امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران نے مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے، تاہم گزشتہ ماہ ہونے والی جنگ بندی اب ختم ہو چکی ہے۔ دوسری جانب ایران نے مذاکرات کی درخواست دینے کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس نے صرف قطری ثالثوں سے ملاقات پر آمادگی ظاہر کی ہے۔
رائٹرز کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ کشیدگی کے باوجود دونوں ممالک نے مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے، تاہم گزشتہ ماہ طے پانے والی جنگ بندی اب ختم ہو چکی ہے۔
🚨President Trump just posted a major update on Iran after his decision to bomb Iran over them attacking ships again.
The mullahs asked for more talks, and Trump agreed, but he made one thing crystal clear: the ceasefire is OVER.
The message to the world is loud and clear:… pic.twitter.com/aK1k50XkRk
— Commentary Donald J. Trump Posts From Truth Social (@TrumpDailyPosts) July 10, 2026
ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر جاری بیان میں کہا کہ ایران نے امریکا سے مذاکرات جاری رکھنے کی خواہش ظاہر کی، جس پر واشنگٹن نے رضامندی ظاہر کی، لیکن تہران کو واضح کر دیا گیا ہے کہ جنگ بندی اب برقرار نہیں رہی۔
تاہم ایران نے ٹرمپ کے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس نے امریکا سے براہِ راست مذاکرات کی درخواست نہیں کی۔ ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن کے مطابق تہران نے صرف قطری ثالثوں کی میزبانی پر آمادگی ظاہر کی ہے، جو کشیدگی میں کمی اور آبنائے ہرمز کی صورتحال پر بات چیت کے لیے ایران پہنچے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ایک ہفتے کی شدید جھڑپوں کے بعد جمعہ کو خطے میں نسبتاً سکون رہا۔ اس دوران قطر اور سعودی عرب کے تین تجارتی آئل ٹینکروں پر حملوں کے بعد امریکا نے ایران کے مختلف مقامات کو نشانہ بنایا تھا، جبکہ ایران نے جواباً خلیجی ممالک میں امریکی فوجی تنصیبات پر حملے کیے تھے۔
یہ بھی پڑھیں:سعودی ولی عہد اور ٹرمپ کا رابطہ، خلیجی سلامتی اور ایران سے مذاکرات پر تبادلہ خیال
امریکی صدر نے ایک اور بیان میں خبردار کیا کہ اگر ایران نے ان کے قتل کی کوشش کی یا ایسا کوئی منصوبہ بنایا تو امریکا بھرپور فوجی کارروائی کرے گا۔ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکی فوج مکمل طور پر تیار ہے اور ضرورت پڑنے پر ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر حملے کیے جا سکتے ہیں۔
امریکی حکام نے ایران سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں پر حملے روکنے اور عالمی جہاز رانی کے لیے تمام بحری راستے بلا رکاوٹ کھلے رکھنے کا عوامی اعلان کرے۔ آبنائے ہرمز سے جنگ سے قبل دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل کی رسد گزرتی تھی، جبکہ حالیہ کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
🚨President Trump just posted a major update on Iran after his decision to bomb Iran over them attacking ships again.
The mullahs asked for more talks, and Trump agreed, but he made one thing crystal clear: the ceasefire is OVER.
The message to the world is loud and clear:… pic.twitter.com/aK1k50XkRk
— Commentary Donald J. Trump Posts From Truth Social (@TrumpDailyPosts) July 10, 2026
رپورٹ کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی بھی عمان پہنچ گئے ہیں، جہاں آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی محفوظ آمدورفت اور کشیدگی میں کمی سے متعلق امور پر بات چیت کی جا رہی ہے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ حالیہ دنوں میں دونوں ممالک کے درمیان ہونے والے رابطے تعمیری رہے ہیں، تاہم ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا نے اپنے وعدوں کی خلاف ورزی کی تو تہران بھی اس کا متناسب جواب دے گا۔













