ایل نینو اور موسمیاتی تبدیلی پاکستان میں شدید گرمی اور مون سون کے خطرات کو کیسے بڑھا رہے ہیں؟

ہفتہ 11 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے ورلڈ میٹرولوجیکل آرگنائزیشن نے خبردار کیا ہے کہ دنیا کے مختلف خطوں میں شدید گرمی کی لہریں اور غیر معمولی موسمی حالات آنے والے دنوں میں بھی برقرار رہ سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ’ایل نینو‘ شدت کے تمام ریکارڈ توڑ سکتا ہے، دنیا کو شدید موسمی آفات کا خدشہ

 ماہرین کے مطابق موسمیاتی تبدیلی کے ساتھ بعض علاقوں میں ایل نینو کے اثرات بھی عالمی درجہ حرارت میں اضافے اور موسم کے غیر متوقع رویوں کو مزید پیچیدہ بنا رہے ہیں۔

پاکستان بھی ان ممالک میں شامل ہے جہاں حالیہ دنوں میں درجہ حرارت معمول سے زیادہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق ملک کے بیشتر میدانی علاقوں میں شدید گرمی اور لو کی صورتحال برقرار ہے، جبکہ بعض شہروں میں درجہ حرارت 44 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ چکا ہے۔

غیر معمولی گرمی کا اثر صرف میدانی علاقوں تک محدود نہیں رہا۔ سوات، دیر، چترال اور گلگت بلتستان جیسے پہاڑی علاقوں میں بھی درجہ حرارت معمول سے زیادہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے جس کے باعث گلیشیئرز کے پگھلنے کی رفتار میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

ماہرین کے مطابق ال نینو ایک قدرتی موسمیاتی رجحان ہے جس میں استوائی بحرالکاہل کے وسطی اور مشرقی حصوں کا سمندری پانی معمول سے زیادہ گرم ہو جاتا ہے۔ اس کے نتیجے میں دنیا کے مختلف خطوں میں بارشوں، درجہ حرارت اور ہوا کے دباؤ کے نظام میں تبدیلیاں رونما ہو سکتی ہیں۔ تاہم سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ موجودہ شدید گرمی کی بنیادی وجہ طویل المدتی موسمیاتی تبدیلی ہے جبکہ ال نینو بعض علاقوں میں اس کے اثرات کو مزید بڑھا سکتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ جب ال نینو اور انسانی سرگرمیوں سے پیدا ہونے والی گلوبل وارمنگ کے اثرات ایک ساتھ سامنے آتے ہیں تو بعض خطوں میں ہیٹ ویوز زیادہ شدید اور طویل ہو سکتی ہیں۔

مزید پڑھیے: شدید گرمی اور خشک موسم سے ایشیا کی فصلیں متاثر، طاقتور ’ایل نینو‘ کے خدشات بڑھ گئے

پاکستان کے آئندہ مون سون سیزن پر بھی ایل نینو کے ممکنہ اثرات کے حوالے سے خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔ محکمہ موسمیات کے مطابق اگر ال نینو کے اثرات برقرار رہے تو ملک کے بعض حصوں، خصوصاً پنجاب، سندھ اور بلوچستان میں مون سون کی بارشیں معمول سے کم رہ سکتی ہیں، اگرچہ حتمی صورتحال موسمی نظام کی آئندہ پیش رفت پر منحصر ہوگی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ بارشوں میں کمی کی صورت میں خریف کی فصلوں، آبی ذخائر اور زرعی پیداوار پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ دوسری جانب موسمیاتی تبدیلی کے باعث یہ امکان بھی موجود رہتا ہے کہ بعض علاقوں میں مختصر وقت کے دوران انتہائی شدید بارش یا کلاؤڈ برسٹ جیسے واقعات پیش آئیں جو فلیش فلڈنگ کا سبب بن سکتے ہیں۔

