سعودی محققین کی بڑی کامیابی، پاس ورڈ کے بغیر ڈیوائسز کی شناخت کرنے والی جدید ٹیکنالوجی تیار

جمعہ 10 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سعودی عرب کی کنگ عبداللہ یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے محققین نے ایک ایسی جدید ٹیکنالوجی تیار کر لی ہے، جس کے ذریعے ڈیجیٹل ڈیوائسز اپنی منفرد جسمانی خصوصیات کی بنیاد پر خود اپنی شناخت ثابت کر سکیں گی۔ ماہرین کے مطابق یہ ٹیکنالوجی مستقبل میں روایتی پاس ورڈز اور سیکیورٹی کیز کا محفوظ اور تیز رفتار متبادل ثابت ہو سکتی ہے۔

سعود پریس ایجنسی کے مطابق سعودی عرب کی کنگ عبداللہ یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے سائنس دانوں نے ڈیجیٹل سیکیورٹی کے شعبے میں ایک اہم پیشرفت کرتے ہوئے ایسی جدید ٹیکنالوجی تیار کی ہے، جس سے کمپیوٹر، سرورز اور دیگر منسلک ڈیوائسز اپنی منفرد جسمانی خصوصیات کے ذریعے خود اپنی شناخت کی تصدیق کر سکیں گی۔

یہ بھی پڑھیں:جدہ میں مجوزہ کرکٹ اسٹیڈیم کا دورہ، سعودی عرب جلد بین الاقوامی کرکٹ کی میزبانی کرے گا، محسن نقوی

یونیورسٹی کی جانب سے جاری بیان کے مطابق اس تحقیق کے نتائج معروف سائنسی جریدے ’نیچر الیکٹرانکس‘ میں شائع ہوئے ہیں۔ اس نئی ٹیکنالوجی کا مقصد کلاؤڈ کمپیوٹنگ، مصنوعی ذہانت اور باہم منسلک ڈیجیٹل نیٹ ورکس میں سیکیورٹی کو مزید مضبوط بنانا ہے، جہاں ہر ڈیوائس کی اصل شناخت کی تصدیق انتہائی اہم ہوتی جا رہی ہے۔

تحقیقی ٹیم نے اس مقصد کے لیے نہایت چھوٹے لیزر آلات استعمال کیے، جو ہر ڈیوائس کے لیے ایک منفرد نوری پیٹرن یا ’ڈیجیٹل فنگر پرنٹ‘ تیار کرتے ہیں۔ جس طرح 2 انسانوں کے فنگر پرنٹس ایک جیسے نہیں ہوتے، اسی طرح ہر لیزر کا روشنی کا نمونہ بھی منفرد ہوتا ہے، جسے شناخت کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

محققین نے اس نظام کو مصنوعی ذہانت سے بھی جوڑا، جس کی مدد سے یہ منفرد فنگر پرنٹس انتہائی کم وقت میں پہچانے اور تصدیق کیے جا سکتے ہیں۔

تحقیق کی سربراہ اسسٹنٹ پروفیسر یاتنگ وان نے کہا کہ آج ہر منسلک ڈیوائس کی شناخت عام طور پر پاس ورڈ یا سیکیورٹی کیز پر منحصر ہوتی ہے، تاہم ان کی تحقیق اس تصور کو فروغ دیتی ہے کہ ڈیوائس اپنی اندرونی جسمانی خصوصیات کے ذریعے خود کو محفوظ انداز میں شناخت کروا سکے۔

یونیورسٹی کے مطابق یہ ٹیکنالوجی مستقبل میں ایسے بڑے ڈیجیٹل نیٹ ورکس میں استعمال کی جا سکتی ہے جہاں لاکھوں سرورز، سینسرز اور دیگر ڈیوائسز کو محفوظ انداز میں ایک دوسرے سے رابطہ کرنا ہوتا ہے۔ ان میں کلاؤڈ کمپیوٹنگ، مصنوعی ذہانت کا بنیادی ڈھانچہ، صنعتی نظام اور روزمرہ استعمال کی اسمارٹ ڈیوائسز شامل ہیں۔

لیبارٹری تجربات میں یہ نظام نہایت تیز رفتاری سے شناخت کی تصدیق کرنے میں کامیاب رہا، جبکہ اس نے انتہائی کم توانائی استعمال کی، جو اسے مستقبل کے جدید کمپیوٹنگ سسٹمز کے لیے ایک مؤثر اور قابل اعتماد حل بناتی ہے۔

تحقیقی ٹیم اس ٹیکنالوجی کو مستقبل کے کمپیوٹنگ اور مواصلاتی نظام میں شامل کرنے کے طریقوں پر مزید تحقیق کر رہی ہے تاکہ زیادہ محفوظ، قابل اعتماد اور جدید ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کی بنیاد رکھی جا سکے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

امریکا اور ایران میں نئی کشیدگی، برینٹ خام تیل 80 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گیا

افغانستان: خواتین پر کریک ڈاؤن، سرکاری لباس ضابطے کی خلاف ورزی کے الزام میں درجنوں گرفتار

بلوچستان میں ڈیجیٹل گورننس کا فروغ، ای ڈومیسائل نظام کا آغاز

پاکستان کی آئی ٹی برآمدات نے نئی تاریخ رقم کر دی، پہلی بار 4.5 ارب ڈالر کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں

’تحفظ کی قیمت وصول کریں گے‘ ٹرمپ کا سعودی عرب، یو اے ای، قطر اور بحرین سے ایران جنگ کے اخراجات کا مطالبہ

ویڈیو

خوبصورت پنجاب: گوجرانوالہ کے ایمن آباد بازار کی اپ گریڈیشن مکمل

ممنون حسین نے دور صدارت میں اردو، سی پیک کے قومی بیانیے اور کفایت شعاری کو فروغ دیا، ڈاکٹر فاروق عادل

وی ایکسکلوسیو: ایران امریکا جنگ بندی میں پاکستان اور قطر کی ثالثی اب بھی کلیدی حیثیت رکھتی ہے، اعزاز چوہدری

کالم / تجزیہ

بلوچستان: پری ٹیررازم ، ٹیررازم اور پوسٹ ٹیررازم

برداشت کی بھی حد ہوتی ہے

میسی کے گول سے 45 برس بعد کھلنے والا سفارتخانہ