’آج اقتدار نہیں بلکہ ذمہ داری منتقل ہونے جارہی ہے‘، فیصل ممتاز راٹھور کا بطور وزیراعظم آزاد کشمیر آخری خطاب

جمعہ 28 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی میں بطور وزیراعظم اپنے آخری خطاب میں فیصل ممتاز راٹھور نے نومنتخب قائد ایوان افتخار گیلانی کو مبارک باد دی اور کہا کہ آج اقتدار نہیں بلکہ ذمہ داری منتقل ہونے جا رہی ہے۔

فیصل ممتاز راٹھور نے کہا کہ وہ پاکستان سے تشریف لانے والے مہمانوں کو بھی خوش آمدید کہتے ہیں۔ انہوں نے نومنتخب قائد ایوان افتخار گیلانی کو مبارک باد دیتے ہوئے کہا کہ یہ ان کے لیے آغاز بھی ہے اور آزمائش بھی۔

یہ بھی پڑھیں: آزاد کشمیر کے نو منتخب وزیراعظم افتخار گیلانی نے عہدے کا حلف اٹھا لیا

انہوں نے کہا کہ ان کے اور افتخار گیلانی کے خاندان کے درمیان آج کا نہیں بلکہ کئی دہائیوں پر محیط تعلق ہے۔ ان کے والد مرحوم اور افتخار گیلانی کے والد مرحوم صرف دوست نہیں بلکہ سگے بھائیوں کی طرح تھے۔ سیاسی، نظریاتی اور جماعتی وابستگیاں الگ ہونے کے باوجود دونوں خاندانوں میں رواداری، اخلاقی اقدار اور دوستی کا گہرا تعلق رہا ہے۔

فیصل ممتاز راٹھور نے کہا کہ مسلم لیگ ن کی جانب سے حکومت بنانے کا فیصلہ ریاست کے لیے بہتر ثابت ہوگا اور وہ مسلم لیگ ن کو حکومت بنانے پر مبارک باد پیش کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ اقتدار کی منتقلی نہیں بلکہ ذمہ داری کی منتقلی ہے۔ جب پاکستان پیپلز پارٹی کو حکومت ملی تو وہ اس اسمبلی کی مدت میں ریاست کے چوتھے وزیراعظم تھے۔ ان سے پہلے تین وزرائے اعظم عدم اعتماد اور دیگر فیصلوں کے نتیجے میں عہدوں سے الگ ہوئے۔

فیصل ممتاز راٹھور نے کہا کہ اس وقت یہ بحث بھی ہوئی تھی کہ فوری انتخابات کروا دیے جائیں، تاہم قیادت کی جانب سے حکومت بنانے کا فیصلہ کیا گیا تاکہ صورتحال کو معمول پر لایا جاسکے۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت پورا نظام بیٹھ چکا تھا، بیوروکریسی نے کام چھوڑ دیا تھا، پولیس ہڑتال پر تھی، پیرا میڈکس اور ڈاکٹرز احتجاج کر رہے تھے، ریاست میں بے چینی اور افراتفری تھی، سرکاری گاڑی چلانا مشکل ہوگیا تھا، سیاسی سرگرمیاں ختم اور سیاسی نظام مفلوج ہوچکا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم شہباز شریف اور وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی افتخار گیلانی کو آزاد کشمیر کا وزیراعظم منتخب ہونے پر مبارکباد

انہوں نے کہا کہ ایسے حالات میں ذمہ داری قبول کرنا مشکل تھا، تاہم انہوں نے ریاست میں نکل کر پاکستان کا نعرہ لگایا اور بمبر سے تاوبٹ تک سفر کیا اور ریاست کی بات کی۔

فیصل ممتاز راٹھور نے کہا کہ جب حکومت پانچ سال کے لیے بنتی ہے تو سوچ مختلف ہوتی ہے، لیکن وہ صرف چھ ماہ کے لیے آئے تھے۔ چھ ماہ کسی حکومت کی حکومت نہیں ہوتی بلکہ حکومت کا آغاز یا اختتام ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب 2021ء کی حکومت بنی تو وہ اور کرنل وقار کابینہ میں شامل تھے، جبکہ کابینہ اور قلمدانوں کی تقسیم میں بھی کئی ماہ لگ گئے۔

ان کا کہنا تھا کہ جب ریاست مکمل طور پر مفلوج ہوچکی تھی، احتجاج اور ہڑتالیں عروج پر تھیں اور راولاکوٹ کے اندر تمام سیاسی جماعتیں بھی 500 سے زیادہ افراد جمع نہیں کرسکی تھیں، اس وقت انہوں نے ریاست کے بیانیے کو لے کر اپنا سفر شروع کیا۔

