے بجائے کشیدگی میں کمی کی حکمت عملی اختیار کرلی ہے۔

یہ بھی پڑھیے کیا امریکا اور ایران میں دوبارہ جنگ چھڑنے والی ہے؟ صدر ٹرمپ کا سنسنی خیز بیان سامنے آگیا

امریکی حکام نے بتایا کہ ٹرمپ انتظامیہ اب بھی ایران کے ساتھ تنازع کا سفارتی حل تلاش کرنے کے لیے پُرعزم ہے اور ممکنہ جوہری معاہدے تک پہنچنے کے لیے تکنیکی سطح پر بات چیت جاری ہے۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان،  قطر اور دیگر علاقائی ثالثوں نے بدھ کے روز ایران اور امریکا کے درمیان متعدد ٹیلی فونک رابطے کیے تاکہ دونوں ممالک کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لایا جا سکے۔

ثالثی کے عمل سے وابستہ ایک علاقائی ذریعے نے ایکسیوز کو بتایا کہ اس وقت وسیع سفارتی کوششیں جاری ہیں، جن کا مقصد پہلے دونوں فریقوں کو کشیدگی میں کمی پر آمادہ کرنا اور پھر تکنیکی مذاکرات کے اگلے دور کی تاریخ طے کرنا ہے۔

یہ بھی پڑھیے امریکا اور ایران پھر آمنے سامنے، جنگ کے سائے میں بھی مذاکرات کا دروازہ بند نہیں

ادھر وائٹ ہاؤس سے رپورٹنگ کرتے ہوئے ’الجزیرہ‘ کی نامہ نگار کمبرلی ہالکیٹ نے بتایا ہے  کہ امریکی حکام اب بھی ایران کے ساتھ تکنیکی مذاکرات جاری رکھنے کے لیے پُرعزم ہیں۔

امریکی حکام کے مطابق اگرچہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کے روز انقرہ میں یہ تاثر دیا تھا کہ مفاہمتی عمل ختم ہو چکا ہے، تاہم عملی طور پر امریکا سفارتی راستہ ترک نہیں کر رہا۔

حکام کا کہنا ہے کہ واشنگٹن کی خواہش ہے کہ نہ صرف موجودہ تنازع کا خاتمہ ہو بلکہ ایران کے جوہری پروگرام کو محدود کیا جائے اور آبنائے ہرمز میں بین الاقوامی جہاز رانی کی آزادی بھی یقینی بنائی جائے۔

امریکی ذرائع کے مطابق انہی مقاصد کے حصول کے لیے دونوں ممالک کے درمیان تکنیکی سطح پر بات چیت جاری ہے اور اس عمل کو آگے بڑھانے کا عزم برقرار ہے۔

تازہ حملوں میں امریکا ملوث نہیں، امریکی عہدیدار

دوسری جانب ایران کے جنوبی علاقوں میں جمعرات کو ایک بار پھر متعدد مقامات پر فضائی حملے کیے گئے۔ ایرانی حکام اور سرکاری میڈیا کے مطابق ان حملوں میں جنوبی ایران میں واقع بوشہر کے جوہری مرکز کے قریب کے علاقے بھی نشانہ بنے۔

تاہم ایک امریکی عہدیدار نے ’الجزیرہ‘ کو بتایا کہ ان تازہ حملوں میں امریکی فوج ملوث نہیں تھی۔ عہدیدار نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ گزشتہ 3 روز کے دوران فوجی کشیدگی میں اضافے کے باوجود تہران کے ساتھ تکنیکی مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے۔

ادھر ایران کے شہر مشہد میں جمعرات کو جنگ کے پہلے روز 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کے مشترکہ حملے میں ہلاک ہونے والے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی تدفین کے موقع پر بڑی تعداد میں سوگواروں نے شرکت کی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ہاکی ورلڈ کپ: 4 مرتبہ کا عالمی چیمپیئن پاکستان جنوبی افریقہ کو ہرا کر 11ویں پوزیشن لینے میں کامیاب

’آج اقتدار نہیں بلکہ ذمہ داری منتقل ہونے جارہی ہے‘، فیصل ممتاز راٹھور کا بطور وزیراعظم آزاد کشمیر آخری خطاب

دنیا کے کم عمر ترین بادشاہ اویو انتقال کرگئے

بھارت جان لے، پانی ہماری ریڈ لائن ہے، 25 کروڑ پاکستانیوں کی آبی بقا پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے، اسحاق ڈار

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی، پیٹرول 58پیسے، ڈیزل 17پیسے سستا

ویڈیو

میر رضا قتل کیس: جوڈیشل کمیشن کا پہلا اجلاس، مظاہرین پر ایف آئی آر کا تذکرہ

سانحہ پمز، ملزمان سامنے آئے نہ کوئی گرفتاری ہوسکی، سسٹم ٹھیک ہوگا؟ عمران خان کے بیٹوں کا انٹرویو

آزاد کشمیر کے نومنتخب وزیراعظم بیرسٹر افتخار گیلانی کون ہیں؟ کیریئر پر ایک نظر

کالم / تجزیہ

کیا امریکا ہر جنگ جیت سکتا ہے؟

جب فیصلے خوف کے تابع ہوجائیں

عام آدمی کے بیٹوں کا نوحہ