سعودی عرب نے اپنی روایتی کافی کی عالمی شہرت میں اضافے کے ساتھ اس کی پائیدار پیداوار کو بھی ترجیح دیتے ہوئے عسیر ریجن میں 2028 تک 10 لاکھ نئے کافی کے درخت لگانے کا منصوبہ شروع کر دیا ہے۔ اس منصوبے کا مقصد ماحول کا تحفظ، حیاتیاتی تنوع میں اضافہ، دیہی معیشت کو مضبوط بنانا اور کسانوں کی آمدنی میں اضافہ کرنا ہے۔
عرب نیوز کے مطابق سعودی عرب کا جنوبی پہاڑی علاقہ عسیر روایتی سعودی کافی کی پیداوار کا اہم مرکز بن چکا ہے، جہاں حکومت کافی کی صنعت کو ماحول دوست بنیادوں پر فروغ دے رہی ہے۔ حکام نے 2026 سے 2028 کے دوران عسیر میں 10 لاکھ نئے کافی کے درخت لگانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ اس سے قبل 2022 سے 2025 کے درمیان 6 لاکھ 34 ہزار سے زائد درخت لگائے جا چکے ہیں۔

ماہرین کے مطابق عسیر کا منفرد جغرافیہ، بلند پہاڑ، موسمی بارشیں، مسلسل دھند اور زرخیز مٹی یہاں کی کافی کو منفرد ذائقہ عطا کرتے ہیں، جس کی وجہ سے سعودی کافی عالمی مارکیٹ میں اپنی شناخت بنا رہی ہے۔ اس وقت عسیر میں سالانہ تقریباً 1,500 ٹن کافی چیری اور 500 ٹن گرین کافی بینز پیدا کیے جاتے ہیں۔
عسیر ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ماحولیاتی مطالعات کے سربراہ فواز الشہرانی نے بتایا کہ اس منصوبے میں سرکاری ادارے، تحقیقی مراکز، کسانوں کی تنظیمیں اور دیگر شراکت دار مل کر کام کر رہے ہیں۔ کسانوں کو جدید زرعی طریقوں، بہتر کٹائی، پروسیسنگ اور مارکیٹنگ کی تربیت دی جا رہی ہے تاکہ کافی کے معیار کو برقرار رکھا جا سکے اور انہیں نئی منڈیاں بھی میسر آئیں۔
یہ بھی پڑھیں:سعودی عرب میں طبی ماہرین کا بڑا کارنامہ، فلپائنی جڑواں بچیوں کی کامیاب علیحدگی
کنگ عبدالعزیز یونیورسٹی کے کنگ فہد میڈیکل ریسرچ سینٹر سے وابستہ محققہ عائشہ الغامدی نے کہا کہ مقامی نسل کے کافی کے پودوں کا تحفظ، متوازن آبپاشی، نامیاتی کھادوں کا استعمال اور صرف پکی ہوئی کافی چیری کی برداشت اعلیٰ معیار کی پیداوار کے لیے ضروری ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بارش کے پانی کو محفوظ کرنے، ڈرِپ اریگیشن کو فروغ دینے، پہاڑی سیڑھی نما کھیتوں کی بحالی اور کیمیائی ادویات کے کم استعمال سے نہ صرف پانی کی بچت ہوگی بلکہ مٹی کی زرخیزی بھی برقرار رہے گی۔

رپورٹ کے مطابق کافی کے باغات صحرائی پھیلاؤ کو روکنے، کاربن کے اخراج میں کمی، فضائی آلودگی کم کرنے اور جنگلی حیات، پرندوں اور شہد کی مکھیوں کے لیے قدرتی مسکن فراہم کرنے میں بھی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ عسیر کو زرعی اور دیہی سیاحت کا اہم مرکز بنانے کے ساتھ ساتھ مقامی آبادی کے لیے روزگار اور معاشی ترقی کے نئے مواقع بھی پیدا کرے گا۔














