سندھ حکومت نے کراچی کے ایک نجی تعلیمی ادارے کو موسمِ گرما کی تعطیلات کے دوران کیے گئے فیسوں میں غیرقانونی اضافے کو فوری طور پر واپس لینے، طلبہ سے وصول کی گئی اضافی رقم والدین کو لوٹانے اور آئندہ صرف منظور شدہ فیس وصول کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔
غیرقانونی فیسوں میں اضافے پر محکمہ تعلیم کا نوٹس
محکمہ اسکول ایجوکیشن اینڈ لٹریسی سندھ کے ماتحت ڈائریکٹوریٹ آف انسپیکشن اینڈ رجسٹریشن آف پرائیویٹ انسٹی ٹیوشنز نے 10 جولائی کو ویریٹاس لرننگ سرکل (پرائمری) کی پرنسپل اور منتظم کے نام جاری کیے گئے۔
یہ بھی پڑھیں:کراچی کے نجی اسکولز جون، جولائی کی فیسیں کب لیں گے؟
مراسلے میں کہا کہ والدین کی شکایات پر 9 جولائی کو ہونے والی سماعت میں یہ ثابت ہوا کہ اسکول نے رجسٹریشن اتھارٹی کی منظوری کے بغیر تمام کیمپسز میں ٹیوشن فیس میں اضافہ کیا، جو سندھ پرائیویٹ ایجوکیشنل انسٹی ٹیوشنز (ریگولیشن اینڈ کنٹرول) رولز 2005 کے رول 7(6) کی خلاف ورزی ہے۔
زائد وصول کی گئی فیس 15 روز میں واپس کرنے کی ہدایت
ڈائریکٹوریٹ نے اسکول کو فوری طور پر غیر منظور شدہ یا اضافی فیس وصول کرنا بند کرنے اور طلبہ سے غیرقانونی طور پر وصول کی گئی تمام اضافی رقم واپس کرنے کا حکم دیا ہے۔
اسکول کو ہدایت کی گئی ہے کہ 15 روز کے اندر رقم کی واپسی کے دستاویزی ثبوت کے ساتھ عمل درآمد رپورٹ بھی ڈائریکٹوریٹ میں جمع کرائی جائے، جبکہ آئندہ صرف وہی فیس وصول کی جائے جو رجسٹریشن اتھارٹی سے منظور شدہ ہو۔
مراسلے میں خبردار کیا گیا ہے کہ ہدایات پر عمل نہ کرنے کی صورت میں متعلقہ قوانین کے تحت کارروائی کی جائے گی۔
اسکول نے ازخود فیسوں میں اضافہ کیا، حکام
ڈائریکٹوریٹ آف پرائیویٹ اسکولز کی ایڈیشنل ڈائریکٹر رجسٹریشن رافعہ ملاح نے بتایا کہ نجی اسکول عام طور پر رجسٹریشن کی تجدید کے وقت 5 فیصد فیس اضافے کی منظوری کے لیے درخواست دیتے ہیں۔
مزید پڑھیں:ہائی اسکول تعلیم کے لیے دنیا کا مہنگا ترین ملک کونسا ہے؟
انہوں نے کہا کہ ویریٹاس لرننگ سرکل نے نہ تو 5 فیصد اضافے کی منظوری کے لیے درخواست دی تھی اور نہ ہی اس سال اس کی رجسٹریشن کی تجدید ہونا تھی، تاہم اسکول نے اچانک اپنی مرضی سے فیسوں میں اضافہ کر دیا۔
والدین کی شکایات پر کمیٹی قائم کی گئی
رافعہ ملاح کے مطابق والدین کی شکایات موصول ہونے پر ایک کمیٹی تشکیل دی گئی۔ چونکہ اسکول گرمیوں کی تعطیلات کے باعث بند تھا، اس لیے انتظامیہ کو 9 جولائی کو طلب کرکے سماعت کی گئی۔
انہوں نے بتایا کہ سماعت کے دوران یہ ثابت ہوا کہ اسکول نے ازخود فیس بڑھانے کا فیصلہ کیا، جس پر اسے واضح ہدایت جاری کی گئی کہ ڈائریکٹوریٹ کی منظور شدہ فیس سے ایک روپیہ بھی زیادہ وصول نہ کیا جائے۔
تمام نجی اسکولوں کو بھی وارننگ جاری
رافعہ ملاح نے بتایا کہ تمام نجی اسکولوں کو ایک سرکلر اور پریس ریلیز بھی جاری کی گئی ہے، جس میں واضح کیا گیا ہے کہ اگر کسی اسکول نے غیر منظور شدہ فیس یا اضافی رقم وصول کی تو اس کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ والدین کو ایک فارم بھی فراہم کیا جائے گا جس میں واضح ہوگا کہ وہ منظور شدہ فیس سے زیادہ کوئی رقم ادا کرنے کے پابند نہیں ہیں۔
خفیہ چارجز وصول کرنے پر بھی پابندی
سرکلر میں کہا گیا ہے کہ محکمہ کو بعض نجی اسکولوں کی جانب سے اضافی ٹیوشن فیس اور مختلف عنوانات کے تحت خفیہ چارجز وصول کرنے کی شکایات موصول ہوئی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:خیبرپختونخوا حکومت نے ایک سالہ کارکردگی رپورٹ جاری کردی
اسکول انتظامیہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ منظور شدہ فیس کے علاوہ کسی بھی قسم کی اضافی یا پوشیدہ فیس وصول نہ کی جائے، جبکہ منظور شدہ فیس کی تفصیلات اسکول کے نوٹس بورڈ اور استقبالیہ پر نمایاں طور پر آویزاں کی جائیں۔
خلاف ورزی پر پانچ لاکھ روپے تک جرمانہ، رجسٹریشن بھی معطل ہو سکتی ہے
سرکلر میں واضح کیا گیا ہے کہ رجسٹریشن اتھارٹی کی منظوری کے بغیر ٹیوشن فیس کے علاوہ کسی بھی قسم کی فیس وصول کرنا رول 7(4) کی خلاف ورزی ہے، جبکہ رول 7(6) کی خلاف ورزی پر سندھ پرائیویٹ ایجوکیشنل انسٹی ٹیوشنز (ریگولیشن اینڈ کنٹرول) آرڈیننس 2001 کے سیکشن 11 کے تحت پانچ لاکھ روپے تک جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے۔
محکمہ نے خبردار کیا ہے کہ خلاف ورزی ثابت ہونے کی صورت میں آرڈیننس کے سیکشن 8 کے تحت اسکول کی رجسٹریشن معطل یا منسوخ کرنے سمیت سخت قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جا سکتی ہے۔