موسمیاتی ماہر ڈاکٹر بشیر کے مطابق ایل نینو پاکستان کے آبی اور زرعی نظام پر دباؤ بڑھا سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ رجحان بحرِ ہند سے آنے والی مون سون ہواؤں کے نظام کو متاثر کر سکتا ہے، جس سے بعض علاقوں میں بارشوں میں کمی کا امکان پیدا ہوتا ہے۔ ان کے بقول اگر بارشیں معمول سے کم رہیں تو کپاس اور چاول سمیت اہم فصلیں متاثر ہو سکتی ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایل نینو کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ یہ بعض اوقات مجموعی طور پر خشک حالات پیدا کرتا ہے لیکن مقامی سطح پر انتہائی شدید بارشوں اور موسمی انتہا پسندی کے امکانات بھی بڑھا دیتا ہے۔ ان کے مطابق بالائی علاقوں میں درجہ حرارت میں مسلسل اضافہ گلیشیئرز کے پگھلاؤ کو تیز کر سکتا ہے جس سے دریاؤں میں پانی کے بہاؤ اور فلیش فلڈنگ کے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔

مزید پڑھیں: مشرق وسطیٰ کشیدگی اور موسمیاتی تبدیلی ‘ایل نینو’ کے اثرات، چاول کی عالمی سپلائی شدید خطرات سے دوچار

کلائمیٹ گورننس کے ماہر علی توقیر شیخ کا کہنا ہے کہ شدید گرمی محض ایک موسمی مسئلہ نہیں بلکہ معاشی اور سماجی چیلنج بھی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس کا سب سے زیادہ اثر دیہاڑی دار مزدوروں، کسانوں اور کھلے آسمان تلے کام کرنے والے افراد پر پڑتا ہے خصوصاً ایسے وقت میں جب بجلی کی فراہمی متاثر ہو یا پانی کی قلت کا سامنا ہو۔

پبلک ہیلتھ کی ماہر ڈاکٹر شاہدہ اکرم کے مطابق مسلسل گرم راتیں انسانی صحت کے لیے ایک بڑا خطرہ بن سکتی ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ شہروں میں کنکریٹ کی عمارتوں اور درختوں کی کمی کے باعث پیدا ہونے والا اربن ہیٹ آئی لینڈ اثر رات کے وقت بھی درجہ حرارت کو بلند رکھتا ہے، جس سے جسم کو قدرتی طور پر ٹھنڈا ہونے کا موقع نہیں ملتا اور ہیٹ اسٹروک سمیت دیگر طبی مسائل کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: موسمیاتی تبدیلی ‘ایل نینو’ کی وسط 2026 میں فعال ہونے کا امکان، اقوامِ متحدہ کا انتباہ

ماہرین شہریوں کو مشورہ دیتے ہیں کہ شدید گرمی کے دوران صبح 11 بجے سے شام 4 بجے تک غیر ضروری طور پر دھوپ میں نکلنے سے گریز کریں، پانی کا زیادہ استعمال کریں، ہلکے رنگ کے کپڑے پہنیں اور بچوں، بزرگوں اور پہلے سے بیمار افراد کا خصوصی خیال رکھیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

شمالی پہاڑی علاقوں میں بارشوں کی پیشگوئی، گلیشیئر پگھلنے اور سیلاب کا خدشہ، متعدد سڑکیں بند

امریکا کی پاکستان میں توانائی، معدنیات اور انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری میں دلچسپی

کوکین کوئین انمول عرف پنکی نے جب جیل میں من پسند لباس پہننے کی خواہش ظاہر کی تو کیا ہوا؟

ہنر مند نوجوان ہی پاکستان کی پائیدار ترقی کی ضمانت ہیں، وزیراعظم شہباز شریف

انتخابات تک آزاد کشمیر میں رہوں گا، احتجاج ختم کرکے مذاکرات کیے جائیں، بلاول بھٹو

ویڈیو

ایم کیو ایم کے دھڑے آمنے سامنے، شہری سندھ کے حقوق کی تحریک یا اقتدار کی نئی جنگ؟

خوبصورت پنجاب: گوجرانوالہ کے ایمن آباد بازار کی اپ گریڈیشن مکمل

ممنون حسین نے دور صدارت میں اردو، سی پیک کے قومی بیانیے اور کفایت شعاری کو فروغ دیا، ڈاکٹر فاروق عادل

کالم / تجزیہ

طوفانی بولنگ اور ماجد خان کی دلیری

پانی کی بڑھتی قلت ایک مربوط منصوبہ بندی کی متقاضی

پاکستان کی اسلامی روح اور خوارج کا جھوٹا پروپیگنڈہ….!!