فیصل ممتاز راٹھور نے کہا کہ آج ذمہ داری سونپ کر جاتے ہوئے ان کا دل خوش ہے اور ان کے اندر کوئی مایوسی نہیں، کیونکہ وہ اعتماد بحال کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایک عام آدمی کا اس نظام میں یہ سفر آسان نہیں تھا۔ الیکشن شیڈول آنے سے ایک دن پہلے تک وہ ریاست کے مقبول ترین افراد میں شامل تھے، جبکہ دو دن بعد انہیں قاتل وزیراعظم کہا گیا۔

یہ بھی پڑھیں:آزاد کشمیر کے نومنتخب وزیراعظم بیرسٹر افتخار گیلانی کون ہیں؟ کیریئر پر ایک نظر

فیصل ممتاز راٹھور نے کہا کہ ان کی نیت انہیں اس بات کا احساس دلاتی ہے کہ وہ کہاں غلط تھے اور کہاں درست۔ ان کا ایمان ہے کہ ضمیر اس وقت بوجھل ہوتا ہے جب انسان قصوروار ہو۔ اگر ضمیر مطمئن ہو تو دنیا کسی کو غلط کہے، اسے سکون کی نیند آتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ انہوں نے آخری دم تک انسانی جانیں بچانے اور ریاست میں امن بحال کرنے کے لیے اپنی استطاعت سے بڑھ کر کوشش کی۔ ان کے بقول سیاسی جماعتیں سیٹوں، انتخابات اور سیاست کی بات کر رہی تھیں، لیکن وہ اس بات پر قائم رہے کہ سب سے قیمتی چیز انسانی جان ہے۔

فیصل ممتاز راٹھور نے کہا کہ سو سے زائد افراد اس دنیا سے جاچکے ہیں، چاہے وہ عام شہری ہوں یا سیکیورٹی فورسز کے اہلکار، سب ہمارے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ سات ماہ کے دوران انہوں نے اپنی جماعت اور اپنے دائرہ کار سے باہر جاکر بھی ریاستی مدبرانہ طرزِ عمل اختیار کرنے کی کوشش کی۔ ان کے مطابق ایسے کئی مواقع تھے جہاں بیانیے کی سیاست کی جاسکتی تھی، تاہم انہوں نے سیاست سے زیادہ ریاست کو اہمیت دی۔

انہوں نے کہا کہ ان کی جماعت کا واضح مؤقف تھا کہ مخصوص نشستوں کو متناسب نمائندگی کے ذریعے لایا جائے، اسمبلی کے اندر اس حوالے سے قانون لایا جائے اور اسے ناکام بنا کر مضبوط بیانیہ بنایا جاسکتا تھا، لیکن انہوں نے ریاست کے مفاد کو ترجیح دی۔

فیصل ممتاز راٹھور نے کہا کہ جب ایکشن کمیٹی کو کالعدم قرار دیا گیا تو اس فیصلے کو قبول کرنا سب کے لیے مشکل تھا، تاہم انہوں نے ریاستی ذمہ داری سمجھتے ہوئے فیصلہ قبول کیا۔

یہ بھی پڑھیں: آزاد کشمیر میں ترقی اور خوشحالی کے نئے دور کا آغاز ہوگا، بیرسٹر افتخار گیلانی

انہوں نے کہا کہ ریاست کی تعمیر و ترقی اسمبلی اور سیکریٹریٹ کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ روایتی سیاست کے ذریعے مسائل حل نہیں ہوسکتے اور اگر ایوان کے اندر سیاسی جماعتیں مسائل پر بات کریں گی تو سڑکوں پر احتجاج کی ضرورت کم ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ احتجاج اور عوامی مسائل پر بات کرنا سیاسی جماعتوں کا حق ہے، تاہم ریاست کے معاملات کا حل ریاست کے اندر ہی نکالا جانا چاہیے۔

فیصل ممتاز راٹھور نے کہا کہ ان کی حکومت کے پاس صرف 6 ماہ تھے، جبکہ عوامی اعتماد بھی کم تھا اور بیوروکریسی و پولیس مایوسی کا شکار تھیں۔ انہوں نے کہا کہ اسی مایوسی کو دور کرنے کے لیے حکومت نے ہر موقع پر کوشش کی۔

انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں جمہوری حکومتوں کو اپنی پالیسیوں پر عمل درآمد کے لیے کئی سال درکار ہوتے ہیں، 5 ماہ یا 6 ماہ کی حکومت سے بڑی پالیسیوں پر عمل درآمد کی توقع مشکل ہوتی ہے، تاہم اس مختصر عرصے میں بھی حکومت نے نوجوانوں، روزگار، بیرون ملک مقیم کشمیریوں اور دیگر اہم معاملات پر کام کرنے کی کوشش کی۔

فیصل ممتاز راٹھور نے کہا کہ مشکلات اور اختلافات کے باوجود ان کا یقین ہے کہ اسی نظام میں بہتری لائی جاسکتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp